یقین تو نہیں آتا مگر شاید

29 مارچ 2010
صورت احوال واقعی ”یقین تو نہیں آتا مگر شاید“ والی ہی دکھتی ہے۔ اصحاب ق لیگ کہتے پھرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد مسلم لیگ سے الگ بھی ہو سکتے ہیں یعنی اپنے ذاتی مفاداتی دباﺅ کے تحت وہ سرحدی گاندھی کے گدی نشینوں سے صوبہ سرحد کے نام پر سودے بازی کر کے اسے قومی مفاد کا لیبل لگا سیاست کے سٹاک ایکسچینج میں بولی کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ کا مطلب ہے مسلمانوں کی لیگ یا جماعت۔ اس کا نام کام اور تاریخ گواہ ہیں کہ یہ کسی نسل یا جغرافیائی اکائی کی نمائندہ ملکیت جماعت کبھی تھی نہ ہو سکتی ہے یہ جہاں بھی ہو گی صرف اور صرف مسلمانوں کی نمائندہ ہی ہو سکتی ہے۔ خواہ جاتی عمرہ میں محبوس ہو یا گجرات کے نت ہاﺅس میں قید رکھی گئی ہو۔ مسلم لیگ مسلمانوں کی جماعت تھی، ہے اور ہو کر ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ اصحاب ق کہتے پھرتے ہیں کہ دیکھ لینا نوازشریف صوبہ سرحد کے نام کا لسانی اور نسلی گاندھیانہ مطالبہ مان کر اس مسلم لیگ سے علیحدگی کا اعلان کر دیں گے جس کی بنیاد ڈھاکہ میں سب مسلمانوں کے نمائندوں نے رکھی تھی جس میں شامل برصغیر کے سارے مسلمانوں کے قائدین نے یہ ملک حاصل کیا تھا ”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“ کی بنیاد پر صوبہ سرحد کے مسلمان سارے نسلی اور علاقائی تفرقات پاﺅں تلے روندتے ہوئے مسلم لیگ میں آ گئے تھے۔ ان کی آل آج بھی اس خاندانی پہچان، اصلیت اور مسلمانوں کی لیگ سے علیحدہ ہونے پر تیار نہیں ہو رہی مگر کیا ان کی لیگ کے مالک و مختار نہ صرف اس مسلم لیگ سے علیحدہ ہو جائیں گے جس نے ”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“ کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا تھا بلکہ صوبہ سرحد کے اس نعرے پر مسلم لیگ میں آ جانے والوں کی آل اولاد سے بھی علیحدگی کا اعلان کر دیں گے؟ یقین تو نہیں مگر شاید....! وہ تو یہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ نوازشریف کی جماعت کا تو نعرہ ہے ”مسلم لیگی ہے تو جاتی عمرہ آ“ جمہوری عمرہ و حج کے لئے۔ اور نواز لیگ کا نظریہ اور منشور ہے شریفین کے مفادات کا تحفظ اور توسیع۔ ویسے ہی جیسے ”بی بی کا فدائی ہے تو زرداری کو بچا“ بھٹو کی گدی کے پیروکاروں کا نعرہ اور منشور ہیں کیا ایسا ہی ہے؟ پتہ چل جائے گا جلد ہی ہاتھ گنگن کو آر سی کیا۔ ہم پڑھتے ہیں کہ بلوچستان کے کچھ کاکڑ قسم کے سیاسی کھلاڑیوں نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر ان کے کپتان محمد نوازشریف نے صوبہ سرحد کے لسانی نام والا سرحدی گاندھی کے خاندان کا مطالبہ منظور نہ کیا تو وہ ان کی یعنی شریفین کی ٹیم سے الگ ہو جائیں گے کیا ان کے اس اعلان نے سب کو بتا نہیں دیا کہ ان کا اپنا تو اس مسلم لیگ سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں جو مسلمانوں کی لیگ تھی؟ ان کے جسموں میں بھی وہی لسانی تعصب کا خون رواں دواں ہے جسے برصغیر کے مسلمانوں کی مسلم لیگ کے لئے ہمیشہ زہریلا قرار دیا جاتا رہا ہے وہ نہ اس مسلم لیگ کے نظریہ سے آگاہ ہیں نہ اس سے کوئی ذہنی اور جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اس مسلمانوں کی لیگ والا تو عام کارکن بھی کہے گا ”جاﺅ جاﺅ جلدی جاﺅ“ وہ تو کسی بھی ایسوں کو ساتھ نہیں رکھے گا دکانداری نہیں کرے گا بلکہ اس مسلم لیگ کے نظریہ کو سربلند کر دے گا۔ جس نے کبھی بھی ایسوں کو اپنے ساتھ شامل نہیں کیا تھا کبھی بھی اپنا نہیں مانا تھا مسلم لیگی ہو اور لسانی قبائلی شناخت کا علمبردار ہو؟ ہو ہی نہیں سکتا۔ نہیں نہیں کبھی نہیں وہ تو ایسا کر کے اس مسلم لیگ سے علیحدگی کا اعلان کر دے گا جو مسلمانوں کی لیگ تھی ہم نے روز رفتہ ڈاکٹر عیص محمد کو پہلی بار غصہ میں دیکھا تھا ”عائشہ جلال نے تو اپنی کتاب میں علامہ اقبال اور قائداعظم کے خلاف لکھا ہوا ہے اور حکومت نے انہیں تمغہ عطاءکر دیا ہے؟ یہ تو دو قومی نظریہ کی مخالفت کرنے پر تمغہ دیا گیا ہے“ مسلمانوں کی لیگ کے حاصل کئے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم فرماتے ہیں کہ ”پاکستان سے میری محبت روحانی اور جذباتی ہے اور اس کا نظریہ ہمارے خون میں رچا بسا ہے“ ہم اس پر یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایک نہیں کئی روحانی گدیوں سے وابستہ ہیں لیکن کیا کوئی ایسا شخص جس کے خون میں پاکستان کا نظریہ اور اس کے بنانے والوں کی سوچ رچی بسی ہو وہ دے سکتا ہے اس نظریہ اور سوچ کی توہین کرنے والے کسی فرد کو کوئی تمغہ توہین نظریہ پاکستان؟ ہو سکتا ہے ایسا؟ سوچیں اور اگر کچھ سمجھ آ جائے تو سید یوسف رضا گیلانی کے خون کو دعا دیں وہ جو بتاتے ہیں کہ ان کے والد محترم نے بھی قرارداد پاکستان پر دستخط کئے تھے تو کیا انہوں نے بھی قرارداد پاکستان اس کے فکری بانی علامہ اقبالؒ اور اس قرارداد کی بنیاد پر وہ پاکستان کرنے والوں کے قائداعظم کی توہین کرنے والوں اور نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کے لئے تمغہ توہین کی سند پر دستخط نہیں کئے ہوئے سید یوسف رضاگیلانی نے لائبریریوں میں اقبال اور قائد کی فکر و خدمات کے بارے میں خصوصی کارنر قائم کرنے کی بھی حمایت کی ہے کیا ان خصوصی کارنروں میں وہ اس فکر اور ایسی خدمات کی عظمت کی توہین کرنے والوں کی تصاویر اور توہینی تصانیف تو نہیں رکھوا دیں گے؟ بے نظیر سوچ اور اس کے گدی نشین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے؟ اگر یہ محترمہ جنہیں تمغہ توہین اقبال و قائد عطا کیا ہے سید یوسف رضا گیلانی کی حکومت نے، اسی ”دشت سوس“ کی مصنفہ کی بیٹی ہیں جس نے بغداد میں بھی شدید برفباری کرا دی ہوئی ہے تو پھر ”ماں پردھی“ تو ہونا ہی تھی مگر ”پتا پر گھوڑا کیوں نہ ہو سکا؟ اس پتا پر جس کے قرارداد پاکستان پر دستخط کرنے پر اسے فخر ہے؟ نہیں نہیں جس بھی کسی کے اجداد میں سے کسی نے قرارداد پاکستان والے اجلاس میں شرکت کی تھی وہ تو ایسی توہین کا کسی کو تمغہ دے ہی نہیں سکتا۔ کبھی نہیں کبھی نہیں۔ مگر وہ پرچار اہل ق کا کہ ن لیگ کے مالک و مختار مسلم لیگ سے علیحدہ ہو جائیں گے؟ یقین تو نہیں آتا مگر شاید وہ بھی تو وزیراعظم رہ چکے ہیں اس پاکستان کے اور خود ق لیگ کے قبضہ چودھری؟ وہ خود بھی تو چوگ کے پیچھے جا سکتے ہیں اگر کسی مفاد کے نام پر انہوں نے زرداری کے ہاتھ پاﺅں مضبوط کرنے کے لئے کسی ایسے نام پر سمجھوتہ کر لیا تو؟ جو چوگ چننے کے لئے ”وردی ہے ایمان ہمارا“ کا نغمہ گا سکتے ہیں وہ اس مسلم لیگ سے علیحدہ کیوں نہیں ہو سکتے جو مسلمانوں کی جماعت تھی اور ہے؟