سپریم کورٹ سے بلی اور چوہے کا کھیل

29 مئی 2017

ایک بار پھر سپریم کورٹ نشانے پر ہے حکمران خاندان اور اس کے حواری مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کے دو ارکان پر اعتراض کرکے دراصل سپریم کورٹ کونشانہ بنا رہے ہیں ، ڈرا دھمکا رہے ہیں، پسپا کرنا چاہتے ہیں طفلانہ، نہیں جناب عام فہم الفاظ میں بچگانہ اعتراضات اٹھا ،رہے ہیں ان کا ہدف زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنا اورکسی بھی طریقے سے جے آئی ٹی کو تحلیل کرانا ہے قانون اور انصاف کے سب سے بڑے ایوان، سپریم کورٹ آف پاکستان کے ساتھ اس دیدہ دلیری سے کھلواڑ صرف اس خاندان کو ہی زیبا ہے کہ سپریم کورٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے مدتوں بعد جے آئی ٹی کے حوالے سے ایک بار پھر حملہ کیا جا رہا ہے اس مرتبہ یہ بلند وبالا عمارت نشانہ نہیں ہے بلکہ انصاف کی عمارت جن بنیادوں پر استوار ہے اس پر ضرب کاری لگائی جارہی ہے سپریم کورٹ کی نامزد کردہ جے آئی ٹی کے دو ارکان کو نشانہ بنانا اوربچگانہ الزامات لگاکر سپریم کورٹ پر کھلم کھلا عدم اعتماد ظاہر کیاجار ہا ہے۔
کئی دہائیوں اور عشروں سے حکمرانوں کےلئے منشی گیری کرنے والے کردار ایک بار پھر میدان میں ہیں نت نئے انکشافات ہورہے ہیں۔حکمران بڑے دھڑلے اور دیدہ دلیری سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے نامزد کردہ افسران سے بلی اور چوہے کاکھیل کھیل رہے ہیں کہ کسی طرح دھن دھونس اور دھاندلی کے ذریعے جے آئی ٹی کو تحلیل کرادیا جائے بظاہر ان کا ہدف سٹیٹ بنک کے نمائندے عامر عزیز اور سیکیورٹی ایکسچینج سے تعلق رکھنے والے افسر بلال رسول ہیں جس کے خاندانی پس منظر کو سامنے لایا گیا ہے مبینہ طور پر بلا ل رسول کومیاں محمد اظہر کا قریبی عزیز ظاہر کیاجا رہا ہے جن کی اہلیہ تحریک انصاف اور عمران خان پر جوش حامی ہیں دعوی یہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے میاں اظہر سے خاندانی مراسم منصفانہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ کی والہانہ سیاسی وابستگی اندریں حالات منصفانہ اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے سٹیٹ بنک کے افسرعامر عزیز کا معاملہ اس سے بھی دلچسپ ہے کہ دوران ملازمت ان کی فرض شناسی پر سابق صدر پرویز مشرف نے کبھی ان کی تعریف کی تھی اور انہیں کوئی ایوارڈ دیا تھا اس لیے اس افسر کا جنرل پرویز مشرف سے براہ راست رشتہ بنتا ہے ویسے اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو جنرل مشرف سے قریبی تعلق تو جناب نواز شریف کا قرار پاتا ہے جنہوں نے انہیں نے فوج کا سربراہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنایا تھا اس لیے ان دونوں افسران کو جے آئی ٹی سے نکالا جائے ایک طوطا کہانی کے مطابق مسلم لیگی رہنما کھلے بندوں اعلان کررہے ہیں کہ ہمیں روز اول سے اندازہ ہے کہ جان بوجھ کر شریف خاندان کے مخالف افسران کی اکثریتی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ستم ظریف نام لیے بغیر جے آئی ٹی کے ارکان سینئر فوجی افسران کی غیرجانبداری پر بھی معترض ہیں۔جے آئی ٹی تشکیل دینے والے بنچ کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں
سب سے دلچسپ انٹری تو برادر مصدق ملک کی ہے مصدق ملک، اس کالم کار کے پر شکوہ ماضی کا، دور طالب علمی کا ایک رنگین و سنگین باب ہیں ہم تو بہت جونیئر اورنامعلوم تھے جب ایف سی کالج میں مصدق ملک کانام گونج رہا تھا ادوایات سازی کے علوم میں فارغ التحصیل مصدق ملک نامی گرامی فارماسٹ تو نہیں رہے لیکن تعلقات سازی کا فن خوب جانتے ہیں سیاست کی بھینٹ چڑھ جانے والے ماضی کے شانداررپورٹر جناب عظیم چودھری کے ذریعے مدتوں بعد ان سے ایک مجلس دوستاں میں آمنا سامنا ہوا وہ چند لمحوں میں پہچان گئے، ''اوہ''تم نے سب کچھ بدل ڈالا یہ سوٹ اور تمہاری خوبصورت ٹائی ، یہ سب کیا ہے خاکسار مسکراتا رہا دوبارہ جماعت اسلامی کے رہنما اور اپنے ہم دم دیرینہ برادرم امیر العظیم کے ذریعے شاید سرسری ملاقات ہوئی تھی کہ مصدق ملک اسلامی جمعیت طلبہ کے اس گل سر سبد کانمایاں حصہ تھے جس نے تعلیمی اداروں میں موہوم نظریات کے سہارے نام نہاد اسلامی انقلاب برپا کرنے کی کوششںِ ناتمام کی تھی، اک سراب تھا کہ نہ رہا لیکن جوانی کے دن اور ا±منگوں کی راتیں نگل گیا اور ایک نسل اپنے کھیلنے کودنے کے دن اس سراب، اس عذاب میں مبتلا رہ کراکارت کر گئی اس سفر میں بچھڑ جانے سہیل امین، نواز خان، طاہر جاوید اور ڈاکٹرزبیر خان بابر جیسے جانثار ،وفادار یاد آرہے ہیں جو اسی سراب کی تلاش میں اپنی جوانیاں گنوا گئے، ہم خوش قسمت تھے کہ بچ گئے ورنہ اک پوسٹر نقد جان کا ہدیہ قرار پاتا۔ خیر اپنے مصدق ملک دور طالب علمی میں بڑے جانباز وجان نثار ہوا کرتے تھے اب تفصیلات سب بھول بھال چکا ہوں اب مدتوں بعد وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان کے طورپر منظر عام پر آئے ہیں تو سب کچھ یاد آرہا ہے تازہ ہورہا ہے ، بذریعہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ڈاکٹر نسیم اشرف کا تعلیم کی جانب 'پہلا قدم' ہویا 2013کی نگران حکومت' مصدق ملک کا ستارہ بلندیوں پر جاپہنچا اب وہ جناب نواز شریف کے حلقہ دوستاں میں شامل ہیں۔
مصدق مسعود ملک'رنگ محل کے قدیم لاہوری ہوتے ہیں کبھی کیپری سینما خاندانی وراثت تھا اب بھی کھلے ڈھلے اور دھڑے باز آدمی ہیں نواز شریف کے ساتھ ہیں تو ہیں۔فرماتے ہیں کہ جے آئی ٹی نے پاناما لیکس کے بارے میں تحقیقات کا طریق کار ماورائے آئین اور قانون سے بالا تر ہے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان سے جاری تحقیقات پر اپنے تحفظات سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا ہے اور یہ سپریم کورٹ کے علم میں ہونا چاہیے کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ اور شفاف ہونی چاہیں۔
ویسے تو طارق شفیع بھی مشکل وقت میں بھائی اور ان کے نونہال بچوں کی مدد کو آئے ہیں لیکن وہ تکنیکی موشگافیوں تنگ محدود رہے ہیں کہ شریک ایسے ہی ہوتے ہیں اس ساری واردات پر جناب عمران خان سٹ پٹا رہے ہیں وہ بڑی حیرانی سے اپنے دائیں بائیں موجود اپنے افلاطونوں سے پوچھ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی پراوراس کے تحقیقاتی طریق کار پر اعتراض تو ہمیں ہونا چاہیے تھا لیکن اعتراضات ملزم پارٹی کئے جارہی ہے۔دنیا کے سب سے بڑے نابالغ سرمایہ کار ہونے کا اعزاز پانے والے عزیزی حسین نواز بلاخوف وخطر انصاف کو قانون اور انصاف کو نئی راہیں دکھا رہا ہے نئے راستے تراش رہا ہے۔ حرف آخر کسی نامعلوم شاعر کی خود کلامی جو حسب حال بھی ہے حسب مقال بھی ہے:-
ہم میں اور مغرب میں کیا فرق ہے؟
ہمارے ہاں امام ضامن ہوتا ہے
ان کے ہاں نظام ضامن ہوتا ہے
ہمارے ہاں سائیں ہوتے ہیں
ان کے ہاں سائنس ہوتی ہے
ان کے ہاں امین ہوتے ہیں
ہمارے ہاں کمین ہوتے ہیں
ان کے ہاں تحقیق ہوتی ہے
ہمارے ہاں تضحیک ہوتی ہے
ان کے ہاں بجلی ہوتی ہے
ہمارے ہاں کھجلی ہوتی ہے
ان کے ہاں سائنس دان ہوتے ہیں
ہمارے ہاں سیاستدان ہوتے ہیں
وہ لوگ جفا کش ہوتے ہیں
ہم لوگ وفا ک±ش ہوتے ہیں
وہ لوگ وطن سے محبت کرتے ہیں
ہم لوگ وطن کی تجارت کرتے ہیں
ان کے پاس ہر اک مسئلے کا حل ہوتا ہے
ہمارے پاس ہر حل کیلئے ایک مسئلہ ہوتا ہے
ان کے ہاں عقل کا استعمال ہوتا ہے
ہمارے ہاں مسل کا استعمال ہوتا ہے
وہ شجر کاری کرتے ہیں
ہم کاروکاری کرتے ہیں
وہ پیسے سے مذہب کماتے ہیں
ہم مذہب سے پیسہ کماتے ہیں
ان کا ایٹم بم لوگوں کی حفاظت کر رہا ہے
ہمارے لوگ ایٹم بم کی حفاظت کر رہے ہیں
وہ جدید نصاب بنا رہے ہیں
ہم اجمل قصاب بنا رہے ہیں
ہم وسائل کا ضیاع کرتے ہیں
وہ ضیاع سے وسائل پیدا کرتے ہیں