جوڈیشل کمشن : حکومت نے نوازشریف کو اعتماد میں لیکر فیصلے کی یقین دہانی کرا دی‘ 72 گھنٹے میں اہم پیشرفت ہوگی

29 مارچ 2010
لاہور (سلمان غنی) حکومت نے جوڈیشل کمشن کی تشکیل کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کے تحفظات پر ان سے بالواسطہ رابطہ کرلیا ہے اور اس پر کسی بھی پیشرفت کیلئے انہیں اعتماد میں لیکر فیصلہ کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر نوازشریف کا کہنا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتے آئے ہیں اور اسے یقینی بنائینگے لیکن کسی شخص کو یہ اختیار دینے کیخلاف ہیں کہ وہ نامزدگیاں کرے اور بعدازاں یہ عمل عدالت و انصاف کے فیصلوں پر اثرانداز ہو۔ گزشتہ روز جوڈیشل کمشن کی تشکیل کیلئے اسلام آباد میں ہونیوالی پیشرفت کے حوالہ سے سنیٹر اسحاق ڈار لاہور آئے اور انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کو اعتماد میں لیا اور بتایا کہ حکومت ان کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہم جوڈیشل کمشن کی تشکیل کے ضمن میں کسی متفقہ فارمولا پر پہنچ سکتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ نوازشریف نے انہیں باور کرایا کہ جوڈیشل کمشن کی تشکیل میں عدلیہ کے تحفظات کا لحاظ ہونا چاہئے تاکہ آنیوالے حالات میں کوئی بھی آزاد عدلیہ کے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہوسکے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے غیرآئینی معاملات پر کسی پیشرفت کی ذمہ داری سنیٹر اسحاق ڈار کو اور پختونخواہ کے مسئلے پر اے این پی سے مذاکرات اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خاں کررہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اے این پی کی لیڈرشپ سے ہماری قیادت کے رابطے قائم ہیں اور آنیوالے دو چار روز میں صوبہ سرحد کے نام پر بھی اتفاق رائے ہوجائیگا۔ اس حوالہ سے دو تجاویز زیرغور ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کی علاقائی صورتحال کے حوالہ سے برطانوی سیکرٹری آف سٹیٹ سے بات چیت ضرور ہوئی اور یہ ٹیلیفون کال ان کی جانب سے تھی البتہ آئینی ترامیم کے حوالہ سے ان سے کوئی بات نہیں ہوئی اور ہم پاکستان کے سیاسی معاملات خصوصاً آئینی ترامیم کے حوالہ سے کسی بیرونی مداخلت کو اچھا نہیں سمجھتے۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم کے مسئلے پر ڈیڈلاک کی صورتحال نہیں بلکہ آنیوالے 72 گھنٹوں میں مذکورہ مسئلے پر واضح پیشرفت ہوگی ۔