پیر‘ 2 رمضان المبارک ‘ 1438ھ‘ 29 مئی 2017ء

29 مئی 2017

خیبر پی کے میں پی ٹی آئی والوں کا 3 گرڈ سٹیشنوں پر قبضہ اور توڑ پھوڑ
گرمی اور لوڈشیڈنگ کا عرصہ دراز سے ہمارے ہاں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گرمی آتے ہی روٹین کی لوڈشیڈنگ کے تیور بھی بدل جاتے ہیں اور وہ بھی یکدم موسم کے ٹمپریچر کی طرح بڑھنے لگتی ہے۔ یوں یہ دونوں اکٹھے مل کر غریب پاکستانیوں کی جان ناتواں پر وہ ستم ڈھاتے ہیں کہ دن ہو یا رات انہیں اپنی اور اپنے حکمرانوں کی اوقات نظر آ جاتی ہے۔ اب یہ پورے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے اور اصلاح احوال کی دُور دُور تک کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ خیبر پی کے میں چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے اسلئے انہیں اس کی زیادہ گرمی چڑھی ہے۔ جس کی وجہ سے گذشتہ روز ارکان اسمبلی کی قیادت میں مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے واپڈا کے 3 گرڈ سٹیشنوں پر چڑھائی کر کے اپنی ساری گرمی نکالی اور وہاں جی بھر کر توڑ پھوڑ کر کے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ مگر اس کا نتیجہ کیا نکلا جہاں 8 گھنٹے لوڈشیڈنگ پر احتجاج ہو رہا تھا وہاں 12 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا۔ اب معلوم نہیں یہ کس کی جیت ہے اور کس کی ہار۔ عوام کو خود لوڈشیڈنگ کے دورانیہ سے پتہ چل جائے گا۔ پھر اس کے بعد وہ اپنے رہنما¶ں کو روئیں گے یا حکومت کا یہ ان کا مسئلہ ہے۔ وفاقی وزیر بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یہاں 70 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے اسلئے دورانیہ زیادہ تھا۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ جناب خدارا بجلی چوروں کو پکڑیں۔ ان کی سزا عوام کو نہ دیں ان کی بجلی تو بند نہ کریں....
٭....٭....٭....٭....٭
اب معاشی دھماکہ کریں گے: وزیراعظم نوازشریف
خداکرے یہ دھماکہ بجٹ 2017ءجیسا نہ ہو جس کے سارے موذی اثرات غریب عوام پر رونما ہوں۔ اشرافیہ کے لئے سب کچھ بہت اچھا ہو۔ معاشی دھماکے کا اعلان پہلے بھی کئی بار ہو چکا۔ سچ پوچھیں تو 70 برس سے عوام اسی معاشی دھماکے کے انتظار میں ایٹمی دھماکہ تک کروا بیٹھے مگر معاشی دھماکہ نہ ہو سکا۔ اس میں سراسر اشرافیہ کی بدمعاشی ہی نظر آتی ہے۔بجٹ کے حسابی گورکھ دھندے میں الجھا کر عوام کہ سبزباغ دکھانا حکمرانوں کی پرانی عادت ہے اور دھوکہ کھانا عوام کی۔ اب تو دھوکے ساتھ کھوتا کھانا بھی عام ہو رہا تھا مگر شاید قدرت کو یہ منظور نہیں اسلئے پاکستانی کھوتوں کی چین میں مانگ پیدا کر دی اور یہ معصوم بے زبان پاکستانیوں کی روزانہ خوراک بننے سے بچ گیا۔ اب دیکھنا ہے وزیراعظم معاشی دھماکہ کب کریں گے۔ اگر وزیراعظم حقیقت میں معاشی دھماکہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وزیراعظم کا نام پاکستان کی تاریخ میں نقش ہو جائے گا۔ بیرونی قرضے‘ گرتی ہوئی معیشت اور ملکی سرمائے کا بیرون ملک فرار ان سب کو ختم کر کے وزیراعظم ایٹمی پاکستان کے عوام کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھا سکتے ہیں۔ مگر ایسا کرے گا کون۔ وزیراعظم کو خود کیا یہ سب کچھ نظر نہیں آ رہا۔ ان کے ارد گرد وہ لوگ ہیں جو اس گرم ترین موسم میں بھی یخ بستہ دفاترمیں بیٹھ کر بجٹ اور معاشی پالیسیاں بناتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ شہروں‘ دیہات‘ سڑکوں اور گلیوں میں 45 درجہ حرارت میں کام کرنے اور رہنے والوں کس معاشی بدحالی تک پہنچا دیا گیا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
آصف زرداری دبئی روانہ‘ بلاول کا ناراض کارکنوں کو منانے کا فیصلہ
سندھ میں جس طرح تحریک انصاف والے پی پی کے قلعے میں شگاف ڈالنے میں مصروف ہیں۔ اس شب خوں کو روکنے میں لگتا ہے زرداری صاحب ناکام ہونے لگے ہیں۔ کچھ باہمی رقابتیں کچھ ظاہری شرارتیں انہیں بہت پریشان کر رہی ہیں۔ خود وہ کہہ بھی گئے ہیں کہ جن کو میں نے آسمان پر پہنچایا وہ ہی میرے خلاف ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ اندرون خانہ کھچڑی پک رہی ہے۔ اس لئے اب وہ کسی کو معاف کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں اور دھڑے بندیوں میں ملوث افراد سے تنگ آ کر دبئی روانہ ہو گئے جہاں سے وہ لندن اور امریکہ گرمیوں کی چھٹیاں گزاریں گے تاکہ ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈے دل سے کوئی فیصلہ کر سکیں۔ ان کی غیر موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے بلاول صاحب نے ناراض عہدیداروں کو منانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مگر وہ شاید بھول رہے ہیں پھوپھو فریال تالپور کی موجودگی میں وہ شاید ایسا نہ کر سکیں گے کیوں کہ بھلا زرداری صاحب موجود نہیں مگر وہ اپنی نیابت انہیں سونپ گئے ہیں جو گھر سے لے کر پارٹی میٹنگ تک میں زرداری جی کی آنکھ اور کان بنی ہوتی ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کی موجودگی میں بلاول زرداری کس طرح اپنی مرضی سے ناراض رہنما¶ں کو مناتے ہیں۔ پریشانی تو بلاول جی کی بھی بجا ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف والے لاڑکانہ میں جلسہ کر رہے ہیں جس میں پیپلز پارٹی کے کئی اہم رہنما تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں اب اس جلسے اور اعلان کو روکنے کے لئے بلاول زرداری سرگرم ہونا چاہتے ہیں کیونکہ اگر دیر ہو گئی تو پھر شگاف پُر نہیں ہوتا کیونکہ اس میں سے لوگ خود بخود اینٹیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں....
٭....٭....٭....٭....٭
شاہ سلمان کی طرف سے ٹرمپ کو ایک ارب 20 کروڑ مالیت کے تحفے
یہ ہوتا ہے اصل بادشاہ ورنہ ٹرمپ بھی تو سپر پاور کا بادشاہ بنا پھرتا ہے۔ کیا اس میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ اس کے آدھے حصے کے برابر ہی تحائف شاہ سلمان کو بھی جوابی طور پر عطا کریں۔ یہ چار سال کے بادشاہ بھلا اصلی تاحیات بادشاہی کا لطف کیا جانیں۔ انہیں تو ہر قدم پر ہر سال ہر ماہ کا حساب دینا پڑتا ہے۔ عوام کا ووٹروں کا عدالتوں کا ڈر ہر وقت وقت ان کے حواس پر سوار رہتا ہے۔ یہ داد و ہش بھلا ان کے بس کی کہاں؟ اب یہ فکر بھی انہیں کھائے جا رہی ہو گی کہ شاید امریکہ واپس پہنچتے ہی انہیں یہ سوا ارب مالیت کے تحائف کہیں امریکی حکومت کے توشہ خانے میں نہ جمع کرانے پڑ جائیں۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اصل بادشاہ کون ہے تحفہ تحائف دینے والا یا لینے والا۔ مشہور شعر ہے
مانگنے والا گدا ہے
بھیک مانگے یا خراج
شکر ہے ہمارے عالی مرتبت سعودی حکمران دان دیتے ہیں لیتے نہیں۔ اگر لینا پڑے تو مہنگے داموں امریکہ سے اسلحہ و دیگر سازوسامان خریدتے ہیں۔ وہ بھی اس نیک نیتی کے ساتھ کہ ان غریب امریکیوں کی حکومت چلتی رہے۔ جو خود کو ساری دنیا کا سپر پاور کہتے ہیں۔ مگر ہمارے بادشاہوں کی دولت پر نظر رکھتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭