کسٹمز پبلک سکول، قائداعظم اور ہلیری کلنٹن

29 مارچ 2010
گلوبل ولیج بننے کے نقصانات تو کم ہیں فائدے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً علم کے میدان میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب آپ ترقی یافتہ ممالک کے نصاب و تعلیم کی خوبیوں کو اپنے نصاب میں پیش کر سکتے ہیں وہ الگ بات ہے کہ خود یورپ اور اہل مغرب نے سب کچھ مسلمانوں سے حاصل کیا جس کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ بھی کیا ہے
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آیا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
کسٹمز پبلک سکول گلبرگ کی سالانہ تقریب کا مقصد بھی یہی تھا کہ آج کے طلبہ کو مضبوط علمی بنیاد فراہم کی جائے تاکہ کل وہ پاکستان کے جس شعبہ میں بھی جائیں ملک کا نام روشن کریں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک اور صدارت ڈائریکٹر کسٹمز جنید اکرم کی تھی۔ سکول کے پرنسپل ایر کمانڈر(ر) نسیم نے سکول کی پرفارمنس پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ہمارے تعلیمی ادارے کا رزلٹ 98 فیصد ہے(یہ باقی دو فیصد فیل کیوں ہوتے ہیں گیریژن سکول سے موازنہ کرکے حل تلاش کرنا چاہئے) ڈائریکٹر کسٹمز جنید اکرم نے بتایا کہ سکول دن بدن ترقی کر رہا ہے اور خوشی کی بات ہے کہ اس ادارے میں ذہین بچوں کی ذہنی نشوونما بہتر بنانے کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور کل تک محدود وسائل تھے لیکن اب کمپیوٹر لیب لے لے کر ہر قسم کی سہولت طلبہ کو میسر ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ آنے والا زمانہ تعلیم اور تعلیم یافتہ پاکستان کا ہے ہر پاکستانی کو دل لگا کر تعلیم حاصل کرنے کی طرف پوری توجہ دینی چاہیے کیونکہ صرف تعلیم کی مدد سے ہم پاکستان کو ایک عظیم معاشی طور پر مضبوط قوم بنا سکیں گے، قائداعظم اور علامہ اقبال کے مطابق ہم نے ترقی کرنی ہے۔ یہ تعلیم ہی کا معجزہ ہے کہ امریکہ میں ہونے والے پاک امریکہ سٹرسٹیجیک ڈائیلاگ میں امریکہ کی وزیر خارجہ نے قائداعظم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے کہا کہ قائداعظم کے قول کام، کام اور بس کام، کے بغیر ترقی اور کامیابی ممکن نہیں ہے۔
بعد میں چائے پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ کسٹمز پبلک سکول بھی عام بچوں کو ذہین بنانے کی طرف خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ صرف گلہ تھا کہ اچھے ٹیچر مارکیٹ میں کم ہیں کیونکہ بڑے تعلیمی ادارے انہیں بھاری معاوضہ دے کر لے جاتے ہیں بجلی کے بحران کا ذکر ویسے تو پاکستان کے ہر شہر میں اس وقت ہوتا ہے جب بجلی بار بار جاتی ہے، افتحار علی ملک نے ایک اچھی تجویز پیش کی کہ ہمیں پینے کا صاف پانی، بجلی اور گیس کی بچت کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت کے وسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں، پھر پانی کی سطح نیچے ہو رہی ہے اس لئے پینے کے صاف پانی سے گاڑیوں کی دھلائی فضول خرچی ہے، میں نے تو ہر جگہ مہم چلا دی ہے کہ پینے کے پانی کی بچت کے لئے فضول پانی ضائع نہ کیا جائے اگر ہر شہری پانی بجلی اور سوئی گیس کی بچت شروع کردے تو مسائل حل ہو جائیں۔