فضیلتِ رمضان المبارک

29 مئی 2017

رمضان المبارک قمری اعتبار سے نواں مہینہ ہے۔اللہ رب العزت نے اس ماہ مبارک کی اپنی طرف خصوصی نسبت فرمائی ہے۔نبی کریم رؤف الرحیمؐ کا فرمان مبارک ہے کہ ’’رمضان شہر اللہ‘‘رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اس حدیث قدسی سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس ماہ کا رب العالمین سے خصوصی تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ماہ مبارک دوسرے مہینوں سے الگ ، جدا اور ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات خاصہ کا اس قدر نزول ہوتا ہے جیسے موسلا دھار بارش ،نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان ایسا مہینہ ہے اسکے اؤل حصہ میں حق تعالیٰ کی رحمت برستی ہے جسکی وجہ سے بندہ مومن گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی کثافتوں سے اپنے دامن کو پاک و صاف کر لیتا ہے اور اس ماہ کا درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اور آخری عشرہ یا حصہ میں مومن کو دوزخ کی آگ سے رہائی حاصل ہوتی ہے رسول پاک ؐ کا فرمان عالی شان ہے کہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے شیاطین کے ساتھ سرکش جنوں کو بھی مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں حتیٰ کہ سارے کہ سارے دروازے رمضان المبارک میں بند ہوتے ہیں اور اس کے مقابل میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حکم سے جنت کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ایک فرشتہ بلند آواز پکارتا ہے’’اے نیکی کے طلب گار آگے بڑھ اور نیکی کی برسات سے فائدہ ا ٹھا اور بدی سے رُک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ کیونکہ یہ خوبصورت لمحہ اور وقت گناہوں سے توبہ اور معافی کی خواستگاری کا ہے۔
روزہ وہ عظیم فرض ہے جسکو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب فرمایا ہے اور روز قیامت اللہ تعالیٰ اسکا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دارکو عطاء فرمائیں گے۔حدیث ہے‘‘روزہ میرا ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دوں گا ‘ ایک اور موقع پر نبی کریم ؐ نے روزہ کی اہمیت کے متعلق کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ روزہ رکھنے والا یعنی روزہ دارکے منہ سے آنے والی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے گویا روزہ رکھنے والا یعنی روزہ دار اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہوجاتا ہے کہ اسکے منہ کی بو بھی اللہ تعالیٰ کو پسند اور خوشگوار ہوتی ہے ۔رمضان المبارک کی خاطر سارا سال جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے اور خوشبووں کی مہک سے دھونی دی جاتی ہے حضرت سلمان فارسی ؓ کی روایت کے مطابق شعبان کے خطبے میں حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا رمضان کے مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر رات ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کے دنوں کو روزہ فرض قرار دیا اور شب کو عبادات یعنی قیام کو ثواب بتایا ہے ۔جو شخص اس ماہ مبارک میں نفلی عبادت کرے اُسے فرض عبادات کے عین مطابق ثواب سے نوازا جائے گا۔
ماہ رمضان صبر و شکر کا مہینہ ہے اور صبر و شکر کا بدلہ مومن کو جنت کی صورت میں عطاء کیا جائے گا ۔اس ماہ مبارک میں رزق کی فراخی اور کشادگی کر دی جاتی ہے یہ ماہ مبارک لوگوں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔رمضان المبارک کی سب سے بڑی فضیلت اور برکت یہ ہے کہ اس مہینہ میں قرآن مجید جیسی عظیم کتاب کو حق تعالیٰ نے نازل فرمایا جو ساری دنیا کے انسانوں کے لیے نہصرفخیر و برکت کا موجب ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات اور سر چشمہ رشدو ہدایت بھی ہے ۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس میں عمرہ کی سعادت حاصل کر پاتے ہیں کیونکہ نبی کریم ؐ کا یہ ارشاد پاک کہ اس ماہ مبارک میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کو حج کا ثواب عطاء ہوتا ہے۔
رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ بہت ہی قیمتی ہے اس ماہ کی فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے تمام مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں عبادات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے شب و روز کے اوقات میں اپنے آپ کو اعمال صالح کے ساتھ مزین و معمور رکھنے کی سعی اور کوشش میں مصروف رہنا چاہیے تا کہ اس ماہ مبارک کی ہر گھڑی اور لمحہ ریاضت الہیٰ میں صرف ہو۔اس ماہ مبارک میں اجر و ثواب میں کئی گنا اضافہ ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم صحیح انداز میں اپنے عبادات کو انجام دے کر دنیا و آخرت میں فلاح حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھیں یہ مبارک مہینہ حاصل ہو گا لہذا قرب خداوندی سے سیراب ہونے کا اس سے کوئی اور بہتر موقع ہمیں میسر نہ آسکے گا۔کتنے ہی ایسے لوگ تھے جو پچھلے سال رمضان میں ہمارے ساتھ عبادات میں مصروف تھے روزے رکھتے تھے قیام و سجود سے لطف اندوز ہو رہے تھے مگر آج وہ شہر خموشاں کاحصہ ہیں کیا پتہ؟اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو یا کہ نہیں، لہذا اس سے قبل کی غفلت بھری زندگی پہ ہم جتنے بھی ندامت کے آنسو بہائیں اور استغفراللہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت سے اپنی بخشش کا سامان اس رمضان میں کر لیں اسی میں ہماری نجات ہے۔دنیابھر کے مسلمانوں بالخصوص ہمارے اعزاء واقارب ،اساتذہ اور جتنے بھی جاننے والے آج اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اللہ رب العزت اُن کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں اور اپنی دعاؤں میں اس حقیر عاصی بندہ کو بھی یاد رکھیے گا ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کی عبادات سے سر شار ہونے کی توفیق عطاء فرمائے آمین اگر آپ درود شریف اور سبحان اللہ و بحمدہٖ سبحان اللہ العظیم کو اپنا ورد بنا لیںتو میں سمجھوں گا کہ میرے کالم کے پڑھنے کا آپ نے فائدہ اُٹھا لیا ہے۔