پرنس کریم آغا خان کے نام

29 مئی 2017
پرنس کریم آغا خان کے نام

پاکستان کے عوام پر آپ کے احسان ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔ نہایت ادب کے ساتھ گزارش کرنی ہے کہ آغا خان فا¶نڈیشن اور حبیب بنک کی انتظامیہ نے بنک افسران کی پنشن میں انتہائی ناانصافی کی ہے۔ فا¶نڈیشن نے حبیب بنک کے انتظامی اختیارات 2005ءکے بعد حاصل کر لئے تھے۔ اس وقت نج کاری کمیشن نے یہ بات ہمیں باور کرائی تھی کہ جو ملازمین اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوں گے انہیں 1977ءنجکاری ایکٹ کے تحت پنشن اور مراعات حاصل ہوں گی۔ 2014ءمیں بینک انتظامیہ نے ایک مراسلہ جاری کیا جس کے تحت پنشن 2005ءتک شمار کی گئی۔ مثال کے طور پر ایک آفیسر 1980ءمیں بھرتی ہوا اور ریٹائرڈ 2015ءمیں تو کل سروس 35 سال بنتی ہے مگر پنشن اسے 25 سال کی ملے گی۔ اس قانون کے تحت 2005 ءکے بعد جو بھی سروس ہو گی وہ سال شمار نہیں کئے جائیں گے۔ دنیا میں کہیں بھی ایسا مذاق نہیں ہو رہا کہ سروس آپ 40 سال کریں اور پنشن 30 سال کی لیں۔ پنشن کا ریٹ 23% رکھا گیا جو کہ نجکاری ایکٹ کے تحت 70% بنتی ہے۔ اس زیادتی کے بارے میں وفاقی محتسب کے پاس ہم نے ایک درخواست دائر کی۔ وفاقی محتسب نے بھی بینک افسران کے حق میں فیصلہ دیا کہ انہیں انصاف دیا جائے۔ ان کی حق تلفی نہ کی جائے۔ بینک انتظامیہ نے اس فیصلہ کیخلاف صدر پاکستان کو اپل کی جس کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں آیا۔ 2005 ءتک کل ملازمین کی تعداد 14500 تھی۔ 2014 ءمیں بنک نے 48 ارب روپے منافع حاصل کیا تھا۔ 2015ءمیں 60 ارب روپے ‘ 2016 ءمیں 66 ارب روپے بنک نے کما لئے تھے۔ ہم ریٹائرڈ افسران آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ہم نے 40-35 سال بنک کی خدمت کی ہے اس کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔ اسے بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ہمیں پنشن ریٹائرمنٹ تک مکمل سال شمار کر کے دی جائے۔ پنشن پچاس فیصد کے ریٹ سے ادا کی جائے اور سارے بقایا جات ادا کئے جائیں اور جو لوگ یکمشت پنشن لے چکے ہیں انہیں بھی سارے بقایا جات ادا کئے جائیں اور پنشن کی رقم میں ہر سال اضافہ کیا جائے پچھلے 11 سال سے پنشن کی رقم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔
(ظفر اقبال اعوان ۔ پنڈی گھیب۔ 0321-5386934)