17ویں ترمیم، 18ویں خواہش!

29 مارچ 2010
نواز شریف کو معلوم ہے کہ کسی بیان کے لئے وضاحتیں دینے کا مطلب بیان بدلنا ہوتا ہے۔ یہ بھی یو ٹرن ہے۔ وہ خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے یو ٹرن نہیں لیا۔ ٹرن تو لیا ہے یہ بھی اب ہماری سیاست میں لوٹا ازم کی طرح عام بات ہے۔ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یوں نہیں کہا یوں کہا ہے۔ جنرل مشرف پر یو ٹرن کا الزام کیسا ہے۔ شہباز شریف نے بھی طالبان کو پنجاب پر ہتھ ہولا رکھiے کے بیان کے بعد یو ٹرن لیا۔ انہوں نے جنرل کیانی سے فوراً ملنے کے بعد ثابت کیا کہ یو ٹرن نہیں لیا۔ اباﺅٹ ٹرن لیا ہے۔ نواز ٹریف نے کہا کہ میں فون پر موقف نہیں بدلتا۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے فون کی خبر ہے۔ یہ فون نواز شریف کے بقول اقتصادی معاملات کے لئے تھا۔ کیا اقتصادی مسئلہ آج کا ہے۔ نوائے وقت کی ہیڈ لائن خبر ہے کہ ملی بینڈ نے آئینی ترمیم پر ڈیڈلاک کے خاتمہ کیلئے لچک پیدا کرنے کے لئے کہا ہے۔ تو یہ بات اس نے فون پر صدر زرداری سے کہی ہے؟ کبھی مہنگائی آٹا چینی اور لوڈشیڈنگ یعنی اقتصادی مسائل پر بیان آیا ہو یا فون آیا ہو۔ چودھری ظہیرالدین نے دلچسپ بات کہی ہے کہ نون لیگ فون لیگ ہو گئی ہے۔ یہ آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ 17ویں ترمیم کے خاتمے میں نون لیگ کے اپنے بھی کچھ لیڈر رکاوٹ ہیں۔ نواز شریف کی پریس کانفرنس کے دوران چودھری نثار کی مسکراہٹوں کو کئی معانی دیئے جا رہے ہیں۔ سترہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے نواز شریف بہت سرگرم تھے۔ اب یہ صدر زرداری کی سیاست کی کامیابی ہے کہ سترہویں ترمیم میں تعطل نواز شریف کے کھاتے پڑ گیا ہے۔ ورنہ کہتے ہیں کہ صدر زرداری تو سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کیلئے آمادہ ہیں۔ میثاق جمہوریت پر عمل نہ کرنے کے طعنے دینے والے نواز شریف کے لئے فرح ناز اصفہانی نے کہا ہے کہ نواز شریف کا رویہ میثاق جمہوریت کی روح کے متصادم ہے۔ میثاق جمہوریت کا نام مخدوم گیلانی بھی لیتے ہیں۔ ان کے لئے نواز شریف کے دل میں نرم گوشہ ہے مگر نواز شریف کی یہ سوچ غیر سیاسی ہے کہ مخدوم گیلانی ان کے ساتھ ہے۔ شہباز شریف کے ساتھ تو بالکل نہیں۔ چودھری نثار علی کی انڈر سٹینڈنگ بھی اتنی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ ”مس نیچے کھڑی ہے“ چودھری نثار بھی وزیراعظم بننے کی دوڑ بلکہ بھاگ دوڑ میں شامل ہے۔ مخدوم گیلانی پہلے دن سے صدر زرداری کے آدمی ہیں۔ یہ بھی صدر زرداری کا کمال ہے۔ مخدوم گیلانی نے چیف جسٹس کے خلاف باتیں کیں اور پھر بن بلائے چیف جسٹس کی دعوت میں چلے گئے۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کے بغیر جوڈیشل کمشن منظور ہے۔ وہ این آر او زدہ ہیں تو پھر صدر زرداری کے لئے کیا خیال ہے۔ آج کے بعد صدر زرداری کے لئے این آر او زدہ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے پیپلز پارٹی کے علاوہ بھی کچھ لوگ ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی نامنظور ہیں ایسے ہی کچھ لوگ پسندیدہ ہیں اس لئے منظور ہیں۔ ڈاکٹر طاہر علی جاوید منظور ہیں اور راجہ بشارت نامنظور ہیں جب کہ دونوں چودھری پرویزالہی کی کابینہ میں تھے۔ نبیل گبول نے ذرا سخت بات کی ہے مگر باتیں تو ہوں گی سارے مسئلے دب گئے ہیں۔ جیسے یہی صرف ایک مسئلہ پوری قوم کا ہے۔ نواز شریف نے دو برسوں میں صرف آئینی معاملات پر بات کی ہے ہم آئینی معاملات غیر آئینی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں اور غیر آئینی معاملات کیلئے آئینی جواز لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لوگ سوچتے ہیں کہ ان کے مسائل غیر آئینی ہیں کبھی ملاقاتوں میں ان کی بات نہیں ہوئی۔ ناشتوں کھانوں اور دوسری ایسی ملاقاتوں میں آئینی معاملات حل نہیں ہوتے کہ بیانات کی ضرورت پڑتی ہے۔
نواز شریف نے سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لئے سمجھوتے پر دستخط سے ایک گھنٹہ پہلے سب کچھ برباد کر دیا ہے تو ایسی کیا مجبوری تھی۔ پریس کانفرنس کی بجائے مخدوم گیلانی کو ناشتے پر بلا لیا ہوتا۔ ایوان صدر میں کلثوم نواز کے ساتھ کھانے پر بھی جایا جا سکتا تھا۔ اس سارے ایکشن کی کیا ضرورت تھی۔ 80 روپے کلو چینی خرید کر لوڈشیڈنگ کے عذاب میں گھبرائے ہوئے ایک دوست نے پوچھا کہ نواز شریف چاہتے کیا ہیں۔ یہ بات ناشتے کی میز پر طے نہیں ہو سکتی تھی۔ آپس کی گہری ملاقاتوں میں کیا باتیں طے کی جاتی ہیں۔ کچھ تو ہوتا ہو گا۔ اس کے بعد ہر سیاستدان کہتا ہے کہ میں یہ سب کچھ عوام کے لئے قومی مفاد میں کر رہا ہوں۔ پوری قوم دم بخود ہے۔ لوڈشیڈنگ کے لئے مظاہروں میں کسی سے پوچھ کر دیکھیں کہ آئینی اصلاحات کیا ہیں؟ جج بحال ہوئے تو لوگ خوش ہوئے۔ ججوں کی بحالی کے بعد لوگوں کو انصاف ملنا شروع ہو گیا ہے۔ جوڈیشل کمشن سے پہلے اب بھی چیف جسٹس کی مرضی کے جج مقرر ہو گئے ہیں تو کیا تبدیلی آ گئی ہے۔ ایک شخص کی مرضی ججوں کی تعیناتی میں نہیں چلنا چاہئے خوا وہ ایک شخص چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو۔ چینی اور پٹرول کے مسئلے پر آزاد عدلیہ نے لوگوں کو مایوس کیا حکومتوں نے اس حوالے سے بڑی توہین عدالت کی ہے۔ نبیل گبول نے کہا ہے کہ شریف برادران کسی حال میں خوش نہیں ہوں گے۔ نواز شریف کی مرضی ہے کہ رائے ونڈ کو وفاقی دارالحکومت بنا دیا جائے۔ اور یہ نیک کام صدر زرداری کے ہاتھوں ہونا چاہئے۔ ایم پی اے شبینہ ریاض نے کہا ہے کہ کوئی بھی سترہویں ترمیم کے خاتمے کا کریڈٹ پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کو دینے کیلئے تیار نہیں۔ ن لیگ والے کوئی بھی اس طرح کا کام صدر زرداری سے کرواتے ہیں اور کریڈٹ خود لینے کا اعلان کرتے ہیں ایک ترمیم خود نواز شریف نے ختم کی تھی جب ان کے جنرل مشرف نے ان کی حکومت توڑی تھی تو 58(2)B نہ تھی۔ نواز شریف نے خود جنرل مشرف کو چودھری نثار کے مشورے پر آرمی چیف بنایا تھا۔ ایسا ہی واقعہ بھٹو صاحب کے ساتھ جنرل ضیا نے کیا تھا۔ جنرل ضیا غلط نہ تھا جنرل مشرف غلط تھا۔ جنرل مشرف کو برا بھلا کہنے والوں سے کون کہے کہ یہ مصیبت آپ کی اپنی لائی ہوئی ہے۔ حیرت ہے کہ 58(2)B والی سترہویں ترمیم ختم کرانے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔ تیسری بار وزیراعظم بننے کی شرط ختم بھی ہو جائے تو بھی ابھی نواز شریف شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کا امکان نہیں اور چودھری نثار علی ابھی اس کے لئے صرف سازش ہی کر سکتا ہے اور ہر سازش کامیاب نہیں ہوتی کامیاب ہو بھی جائے تو پھر اس کے خلاف سازش ضرور ہوتی ہے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ایک دوسرے کی حکومتیں گرا کے میثاق جمہوریت پر متفق ہوئے تھے اور یہ اتفاق بھی ابھی تک سوئے اتفاق بنا ہوا ہے۔ سیاست اور اقتدار کے لئے اتفاق کا مقدر نااتفاقی ہوتی ہے۔
فوزیہ وہاب بڑے دھڑلے کی خاتون ہے اس سے اختلاف کرو مگر اس کی بات سننا پڑتی ہے۔ ”نواز شریف کا یہ بیان صدارتی نظام کے حامیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے“ تو کیا نواز شریف میرے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں کہ میں بھی صدارتی نظام کا حامی ہوں۔ سترہویں ترمیم ختم نہ ہوئی تو اختیارات ایوان صدر کے پاس رکھیں گے۔ ویسے اختیارات وزیراعظم ہاﺅس میں آ گئے تو بھی مخدوم گیلانی بے اختیار رہیں گے۔ مخدوم گیلانی کو پتہ ہے کہ صدر زرداری گئے تو وہ بھی جائیں گے۔ ان کی یہ سیاست کامیاب ہے کہ وہ صدر کے آدمی ہیں مگر لگتے نہیں۔ لگتا ہے کہ وہ شریف برادران کے آدمی ہیں مگر ہیں نہیں۔ فوزیہ وہاب نے ایک ذو معنی بلکہ معنی خیز بات کی ہے۔ ”پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی منزل ایک ہے“ وہ منزل کیا ہے مگر ان دونوں کے راستے جدا جدا ہیں اور ہمسفری راستوں پر ہوتی ہے منزلوں پر نہیں۔
نواز شریف کی متنازعہ پریس کانفرنس میں اے این پی کے ساتھ صوبے کے نام کا جھگڑا بھی ہے۔ مخدوم گیلانی کی بات سنیں۔ ”سرحد کا نام دو جماعتوں کا مسئلہ ہے۔“ یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ پختون خوا اور خواہ مخواہ میں کیا فرق ہے۔ ن لیگ اور اے این پی کے درمیان خفیہ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ صوبہ سرحد ٹھیک ہے۔ خیبر بھی ٹھیک ہے اور یہ پنجاب میں نہیں ہے مگر پنجاب کے سیاستدان خواہ مخواہ ضد کر رہے ہیں ورنہ پختون خوا میں حرج تو کوئی نہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سینٹ میں ق لیگ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔!