منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو قابل سزا جرم قرار دیدیا گیا

29 مارچ 2010
اسلام آباد (آن لائن) انسداد منی لانڈرنگ بل کے تحت منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی مالی معاونت کو بھی قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے ، ملزموں کو کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کے ساتھ ساتھ فرد کی صورت میں کم سے کم دس لاکھ روپے اور کمپنی کی صورت میں کم سے کم پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی ۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پالیسی سازی اور اقدامات کیلئے وفاقی وزیر یا مشیر خزانہ کی سربراہی میں نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں وزرائے خارجہ، قانون و انصاف اور داخلہ ، گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن بھی شامل ہونگے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل 2007میں انسداد منی لانڈرنگ آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جسے اب بل کی شکل دی گئی ہے ، اس حوالے سے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 31مارچ تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے بعد پاکستان پر متعدد اقتصادی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، ایف اے ٹی ایف کا اعتراض تھا کہ عالمی ادارے آرڈیننس کو تسلیم نہیں کرتے پاکستان کو مستقل قانون سازی کرنا ہو گی تاکہ منی لانڈرنگ خصوصاً دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے پائیدار اور مستقل قانون موجود ہو ۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ہی دباﺅ پر بل میں منی لانڈرنگ کے ساتھ دہشت گردوں کی مالیاتی معاونت کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔ بل کے تحت ہر وہ شخص منی لانڈرنگ کا مرتکب سمجھا جائے گا جو غیر قانونی طریقے سے کوئی بھی کرنسی ملک کے اندر لائے یا باہر لیجائے گا قانون کے تحت وہ شخص یا کمپنی بھی مجرم تصور کی جائے گی جو کسی بھی طریقے سے دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہوں۔