زندگی کے لئے موت ضروری؟

29 مئی 2017

خبر نے چونکا دیا اور خوف زدہ کر دیا،خوف اللہ سبحان تعالیٰ کے قہر کا،کیا ہم مسلمان قوم ہیں؟،کیا پاکستان اسلام پر بننے والا ملک ہے؟،کیا یہاں کا قانون انسانوں کے لئے ہے ؟،اگر ہے تو صرف امیرزادہ کے لئے ہے؟،یاپھر حرام خور وںکے لئے ہے؟۔آج میڈیا آزاد ہے؟،تو اس پر نوٹس لے گا؟،عدلیہ اس پر نوٹس لے گی؟،ایوان بالا اور ایوان زیرں کے اراکین اس پر اپنا کردار ادا کریں گے؟۔خبر یہ تھی کہ ”بیٹے کو نوکری باپ کے مرنے پر ملتی ہے تو چلو مر جاتا ہوں“۔بیٹے کی ملازمت کے لئے درخواست دی تو انکار کر دیا گیا کہ باپ کے دورانِ ملازمت مرنے پر بیٹے کو ملازمت ملے گی۔اس پر وزارت داخلہ کے نائب قاصد نے چھت پر جا کر چھلانگ لگا دی۔متوفیّ محمد اقبال ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہنے والا تھا اور یہاں G-10/1 میں رہائش پذیر تھا۔بیماری کی وجہ سے 4 ماہ چھٹی پر تھا،دفتر اپنے بیٹے کے ہمراہ آیا اور درخواست دی کہ اس کے بیٹے کو اس کی جگہ رکھا جائے،سرکاری مکان رکھنا چاہتا تھا جس کے لئے اپنی جگہ اپنے بیٹے کو نوکری دلانا چاہتا تھا،جو کہ اس کا حق تھا۔پاکستان میں قانون اور ادارے ناجانے کس مقاصد کے لئے بنتے ہیں۔قانون سازی کرنے والے شائد پاکستان کی حقیقی صورت حال سے آگاہ ہی نہیں ہیں،پاکستان میں ماضی کے ایسے طاقتور حکمران تھے جو کہ سیاسی اور فوجی بھی تھے،عوامی طاقت سے آئے اور بندوق کے زور پر بھی آئے۔جنرل ضیاءالحق کے اقدارکوسامنے رکھیں اور فیصل مسجد کے باہر قبر پر جا کر دیکھیں ،انسان کو عبرت حاصل کرنی چاہئے۔برطانیہ کی حالیہ دہشت گردی کے واقعہ پر ایک ”قلم نگار“نے لکھا ہے کہ دھماکے کو وقت وہ مانچسٹر میں تھے،ویکٹوریہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا،تمام ٹرینوں کو بند کر دیا۔وہاں ٹیکسی پر واپس اپنے دوست کے گھر گیا تو ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ دھماکے کے متاثرین سے کرایہ نہیں لے گا۔دوست کے گھر آگیا تو اسکا ہمسایہ آیا اور کہا کہ درد کی دوا دو اس کی بیگم کو کمر کا درد ہے۔میرے دوست نے کہا کہ 999 فون کر کے ایمبولینس بلا لیںتو اس کے برطانوی دوست نے کہا کہ آج ایمبولینس کی ہم سے زیادہ دھماکے کے زخمیوں کو ضرورت ہے۔”قوم“ اگر زندہ ہو تو دہشت گردی سے ختم نہیں ہوتیں۔کیا پاکستان میں ہم ایک”قوم“ ہیں جس میں یہ احساس ہو کہ شہر اقتدار میں انصاف اور اقتدار کا سب بڑا منصف موجود ہے تو ایک”اولاد آدم“ صرف اس لئے موت کا اعلان کر کے خود کشی کرے کہ ”قانون “میں ہے کہ دورانِ ملازمت فوت ہونے والوں کے بچوں کو نوکری ملے گی۔
”کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
سارے شہر نے دَستانے پہن رکھے ہیں“
یہاں تو شائد میرے سمیت سب لوگ زندہ لوگوں کے قبرستان میں رہتے ہیں ،کب تک لوگ زندگی کے لئے خود کشی کریں گے۔سابق امریکی صدر جیمی کارٹر کا بیٹا اپنے عہد کا مشہور فوٹو گرافر تھا۔نت نئے فوٹو بناتا اور اعزازات حاصل کرتا تھا۔ایک دفعہ سوڈان/ افریکہ کے قحط زدہ علاقوں میں گیا جہاں معصوم بچے بھوک اور پیاس سے مرتے اور ان کے جسم گدھ نوچتے اور کھاتے ۔کئی دن ایسے ایک موقعے کی تلاش میں تھا کہ ایسی جان نکلتی بچے کی تصویر حاصل کرے جس کی زندگی کی ڈور ٹوٹتے ہی گدھ اس پر جھپٹ پڑے۔کئی دنوں اور ہفتوں کی کوشش کے بعد اس کے کیمرے نے 10 سالہ بچے کی ایسی فوٹو حاصل کی کہ بچے کی آنکھیں جیسے ہی موت سے بند ہوئیں تو ایک گدھ اس کے مردہ جسم کو نوچنے کو جھپٹ پڑا۔اس کی تصویر نے دنیا میں پہلا انعام حاصل کیا،دنیا کے بڑے میگزینوں میں سرِورق پر تصویر لگی۔جب امریکہ میں اس کو بہترین فوٹو گرافر کا اعزاز ملا تو بیدار اور با شعور قوم میں شدت سے احساس پیدا ہوا کہ سفاک اور ظالم انسان ہے جس نے اپنی غرض اور ضرورت کے لئے ایک انسان کے مرنے کا انتظار کیا۔میڈیا پر شدید تنقید ہوئی،جونیئر کارٹر نے اپنا اعزاز اور انعام کی رقم واپس کی ۔میڈیا کی تنقید بڑھتی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ تو اس گدھ سے بھی سفاک ہے جواپنی بھوک کے لئے انسان کے مرنے کا منتظر تھااور ایک انسان اپنی شہرت کے لئے انسان کے مرنے کا انتظا ر کرتا رہا۔جونیئر کارٹر ڈیپریشن کا شکار ہوا اور آخر کار اس زندہ قوم کے مردہ انسان نے خود کشی کر لی۔قوم زندہ ہو تو مردہ ذہن اور بے ضمیر افراد خود کشی کر لیتے ہیںاور اگر قوم مردہ ہو تو زندہ،باضمیراور غیرت مند لوگ زندہ انسانوں کے قبرستان کے سامنے خود کشی کرتے ہیں۔ہمارے قوانین زندہ انسانوں کے لئے نہیں بلکہ مردہ انسانوں کے لئے ہیں،اس میں کسی اور کو کوئی قصور نہیں ہے اگر کل کسی ”محمد اقبال“ کو بچانا ہے تو غریب انسان اور کلاس 4 کے سرکاری ملازم کے لئے کم از کم اس کی ریٹائرمنٹ پر اس کے بچے یا پھر بچی کو سرکاری نوکری اور مکان دینے کا قانون ضرور بنائیں۔ایک انسان کی ناحق موت سے اگر ہمارے قانون زندہ لوگوں کا قانون بن جائے تو اس کے پسماندگان کو سکون آجائے۔خدا کے لئے آج اگر ایک زندہ قوم ہیں تو اپنا کردار ضرور ادا کریں ،عدالت عالیہ،پارلیمنٹ ،ایون اقتدار اور با اختیار میڈیا اپنا کردار ادا کرکے ایک زندہ قوم ہونے کا عملی مظاہرہ کریں۔ایسے انسان کی بے بسی کا عالم تو شائد پتھر کے دور میں نہ ہوگا جو اس دور میں ہے۔ہلاکو خان اور چنگیز خان کے مظالم پر بھی لوگ خود کشی نہ کرتے ہوں گے جیسے آج ہوتی ہے۔جناب وزیر اعظم محمد نواز شریف خدا کے لئے یہ قانون سازی ضرور کرائیں،کم از کم بجٹ میں ضرور اعلان کریں،سرکاری ملازم ”زندگی کے لئے موت کی تمنا“ نہ کریں۔
”بددعا صرف الفاظ نہیں ہوتے
جس کو دُکھ دو اس کی آہ بھی بد دعا بن جاتی ہے
اور ”رب“ بہت انصاف کرنے والا ہے۔“