سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور موٹر وے پولیس N-5 کے نام

29 مارچ 2010
مکرمی! چند روز قبل نیازی اڈا لاہور سے ملتان کے لئے صبح 8 بجے ”اے سی والی نان سٹاپ“ بس پر سفر کا آغاز کیا جب بس اڈے سے نکلی تو تمام سیٹوں پر سواریاں بیٹھی تھیں مگر ڈرائیور نے ہر اڈے سے اور بغیر اڈے کے سواری اٹھائی اوورلوڈنگ کی وجہ سے بس کے اے سی نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا سب سے زیادہ ترس اور غصہ اس وقت آیا جب کنڈیکٹرز نے ایک فیملی جن کے ساتھ چار بچیاں تھیں کو بھی بس میں سیٹ کا جھانسا دے کر بٹھا لیا مگر وہ بے چارے دھکے کھاتے رہے۔ بس ملتان پانچ گھنٹوں کی بجائے ساڑھے سات گھنٹے میں پہنچی مگر اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ لاہور سے ملتان تک کسی موٹر وے پولیس نے اسے اوورلوڈنگ کا پوچھا اور نہ ہی کوئی موٹر وے پولیس والا نظر آیا میری ارباب اختیار سے یہی گزارش ہے کہ مسافر زیادہ کرایہ اپنی سہولت‘ اچھے سفر اور بروقت منزل پر پہنچنے کے لئے خرچ کرتا ہے مگر ڈرائیور حضرات اسے قربانی کا بکرا سمجھ لیتے ہیں۔ میری متعلقہ اداروں سے التماس ہے کہ اوورلوڈنگ کرنیوالی گاڑیوں کو ڈرائیور‘ کنڈیکٹر دونوں کو گرفتار کر کے گاڑی بند کر دیں تاکہ آئندہ مسافروں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔محمد عرفان سہیل لاہور 0322-4213280