مغربی طرز آزادی یقینی خسارے کا سودا ہے

29 مارچ 2010
مکرمی! بلاشبہ دور حاضر میں دوپٹہ‘ چادر‘ حجاب یا برقع نہ پہننا کسی بھی مسلم عورت کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے مگر ایک اسلامی معاشرے میں بھرے پنڈال میں اس کو اتار پھینک دینا یا دوسروں کے بہکاوے میں آ کر اس تعمیر اسلامی فعل کو جائز قرار دینے کے لئے خدا اور اس کے قانون سے الجھنا یقیناً ایک شرمناک ہے‘ قابل مذمت فعل ہے۔ درحقیقت جدید عورت آزادی نسواں کے نشے میں بھول گئی ہے کہ اسلام سے قبل یہ جس معاشرے کی فرد تھیں وہ نا صرف لڑکیوں کی پیدائش قابل ذلت قابل نفرت شرم و حقارت ہی نہیں سمجھتے بلکہ ان کو زندہ درگور کر دیا جاتا۔ زندہ دفن کرنا ایک معمولی عمل تھا۔ ایسے تاریکی جہالت میں 14 سو سال پہلے یہ دین اسلام ہی تھا جس نے آگے بڑھ کر اس وحشی ماحول میں عورت کو زندہ رہنے کے حق کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے عورت کو عظمت و حرمت کا شرف بھی عطا کیا۔ ماں کے روپ میں سراپا جنت بہن کے روپ میں بچپن کی ساتھی بیٹی کے روپ میں حوا کی رحمت .... بہترین تعلیم و تربیت کے حصے میں سرپرست کو جنت کی نوید تک سنائی (اے نادان) زمانے جہالت میں جب اشراف کی عورتیں اور لونڈیاں کھلی پھرتی تھیں اور بدکار لوگ پیچھا کیا کرتے تھے نوید دین اسلام ہی تھا جس نے عورت کو عزت بخشی اور حکم دیا کہ وہ اوپر چادر ڈالیں تاکہ پہچان لی جائیں کہ وہ شریف عورتیں ہیں‘ تاکہ بدکار لوگوں کے شر سے محفوظ رہیں۔ معاشی حالات کی بہتری کے لئے وراثت میں حق دار بنایا گیا مگر صد افسوس ناجانے کیوں تجھے عزت عظمت حرمت راس نہیں آتی۔ مغربی طرز پر آزادی چاہتی ہے۔ الحمد اللہ ہم مسلمان عورتیں ہیں ہم کو زیب نہیں دیتا کہ ہم نیم عریاں لباس کو قابل فخر مگر پردے کو ظلم‘ خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تعمیر کریں‘ بیوی ہونے کو مصیبت مگر معشوق ہونے کو خیالی جنت سمجھیں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم اسلامی یاست میں آزادی نسواں کی آڑ میں درپردہ خلع حمل اسقاط حمل کی آزادی کی خواہش مند ہو‘ بلاشبہ دور حاضر میں روشن خیال خواتین اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت کی منظر کشی کرتی دکھائی دیتی ہے جو کہ سراسر خواتین کے لئے نقصان اور خسارہ کے سودے کے سوا کچھ نہیں۔ (نیر صدف دھرم پورہ لاہور)