پاکستان۔ ریگستان۔ خدانخواستہ

29 مارچ 2010
پاکستان کو ریگستان بنا ڈالے گا بھارت
پانی کی پھر کرنی ہو گی اسکے ساتھ تجارت
باتیں کھری ”مجید نظامی“ کی تم یارو سن لو
مت مانو بھارت کی باتیں‘ اپنا رستہ چن لو
جتنی دیر کرو گے اتنی منزل کھوٹی ہو گی
حل نہ ملے گا مشکل کا بس ”فائل“ موٹی ہو گی
آئیں گے اور کھائیں پئیں گے‘ جائیں گے سب ”لالے“
آنے والے دنوں میں ہونگے خشک زباں پر چھالے
بھوکی پیاسی قوم کا استحصال کرے گا بھارت
”میزائل“ سے کرنی ہو گی اسکے ساتھ سفارت
اسرائیل اور بھارت دونوں امریکی پٹھو ہیں
اسکی بولی بولیں گے یہ اسکے میاں مٹھو ہیں
پاکستان کے گلزاروں میں صرف اندھیرا ہو گا
میرے منہ میں خاک‘ نہ پھر گلرنگ سویرا ہو گا
بُرے دنوں سے آج بچا لو میری نسل نو کو
بجھنے مت دو عزم و عمل کے دئیے کی ننھی لو کو
کرکے کھانا‘ سر کو اٹھا کر جینا اسے سکھاو
اپنی طرح نہ‘ قرض کی مے ہی پینا اسے سکھاو
خودداری سے جینے اور مرنے کی مشق کراو
خود بھی ہوش کے ناخن لو‘ اسکو بھی ہوش میں لاو
نظریہ دو قومی اسکے ذہنوں میں تم بھر دو
قائداعظم کے افکار کی حامی اسکو کر دو
بھارتی فلمیں اور ڈرامے اور نہ اسے دکھاو
غیرت مند بنو اور اسکو غیرت مند بناو
بھوکے پیاسے غیر کے آگے جھکیں نہ گھٹنے ٹیکیں
بھیک میں دی ہوئی روٹی کو یہ دور اٹھا کر پھینکیں
دنیا میں اقبال کے شاہیں بچے بن کر جائیں
پر تو لیں تو آسمان کے تارے توڑ کے لائیں