A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

اورکزئی‘ پشاور : شیلنگ‘ جھڑپیں 22 شدت پسند جاں بحق‘ سی ڈیز سنٹر میں بم دھماکہ‘ 5 زخمی

29 مارچ 2010
اورکزئی ایجنسی/ پشاور (ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی شیلنگ اور جھڑپوں میں 22شدت پسند جاں بحق ہو گئے‘ شدت پسندوں کی تین گاڑیاں اور 5 بنکر تباہ کر دئیے گئے‘ ایک اہلکار بھی زخمی ہو گیا۔ فورسز نے متعدد علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ پشاور میں بم دھماکے سے سی ڈیز سنٹر تباہ ہو گیا جبکہ 5 افراد زخمی ہو گئے۔ نوشہرہ میں آپریشن کے دوران 60 لاکھ سر کی قیمت والے تحریک طالبان سوات کے انتہائی مطلوب کمانڈر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے علاقوں چھیری اور فیروزخیل میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے 10شدت پسند جاں بحق اور 12زخمی ہو گئے۔ جھڑپ میں 9 عسکریت پسند مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے ہیڈکوارٹر کلایہ‘ انجانی‘ خواجہ خضر‘ ستوری خیل خشمت خان کلے اور فیروز خیل کے بعض علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ مختلف علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی شروع ہے۔ چارسدہ کے علاقے نیستہ سے شانگلہ کے اہم شدت پسند کمانڈر محمد حسین عرف باچا کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر سوات کے علاقے بیش بڑل میں اہم شدت پسند کمانڈر اشرف نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔ دوسری جانب منگلور سے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پشاور میں بم دھماکہ بلال مارکیٹ میں ہوا۔ نجی ٹی وی نے بتایا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا‘ بارودی مواد ایک تھیلے میں دکان کے کاﺅنٹر پر رکھا گیا تھا۔ ادھر ایک سینئر پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ بم سی ڈی کی دکان کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے سے سی ڈیز سنٹر کے قریب واقع دو دکانوں کو بھی معمولی نقصان ہوا۔ ادھر اورکزئی میں کلایہ ہیڈکوارٹر پر نامعلوم سمت سے 3 میزائل فائر کئے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے اہم گڑھ گیدڑا کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ علاقہ 6 سال سے شدت پسندوں کا اہم گڑھ تھا۔ ادھر اورکزئی میں دو شدت پسند گروہوں کے درمیان تصادم سے کمانڈر سمیت 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔