”غالب کو بُرا کہتے ہو‘ اچھا نہیں کرتے“

29 مارچ 2010
وعدے 73ءکے آئین کی بحالی کے کررہے تھے اور آئین کی اکھاڑ پچھاڑ کی کوششوں میں لگے ہوتے تھے‘ بحالی مقصود ہوتی تو مشرف آمریت کی جانب سے آئین کا حلیہ بگاڑنے والی جو شقیں اس میں شامل کی گئی تھیں‘ وہ پارلیمنٹ کے ذریعے آئین سے نکال باہر پھینکی جاتیں‘ اللہ اللہ خیرسلا۔ اس میں بھلا کتنی دیر لگنی تھی‘ بس ایک 17ویں آئینی ترمیم تھی جو اس آئین میں اضافی تھی اور اسی کی وجہ سے آئین کا وفاقی پارلیمانی جمہوری ڈھانچہ مطلق العنان صدارتی ڈھانچے میں تبدیل ہوا تھا‘ 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں دیئے گئے عوامی مینڈیٹ کا تقاضہ بھی یہی تھا اور اس مینڈیٹ کی روشنی میں اس وقت کی دونوں بڑی حلیف جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سربراہوں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے مابین بھوربن اور مری میں طے پانے والے معاہدوں کا مقصد بھی یہی تھا کہ مشرف نے 17ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جو آمرانہ اختیارات اپنی ذات میں سموئے تھے‘ وہ سب نکال کر آئین کو پاک صاف کردیا جائے اور اس کا وفاقی پارلیمانی جمہوری تشخص بحال کردیا جائے۔ اس کیلئے کتنا وقت درکار تھا؟ بس ایک پیرے پر مشتمل مسودہ آئین تیار کرکے منتخب پارلیمنٹ کے پہلے ہی اجلاس میں پیش کر دیا جاتا اور پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور دیگر حلیف جماعتوں کی مجموعی دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ اسکی منظوری کا مرحلہ طے کرلیا جاتا‘ اس طرح وزیراعظم سپیکر کا انتخاب عمل میں آنے سے پہلے پہلے پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو چکی ہوتی اور وزیراعظم کے چیف ایگزیکٹو والے سارے اختیارات بحال ہو چکے ہوتے اور انہیں منتخب ہونے کے بعد عدلیہ کے پابند سلاسل ججوں کو آزاد کرنے کا اعلان کرنے کے بعد انکی بحالی کے اعلان کیلئے ایک سال انتظار نہ کرنا پڑتا۔
اگر حکومت کے دو سال گزرنے کے باوجود پارلیمنٹ کی بحالی کی صورت میں چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کی بحالی کی اب تک نوبت نہیں آئی تو کیا اس تاخیر کے میاں نواز شریف ذمہ دار ہیں یا اسکے پس پردہ کچھ اور عوامل کار فرما ہیں؟ اگر خلوصِ نیت سے جائزہ لیا جائے تو نہ کسی کو سارا ملبہ میاں نواز شریف پر ڈالنے کی ضرورت محسوس ہو اور نہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کو میاں نواز شریف کوفون کرکے مجوزہ آئینی پیکیج کی منظوری میں تاخیر پر اپنی تشویش کا اظہار کرنا پڑے۔ ساری خرابی تو اس آئینی پیکیج کی ہی پیدا کردہ ہے جس کی بنیاد پر مقصد 1973ءکے آئین کی بحالی نہیں‘ اپنی من مرضی کی نئی آئینی شقیں ڈال کر آئین سازی کا شوق پورا کرنے اور اس آئینی ڈھانچے کا حصہ بنی آزاد اور خودمختار عدلیہ کی چولیں ہلانے کا تھا‘ چنانچہ حکومتی حلیف اے این پی نے بھی موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اس آئینی پیکیج کی منظوری کو سرحد کا نام پختونخوا رکھوانے کے ساتھ مشروط کر دیا اس طرح سرحد کے نام کی تبدیلی بھی اس آئینی پیکیج کا حصہ بن گئی۔
پھر جناب ملبہ ڈالنے کا شوق پورا کرنے اور سیاسی پوائنٹ سکور کرنے سے پہلے ذرا سوچئے تو سہی کہ 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کی راہ میں رکاوٹ کس نے پیدا کی ہے‘ یہ ترمیم تو پارلیمنٹ کے پہلے ہی اجلاس میں پلک جھپکتے میں ختم ہو سکتی تھی‘ سنہری موقع بھی موجود تھا‘ مگر سرخروئی کی یہ منزل اس لئے حاصل نہ ہو پائی کہ مقصد اس منزل کا حصول تھا ہی نہیں۔ 17ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنائے گئے آمرانہ جرنیلی صدارتی اختیارات دل کو بھا رہے تھے۔ نیت ان اختیارات کو اپنی ذات میں سموئے رکھنے کی بنی تو اس کیلئے کئی عذر پیش ہونے لگے۔ پس و پیش کی منظر کشی ہونے کی اور پھر نیت کا یہ فتور ایک متنازعہ آئینی پیکیج کی نوبت لے آیا تاکہ اس پر فساد کھڑا ہوا اور 17ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی نوبت نہ آئے۔ پھر جناب‘ آج سب کچھ کہانی کے سکرپٹ کے عین مطابق ہی تو ہو رہا ہے‘ بس تھوڑا سا منظر بدلا ہے‘ سکرپٹ کے مطابق مارا ماری آئینی پیکیج پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کرنے کے بعد ہونی شروع ہونی تھی مگر میاں نواز شریف پارلیمنٹ کے اجلاس سے پہلے ہی اسکی نوبت لے آئے اور اس طرح سارا ملبہ اپنی ذات پر ڈلوانے کے ساتھ ساتھ ولنوں کو ہیرو بننے کا موقع بھی فراہم کر دیا۔ بھولی بادشاہت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جوتیوں میں دال بٹنا تو طے شدہ تھا‘ اس لئے میاں نواز شریف کو دوسروں کی جانب سے سکرپٹ کے مطابق اپنے لئے متعین کردہ یہ ”کریڈٹ“ چھیننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ بے شک انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے پہلے ہی مجوزہ آئینی پیکیج پر اعتراضات اٹھا کر پارلیمنٹ کو ریسلنگ رنگ میں تبدیل ہونے سے بچا لیا ہے مگر اس سے 17ویں آئینی ترمیم ختم نہ کرنے کی نیت رکھنے والوں کو بیٹھے بٹھائے ہیرو بننے اور میاں نواز شریف پر آمریت کا ساتھی ہونے کا الزام دھرنے کا تو موقع مل گیا۔ اگر یہی لمحہ آئینی پیکیج پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد آیا ہوتا تو اس پیکیج کا انجام یقیناً یہی ہوتا مگر اس سے ولنوں کو ہیرو بننے کا موقع کبھی نہ مل پاتا اور ”نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ کا ڈائیلاگ ان ولنوں کے کردار ہی کا حصہ بنا رہتا۔ اب تو میاں نواز شریف کی زبان سے یہی ڈائیلاگ ادا کروایا جا سکتا ہے کہ....
غالب کو برا کہتے ہو‘ اچھا نہیں کرتے

مرزا غالب

مرزا غالب کی شاعری پر جو کچھ لکھا گیا ہے شاید ہی کسی اور تخلیق کار کے حصے میں ...