بجلی کا بحران‘ 4 ہزار چھوٹے یونٹ بند‘ 75 ہزار مزدور بیروزگارہو گئے

29 مارچ 2010
لاہور (ندیم بسرا سے/ نیوز رپورٹر) ملک میں جاری بجلی کے بحران کے باعث پاکستان کے صنعتی شعبے کو اس وقت روزانہ 25 کروڑ مالیت روپے کی پیداوار کی کمی کا سامنا ہے جس وجہ سے مارچ 2010ءمیں کروڑوں ڈالر مالیت کے ڈیڑھ ہزار سے زائد برآمدی ہدف پورے نہیں ہو سکے۔ بجلی نہ ہونے باعث ملک میں 125 بڑے اور ساڑھے چار ہزار سے زائد چھوٹے صنعتی اور کمرشل یونٹ بند ہوگئے ہیں۔ اکثر اداروں میں تین کے بجائے ایک شفٹ کام کر رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے 75 ہزار کے لگ بھگ کارکن بے روزگار ہوئے ہیں۔ صنعتکاروں اور ماہرین کے مطابق اب بھی کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو یہ منصوبہ چھ سے سات سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت بالواسطہ طور پر کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اس مقصد کےلئے تین بڑی بھارتی ڈونر ایجنسیاں پیسے خرچ کر رہی ہیں۔ واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی، پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے صدر انجینئر حسنین احمد نے کہا ہے کہ واپڈا نے گذشتہ آٹھ نو سال میں ایک بھی تھرمل یونٹ بنایا اور نہ ہی کوئی ایک میگاواٹ اپنے سسٹم میں شامل کیا۔ اس لئے کالاباغ ڈیم ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے۔ مقامی صنعتکاروں ملک منظور، شہزاد ملک، خواجہ خاور رشید، عبدالباسط اور عرفان قیصر شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر ملک کو بچانے کےلئے اقدامات کرے۔