بجٹ پر ایک ڈائری کالم

29 مئی 2017

بجٹ کے گورکھ دھندے کی سائنس سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لئے مختلف اور عالم آدمی کیلئے کچھ اور ہوتی ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور نہ ہوں تو ہاتھی ہاتھی تو نہ ہوا۔ پھر سفید ہاتھی الگ ہی اہمیت رکھتا ہے۔ معاشرتی سفید ہاتھی کی نسبت معاشی سفید ہاتھی کی شماریات زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کی معیشت کے کمال ہی سے اس کی معاشرت جمال رکھتی ہے۔ سیاستدان‘ ججوں‘ جرنیلوں‘ بیورو کریٹس اور کچھ مافیا مخلوق کو بجٹ شجٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ تو خوشی‘ مبارکباد اور امید کے نام پر غربت کے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہوتا ہے جو نوید دیتے ہیں ان کا شکریہ کہ: ”دل کے بہلانے کو بجٹ کا خیال اچھا ہے۔“ متذکرہ اشرافیہ اعداد سے نہیں کمالات سے چلتا ہے اور عامل آدمی اعدادوامداد اور وعدوں کے بل بوتے پر رینگتا ہے۔حسب عادل اپوزیشن نے بجٹ 2017-18ءمسترد کر دیا ہے۔ غصے میں آکر اپوزیشن نے کاپیاں بھی پھاڑ دیں لیکن راقم نے بعداز بجٹ تقریر متعدد حکومتی اراکین اور اپوزیشن ارکان سے بجٹ کے حوالے سے پوچھا کہ یہ کتنا اچھا ہے یا کتنا برا؟ اس ضمن میں کئی ممبران قومی اسمبلی اور ممبران صوبائی اسمبلی کو کوئی سمجھ ہی نہیں آئی۔ نہ جانے اسے ان کی سادگی گردانا جائے یا عدم دلچسپی؟ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ وفاقی بجٹ کے حوالے سے ہم ذاتی طور پر اتنا ضرور کہیں گے کہ آخری بجٹ ہونے اور آئندہ 2018ءانتخابی سال ہونے کے سبب حکومت نے جب کلاکاری اور ہنرمندی کا مظاہرہ کیا ہے اگر اپوزیشن اس کا گاہے بگاہے جائزہ لیتی رہی اور ایشوز کی سیاست کرتی رہی تو حکومت اس میں پھنس بھی سکتی ہے اور عوام کو ریلیف بھی مل سکتا ہے، اگر کوئی پھنسانے والا ہو۔ لفظوں اور اعداد کی جادوگری پر غور کیا جائے تو حکومت نے خوبصورت انداز میں عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہے ۔خیر تمام تر دعوﺅں اور کلاکاری کے باوجود وزیرخزانہ اسحاق ڈار ٹیکس کے معاملہ میں کوئی اصلاحات لانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں سے کچھ نہیں لے پائے تاہم معاملہ وہی پرانا ہے کہ عام آدمی ان ڈائریکٹ ٹیکسز کے بھنور سے باہر نہیں نکل سکتے گا اور تنخواہ دار ملازمین ٹیکس گرداب میں پھنستے رہیں گے اور پھنستے چلے جائیں گے۔ اللہ جانے موبائل فونز پر ٹیکس کی کمی اور سگریٹ پر ٹیکس سے حکومت کو کتنا فائدہ ہوگا اور عام آدمی کو کتنا ریلیف ملتا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 2009ءاور 2010ءمیں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں دیئے جانے والے ایڈہاک ریلیف الاﺅنس کو بنیادی تنخواہ میں شامل کیا ہے۔ ماضی کا یہ ریلیف اپنی جگہ ایک اہم اقدام تھا بالآخر سات آٹھ سال بعد ہی سہی اسے بنیادی تنخواہ میں شامل کرکے پھر اگر موجودہ 10فیصد اضافہ کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو یہ قابل تحسین عمل ہے لیکن جب یہ سوچتے ہیں کہ حکومت نے تین برس قبل جو کسان پیکیج دیا تھا اسے اصل شکل میں آگے بڑھانے کا اس ”انتخابی بجٹ“ میں سوچا گیا ہے یعنی عملی جامہ کو اگر جاتے جاتے سنجیدگی بخشی جاسکی تو بہت اچھا ورنہ تین سال سے تو محض مذاق ہی سمجھیں۔ ایک طرف بجٹ تقریر کی شعلہ بیانی اور شیریں بیانی تھی اور دوسری جانب اسلام آباد میں کسانوں کی عملی دھلائی بھی ایک حکومتی چہرہ تھا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کسان اور مزدور اگر جمہوری حکومت سے ریلیف کے بجائے ڈنڈے ہی کھائے گا تو ”بسم اللہ اور انا للہ و انا الیہ راجعونO“ ہم نے اپنے ایک پرانے مہربان محمداشرف سے بجٹ کے حوالے سے سیکھنے کی کوشش کی، جو ماہر معاشیات ہیں، کئی قومی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لفاظی اور اعداد ہر بجٹ میں ریشمی ہی ہوتے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ قرضوں کی بڑھوتری اور محض سٹاک ایکسچینج ترقی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ترقی کیلئے مائیکرو انڈسٹری کی سائنٹیفک حوصلہ افزائی اور برآمدات ضروری ہیں اور یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم وتحقیق پر ترقیاتی بجٹ کے برابر رقم خرچ کی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجٹ ازخود جادوگری ہوتا ہے۔ اثرات کا پتہ بعد میں چلتا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے جب چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمشن ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھا تو انہوں نے متعدد وی سی حضرات یا اکنامکس اور سوشیالوجی کے پروفیسروں کی طرح محض رمضان مبارک کہنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ باقاعدہ پروفیشنل جواب دیا کہ ترقیاتی مد میں ہمیں بھرپور مدد ملی ہے اور ماضی سے زیادہ ملی ہے تاہم ریکرنٹ میں ہم مزید کے خواہاں ہیں اور حکومت سے مانگےں گے بھی۔جب یہ پوچھا کہ پچھلی رقم خرچ ہوگئی اور ملی بھی تو ان کا جواب مثبت تھا۔ بہرحال ہم حکومت اور ایچ ای سی سے یہ ضرور کہیں گے ہم کچھ وی سی حضرات‘ دوستوں کو جانتے ہیں جو یونیورسٹیوں کی کمائی اور ایچ ای سی گرانٹ کو اپنے ذاتی لالچ اور عاقبت نااندیشی کی نذر کر دیتے ہیں جو تھوڑا بہت ملتا ہے اس کو صحیح استعمال میں لانے کی بھی کوشش کی جائے۔ سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ نالائق طالب علم کی طرح جو بجٹ کو ”سپلی“ لگ جاتی ہے وہ نہیں لگے گی تو بہتر ہوگا اور مزدور کو کم ازکم کا بتایا جاتا ہے ملتا نہیں ‘ اور 17ہزار ماہانہ میں 4افراد پر مشتمل گھرانہ بھی چلنا ناممکن ہے۔ موجودہ حکومت نے 100ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کیے ہیں جس کا ایک بڑا حصہ یعنی 40فیصد توانائی پر لگے گا جس میں بجلی کی پیداوار بھی ہے۔ عرض صرف اتنی ہے کہ کوئی نندی پور سی ناتجربہ کاری دوبارہ نہ آئے اور نیلم جہلم پراجیکٹ کی تاریخی سستی نے تاریخی اضافت اور لاگت کو بھی جنم دیا جو قوم بھگت رہی ہے۔ گزشتہ چار بجٹس بھی مواصلات اور توانائی کے حق میں تھے اور یہ بھی مگر مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔ (1) سی پیک کی گلوکوز کی بوتل‘ (2) عالمی منڈی میں تیل کی انتہائی کم قیمت‘ (3) عالمی سطح پر کوکنگ آئل کا سستا ہونا ‘ (4) ڈالر کی کم قیمت‘ (5) ماضی کی ایک بڑی سعودی امداد۔ یہ اس حکومت کی وہ بہت بڑی خوش قسمتی تھی جس سے کوئی بھی حکومت انقلاب برپا کرسکتی تھی لیکن یہ حکومت بہرحال نہ کرسکی۔ زرداری حکومت کی بدقسمتی تھی کہ اسے یہ پانچ چیزیں نصیب نہ ہوئیں ورنہ ممکن تھا وہ زیادہ کچھ کر دکھاتے۔ اپنی جگہ لکی حکومت ہونے کے ثمرات اب تک عوام کو نہیں مل سکے۔ سیاسی وعدوں اور اداروں کے ٹکراﺅ پر بہت وقت ضائع کرچکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن کو ختم کیا جائے۔ تعلیم کو دفاع اور ترقیاتی کاموں کے برابر سمجھا جائے۔ وعدہ خلافیاں‘ صرف سیاسی چمک دمک اور انتخابی کاموں کو نہ کیا جائے بلکہ ریڑھ کی ہڈی معیشت اور نروس سسٹم تعلیم ہیں لہٰذا ان پر توجہ دی جائے۔ سارے صوبے کا بجٹ صرف مخصوص شہروں میں نہ لگایا جائے۔ مزدور اور کسان کو بجٹ دیں نہ دیں عملاً انسانی حقوق دیں۔ ٹیکس لینے اور لگانے پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ قومی بنیں‘ انتخابی نہیں۔