اسحاق ڈار سے چند سوالات!

29 مئی 2017

موجود بجٹ میں الفاظ کے ہیر پھیر کے علاوہ جو سیدھی سیدھی باتیں عام پاکستانی کو سمجھ آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قرضوں اور سود کی ادائیگی کے حوالے سے 1360ارب روپے مختص کئے ہیں۔ جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 838ارب روپے (8ارب ڈالر ) کے غیرملکی قرضے لئے جائیں گے جس میں سے 326ارب روپے غیرملکی قرضے واپس کئے جائیں گے جبکہ باقی 968ارب روپے مقامی فنانسنگ سے پورے کئے جائیں گے۔ مقامی فنانسنگ میں سے 390ارب روپے مقامی بینکوں سے جبکہ 578ارب روپے نان بینکنگ سے حاصل کئے جائیں گے۔غیر ملکی قرضوں کے 838ارب روپے میں سے 341ارب روپے پراجیکٹ قرض ،96ارب روپے کے پروگرام قرض جبکہ دیگر قرضوں کی مدمیں 375ارب روپے ہیں۔ 375ارب روپے کے دیگر قرضوں میں سے 164ارب روپے اسلامی ترقیاتی بینک سے ، سکوک بانڈ سے 105ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 105ارب روپے لئے جائیں گے۔ اسی طرح غیر ملکی گرانٹس کی مد میں بھی 27ارب روپے آئیں گے.... یعنی ہر جگہ اور ہر ”پراجیکٹ“ میں آپ قرضوں ہی کی بازگشت سنیں گے۔ کیوں کہ ہمارے حکمرانوں نے گزشتہ 4بجٹوں (2013ءسے 2016ءتک ) میں جس انداز میں عوام کو کھپایا ہے یہ اسی کا ثمر ہے کہ آج پانچویں بجٹ میں بھی کوئی ڈھنگ اور عوامی فائدے کا پراجیکٹ اناﺅنس نہیں کیا گیا۔ بلکہ اربوں ڈالر ہم نے قرضوں کی ادائیگیوں میں استعمال کرنے ہیں.... کیا یہی جمہوریت کے ثمرات ہیں ؟ کیا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا ایک دن ڈکٹیٹر شپ کے 100دن سے بہتر ہوتا ہے؟ کیا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کمزور ترین جمہوریت ڈکٹیٹر شپ سے ہزار گنا بہتر ہوتی ہے؟ خدا کی پناہ ہے ان جمہوری حکمرانوں سے جن کے آخری دو ادوار (2008ءسے 2017ئ) تک عوام نے دیکھ ہی لیے ہیں ، بیرونی قرض تین گنا بڑھ کر 100ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں....
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے عوام کبھی ڈکٹیٹر شپ کے حق میں نہیں رہے ، مگر جمہوریت کے تباہ کن اثرات عوام کو یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر دیتے ہیں کہ 1999ءمیں جنرل مشرف حکومت میں آئے تو پاکستان پر 39 ارب ڈالر کا قرضہ تھا پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 23 کھرب 40 ار ب روپے بنتی تھی۔پھر 2002ءکی سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بیرونی قرضوں کی مد میں محض 30کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنا ہوتی تھی، جنرل مشرف نے 9 سال کرنسی کو ڈالر کے مقابلے 60 روپے سے گرنے نہیں دیا قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بعد 5 ارب ڈالر کا اصل زر بھی ادا کیا اور 2008ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستان بیرون ملک قرضوں کی ادائیگی کی مد میں40کروڑ ڈالر ادا کر تا تھا.... جمہوریت آنے کے بعد سال 2008 میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 34 ارب ڈالر رہ گیا تھا.... پھر 2008ءمیں نام نہاد پیپلز پارٹی (زرداری گروپ ) کی حکومت آئی تو حکومت ہر وقت آئی ایم ایف کے دربار میں بیٹھی نظر آئی ، اور 2013ءتک بیرونی قرضوں کی مالیت 62ارب ڈالر تک پہنچا دی گئی.... جبکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے بجٹ میں 4ارب ڈالر تک رقوم رکھی جانے لگیں.... جو آئی ایم ایف کی شرائط کی کڑی تھیں۔ اب دوسری جمہوریت کو 4 سال سے اوپر ہو گئے قرضوں کا حجم بڑھ کر 90ارب ڈالر کی حدکو چھونے لگا ہے ڈالر کی 107 روپے والے نرخ کے ساتھ پاکستانی کرنسی میں اس رقم کی مالیت 100 کھرب روپے ہوگی 2008 سے 2016 تک جمہوری حکومتوں نے صرف سود ادا کرکے مزید قرضہ لیا ہے....
میں (خاکم بدہن) ڈکٹیٹر شپ کا حامی نہیں ہوں، اور نہ ہی ایسی کبھی خواہش یا تڑپ رہی ہے مگر جمہوریت کے اثرات آج سب کے سامنے ہیں ، آج ہر ہر معاہدے کو عوام سے محض اس لیے چھپایا جا رہا ہے کیوں کہ اُس میں ان کے ذاتی مفادات اور ذاتی کاروبار پنہاں ہیں.... اور پھر جب حکمرانوں کے ذاتی مفادات ہر پراجیکٹ میں نمایاں ہوں تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے اُس میں قومی مفاد بھی شامل ہو سکتاہے.... آپ سی پیک ہی کی مثال لے لیں ابھی حالیہ بجٹ میں 54ارب ڈالر چین کے بھی ہیں جسکو یہ امداد کہہ رہے ہیں مگر وہ 4.5فیصد مارک اپ پر لیے گئے ہیں ۔ جسے پاکستان کی آنے والی نسلوں نے ادا کرنا ہوگا، اور حیرت تو اس بات کی ہے کہ چین پاکستان کو سڑکیں اور موٹروے بنانے کے لیے قرضہ فراہم کر رہا ہے حالانکہ اس سڑک پر اُس کی اپنی ٹرانسپورٹ دوڑا کرے گی جس سے اُلٹا پاکستانی تاجروں کو نقصان ہو گا کیوں کہ جب پاکستان کے راستے سے دنیا کو سستی چینی چیزیں میسر ہوں گی تو وہ پاکستان کی مہنگی چیزیں کیوں خریدیں گے؟ اور پاکستانی زیادہ سے زیادہ گوادر کے شوق میں اپنی گاڑی پر طویل سفر کا شوق پورا کر سکیں گے!اب اسحاق ڈار ااور ان کی وزارت خزانہ کی ٹیم عوام کو یہ سمجھائے کہ پاکستان یہ قرضہ کیسے اتارے گا کیونکہ گوادر پورٹ پر چالیس سال تک ٹیکس فری ہے.... لہٰذا چینی اشیا، جو پاکستان کے راستے دنیا بھر میں جائیں گی.... ان پر کوئی ٹیکس یا کسٹم نہیں ہو گا۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ چینی کنٹینرز سے راہدری یا ٹول ٹیکس لیا جائے گا یا نہیں۔ اگر لیا جائے گا تو کتنا ہو گا؟ زیادہ امکانات یہی ہیں کہ چینی کنٹینرز‘ جو ہزاروں کی تعداد میں گزریں گے، پر کوئی ڈیوٹی یا ٹول ٹیکس نہیں ہو گا.... چلیں خیر اس پر پھر کبھی بات ہوگی، میری کوشش ہوگی کہ اس پر ایک جامع کالم لکھوں تاکہ کہیں ابہام نہ رہ جائے۔
لہٰذاہم یہ تصور کررہے ہیں کہ ملک کے موجودہ حالات بے قابو ہو کر ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے حکومت نے کوئی وضاحت نہیں کہ کہ ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے عوام کی کھال ادھیڑنے کے علاوہ کونسے منصوبے ہیں۔اس کے لیے وہ دو ہی کام ہو سکتے ہیں یا تو ملک کی ایکسپورٹ بڑھ جائے یا ملک کے محفوظ ترین منرلز کو لیکوئیڈ کر دیا جائے .... اور اگر منرلز لیکوئیڈ ہوئیں تو یہ ایسا نقصان ہوگا جسے پاکستان کبھی پورا نہیں کر سکے گا۔ کیوں کہ پاکستان کی نسلوں کی بقاءپاکستان کے ریسورسز پر ہے۔ اور اگر میں غلط نہیں تو کیا سی پیک منصوبہ ان سورسز کے ضیاع کی ابتداءتو نہیں ؟ خدشات ذہن میں تو آتے رہتے ہیں مگر کیا کیا جائے مجبور ہی ہم کچھ ایسے ہیں کہ نہ صحیح طرح رو سکتے ہیں اور نہ ہی خوش ہوا جا سکتا ہے کیوں کہ خوشی کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے....
اور اگر ہم بجٹ کی بات کریں تو اسحاق ڈار صاحب نے اس بجٹ میں بھی ہاتھ کے ساتھ ہاتھ کیا ہے۔ یعنی ان ڈائریکٹ ٹیکس بڑھا کر حکومت نے ”ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے سے واپس لینے“ کی حکمت عملی اپنائی، سرمایہ کارکو مراعات دی گئیں، عام آدمی کیلیے کچھ نہیں۔حالانکہ مربوط انڈسٹریل، ایکسپورٹ اورفوڈ سیکیورٹی پالیسی دینی چاہیے تھی، حکومت نے بجٹ میں ہیلتھ، ایجوکیشن سیکٹرکو نظر انداز کیا، قرضہ جات کی ادائیگی کے حوالے سے واضح حکمت عملی نہیں بتائی گئی، اسی طرح پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی نہیں کی گئی، خوراک اورتعلیم مزید مہنگی ہوجائیگی۔مختصر یہ کہ پانچ سال میں اس حکومت نے کوئی عوام دوست بجٹ پیش نہیں کیا۔ اگر زراعت کی بات کی جائے تو حکومت نے جو سبسڈی دی، اس سے چھوٹے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔حکومت کی پرائس پالیسی نے ان غریب کسانوں کا کوئی بھلا نہیں کیا۔ زراعت کے شعبے میں کوئی ریگولیشن نہیں ہے اور نہ وہاں کوئی کم سے کم اجرت کا تصور ہے۔ کیڑے مار دوا، یوریا، فرٹیلایرز اور دوسرے کیمیکلز پر سبسڈی دے کر انہوں نے نہ صرف زراعت اور دیہی مزدوروں کا نقصان کیا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی ایک تباہی سے دو چار کر دیا ہے۔ ان کیمیکلز کی وجہ سے سرطان سمیت کئی امراض بڑھ رہے ہیں۔ خیر اگر حکومت بجلی سستی کرتی، آٹا سستا کرتی، گیس سستی کرتی، پٹرول سستا کرتی ، دوائیاں سستی کرتی، اور سکولوں کا معیار کے مطابق خرچہ کم کرتی تو عام آدمی کو اس سے فائدہ ہوتا، عام آدمی اسحاق ڈار سے چند سوال کر رہا ہے کہ انہوں نے عام آدمی کے ریلیف کے لیے کیا منصوبہ رکھا ہوا ہے؟ میرے خیال میں اسحاق ڈار کو میاں نوازشریف کے لیے بجٹ تیار کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں کیوں کہ یہ بجٹ صرف نوازشریف اور ان کے خاص رفقاءکو ہی جچ رہا ہے ملک کے 20کروڑ عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور بجٹ میں رکھے گئے بڑے بڑے منصوبے جن کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے جن پر میاں نوازشریف اور ان کے چند 5فیصد رفقاءجو ہر سیاہ سفید کام میں حکمرانوں کے ساتھ رہے اُن ہی کی ہی کی گاڑیاں دوڑیں گی اور عوام کو کچھ نہیں ملے گا.... رمضان کے اس بابرکت مہینے کی بدولت اسحاق ڈار عوام کو صرف اس بات کا جواب دے دیں کہ کیا وہ اچھے معیشت دان ہیں یا اچھے ایکٹر ؟ کیوں کہ اچھا معیشت دان ملک یا کمپنی کو بحرانوں سے نکالا کرتا ہے جبکہ ایکٹر اپنی ایکٹنگ سے وقتی طور پر تو سب کا دل بہلا دیا کرتا ہے مگر وہ کسی کی دیرپا خوشی کا ہر گز باعث نہیں بنتا....!!!