یا اللہ ہمیں تباہی سے بچا لے

29 مارچ 2010
مکرمی! رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے تم سے پہلی امتیں اسی لئے برباد ہوئیں کہ اگر ان میں کوئی امیر جرم کرتا تو اس کو بچا لیا جاتا اور اگر کوئی کمزور گناہ کرتا تو اس پر حد نافذ کر دی جاتی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ پاکستان میں بھی اکثر اوقات دیکھنے کو ملتا ہے حالیہ تازہ ترین دو واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ اگر تحقیقات نے طول پکڑا تو مزید ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو شرمناک ہوں گے رینجرز جیسے حساس اور اہم ادارے کے سربراہ کے بیٹے کی قانون شکنی کا واقعہ نہایت شرمناک ہے اور اس پر مزید یہ کہ چھوٹے رینک کے ملازمین کو تو پولیس نے پکڑ لیا مگر اصل ملزم کا بال بھی بیکا نہیں ہوا اور میری چھٹی حس تو یہ کہتی ہے کہ تحقیقات کے بعد ذمہ دار پولیس کانسٹیبل کو ہی ٹھہرایا جائے کانسٹیبل اور اس کے اہل خانہ کو میڈیا کو دعائیں دینی چاہئیں وگرنہ کانسٹیبل خلیل شاید ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ کسی ہسپتال میں پڑا ہوتا۔ اسی طرح کا معاملہ ڈی ایس پی عمران بابر کے ساتھ درپیش ہے۔ اس ”معمولی“ ڈی ایس پی کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ ”فرشتہ صفت“اعلٰی پولیس افسران کے ”کارنامے“ منظر عام پر لانے کی جرات کرے۔ بہر حال اب اس کو اس ”گھناﺅنے جرم“ کی کڑی سزا بھگتنا پڑے گی۔ حالانکہ ڈی ایس پی صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ اعلٰی افسران کے شکر گزار ہوتے جنہوں نے اتنا برا ریکارڈ ہونے کے باوجود ان کو ترقی دی لگتا ہے ہم پھر اسی زمانہ جاہلیت کا حصہ بن چکے ہیں۔ بربادی جس کا مقدر تھی۔ مگر اس پاک سرزمین پر اللہ کے نیک بندوں کی بھی کمی نہیں شاید انہی کے دم بدم سے یہ ملک قائم دائم ہے وگرنہ لٹیروں نے کوئی کسر چھوڑی نہیں۔ (سید توقیر حسین لاہور 03227771277 )