کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر طاقت دکھا کر بھارت سے بات منوائی جائے: ہمایوں اختر

29 مارچ 2010
لاہور (خواجہ فرخ سعید سے) سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ہمخیال کے سیکرٹری جنرل ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ پانی کے مسئلے کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے، مسئلہ کشمیر سمیت پانی کا مسئلہ اچھے وکیلوں سے حل نہیں ہوگا، حکمران جھکی آنکھوں سے بھارت کے ساتھ بات نہ کریں، اپنی طاقت دکھا کر بات منوانا پڑے گی، 18ویں ترمیم پر نواز شریف نے یوٹرن کیوں لیا سمجھ سے باہر ہے، امریکہ پاکستان سٹریٹجک مذاکرات کے سلسلے مےں پاکستان نے کچھ ہوم ورک کیا ہے لیکن سیاستدانوں کی بجائے یہ ہوم ورک فوج نے کیا، ہمارے دور مےں گروتھ ریٹ 8 سے 10فیصد رہا اب گھٹ کر 2فیصد ہے، ہم آئی ایم ایف کے چنگل مےں پھنس چکے ہےں ہماری خواہش ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے مسلم لیگی دھڑے ایک ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر نوائے وقت کو دیئے گئے انٹرویو مےں کیا۔ ہمایوں اختر خان نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات کے مسلم لیگ ن کے سینئر ممبر اسحاق ڈار نے چند دن پہلے کہا کہ سارے معاملات طے پا گئے ہےں یکایک کیا ہوا؟ اس پر سب کو حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہا جا رہا ہے کہ چند دنوں مےں اٹھارہویں ترمیم پر اتفاق رائے ہو جائے گا، اچھا ہوگا۔ آئینی ترمیم ضروری ہے لیکن سیاستدانوں کو چاہئے کہ عوام کی پریشانیوں کی طرف بھی توجہ دیں، بے روزگاری، مہنگائی، تباہ امن و امان نے عوام کو بے حال کر دیا ہے لیکن بدقسمتی سے سیاستدان ان کے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے کا ایک تعلق بھارت کے ساتھ ہے اور دوسرا ہمارے اپنے ملک سے ہے کہ دریائے سندھ پر ڈیم بننا چاہئے لیکن حکمرانوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہےں جس کا برا اثر زراعت اور صنعتوں پر پڑ رہا ہے۔ غربت بڑھ رہی ہے لیکن حکمران بے حس ہو چکے ہےں ان کی نیت مسئلے حل کرنے کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت دور کرنی ہے تو پاکستان اپنی گروتھ تجارت کے ذریعے حاصل کرے اگر پاکستان کا گروتھ ریٹ 8 سے 10فیصد ہوگا تو بھارت کا مقابلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور مےں تجارت 8بلین ڈالر سے 20بلین ڈالر تک گئی جوکہ اب گھٹتے ہوئے 16بلین ڈالر تک آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 سے 10فیصد گروتھ کےلئے سالانہ تجارت 25فیصد بڑھنی چاہئے۔