حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ (3)

29 مئی 2017

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے حق میں حضور اکرم(ﷺ) کی دعاءاثر پذیر ہوئی، حضرت خباب کا صبر یوں رنگ لایا کہ ان کی مالکہ اُم انمار دردِ سر میں اس طرح مبتلا ہوئی کہ کرب سے بے اختیار چیختی رہتی۔ اسے تجویز کیا گیا کہ جب تک تمہارا سر لوہے سے نہیں داغا جائے گا تمہارے مرض میں افاقہ نہیں ہو گا۔ اُم انمار کو اس علاج پر آمادہ ہونا پڑا، اس نے یہ کام حضرت خباب کہ سپرد کیا کہ وہ گرم لوہے سے اس کا سر داغا کریں، اسے دنیا ہی میں مکافات عمل کا یوں سامنا کرنا پڑا کہ جس لوہے سے وہ آپ کو اذیت کےلئے داغا کرتی تھیں وہی گرم لوہا اس پر استعمال ہونے لگا۔ لیکن یہ علاج کوئی خاص کارگر نہ ہوا اور وہ کچھ عرصہ ہی میں لقمہ اجل بن گئی اور اس بدبخت کے ظلم و ستم سے حضرت خباب کو نجات مل گئی۔ ہجرت مدینہ کا حکم نازل ہوا تو خباب رضی اللہ عنہ بھی حضور اکرم(ﷺ) کی اجازت سے عازم مدینہ ہوئے۔ اگرچہ انہیں قبول اسلام کے بعد بڑے جاں گسل مراحل سے گزرنا پڑا لیکن ان کی یہ ہجرت کسی خوف یا اندیشے پر مبنی نہیں تھی بلکہ محض اور محض اللہ رب العزت کی رضاءحاصل کرنے کےلئے تھی۔ خلفاءراشدین کے زمانے میں جب فتوحات اور کشادگی کا دروازہ کھلا تو آپ بسا اوقات بہت مضطرب ہو جاےا کرتے تھے۔ زارو قطار روتے اور ارشاد فرماتے ”ہم نے محض اللہ کریم کی رضاءکی خاطر جناب رسالت مآب(ﷺ) کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ رہا، ہمارے بعض دوست تو ایسے ہیں کہ جلد ہی واصل بحق ہو گئے اور انھوں نے دنیا میں اپنے اجر کا کوئی ثمر حاصل نہ کیا۔ لیکن بعض ایسے ہیں جن کا پھل پک گیا ہے اور وہ اسے توڑ کر کھا رہے ہیں، (ہمارے بھائی) حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے احد میں جام شہادت نوش کیا تو ان کے کفن کےلئے ہمارے پاس ایک چھوٹی سی چادر کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا، اس چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے پاﺅں کھل جاتے اور پاﺅں پر کپڑا رکھتے تو سرِ اقدس برہنہ ہو جاتا، آخر میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے حکم کے مطابق، ان کا سر ڈھانپ دیا اور پاﺅں پر اذخر گھاس ڈال دی، جبکہ آج یہ عالم ہے اللہ کا فضل ہم پر بارش کی طرح برس رہا ہے، مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں ہمارے مصائب کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں تو مرحمت نہیں فرما دیا۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد بن حنبل، ابن حبان)
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا، حضور اکرم(ﷺ) کے دور باسعادت میں مجھے ایک درہم بھی آسانی سے حاصل نہیں ہوتا تھا۔ جبکہ آج میرے اسی گھر کے ایک کونے میں اس وقت چالیس ہزار درہم موجود ہیں۔ اپنے کفن کا مکمل کپڑا دیکھا تو بے ساختہ رو دیئے اور فرمایا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو ایسا کفن میسر نہیں آیا، ان کے سر پر کپڑا ڈالتے تو پاﺅں کھل جاتے، پاﺅں پر ڈالتے تو سر کھل جاتا۔ آخر ان کے پائے اقدس پر اذخر ڈال دی گئی۔ (ترمذی، ابن ماجہ، احمد)

سید قسور رضی کے نام

26 جنوری کی شب ایک عظیم انسان اورکتاب دوست، موسموں اور رویوں کی یخ بستگی کی ...