آئینی اصلاحات پر ڈیڈ لاک دور کرنے کیلئے نئی صف بندیاں ۔۔۔ پختونخوا کے بغیر کوئی نام قبول نہیں : اے این پی

29 مارچ 2010
اسلام آباد + پشاور (وقائع نگار خصوصی + بیورو رپورٹ + ایجنسیاں) عدالتی کمشن کی تشکیل اور صوبہ سرحد کے نام پر پائے جانے والے اختلافات کے باعث آئینی اصلاحات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے جسے دور کرنے کیلئے نئی صف بندیاں شوع ہو گئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو تجویز پیش کی ہے کہ عدالتی کمشن میں 3 اور 2 کے تناسب سے ارکان کی نامزدگی کی جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو 3 ارکان جبکہ حکومت کو 2 ارکان نامزد کرنے کا اختیار دیا جائے۔ وزیراعظم نے ابھی تک نوازشریف کو اس بارے میں جواب نہیں دیا۔ وزیراعظم گیلانی اور میاں نوازشریف کی جانب سے باہم ملاقات کا عندیہ دیا گیا ہے تاہم ابھی تک دونوں جانب سے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ رابطہ قائم نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف نے وزیراعظم کو اعلٰی عدلیہ کو نظرانداز کر کے جوڈیشل کمشن قائم کرنے کے مضمرات سے آگاہ کیا اور انہیں پارلیمنٹ میں 18 ویں آئینی ترمیم لانے سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کا نام خیبرپختونخوا یا اباسین افغانیہ رکھنے کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ سرحد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صوبے کا نام پختونخوا رکھنے کی شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما عبدالسبحان نے سرحد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف کو یادداشت پیش کی ہے اس یادداشت میں سرحد کا نام پختونخواہ یا پختونستان رکھنے کے بارے میں پارٹی کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پارٹی کے قائد کو باور کرایا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے سرحد کانام پختونخوا ر کھنے کی تجویز قبول کرلی اور اپنے آپ کو اے این پی کے پاس یرغمال بنا لیا تو پھر سرحد میں مسلم لیگ (ن) کو بھول جائیں۔ سینئر مسلم لیگی رہنما نے نوائے وقت کو بتایا کہ سرحد کے نام پر کوئی اتفاق رائے ہوئے بغیر دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔ اے این پی کی قیادت نے 18 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کو سرحد کا نام پختونخوا رکھنے سے مشروط کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ سرحد کا نام رکھنے پر کوئی تنازعہ نہیں بحث چل رہی ہے تاہم انہوں نے بھی سرحد کا نام خیبر افغانیہ یا اباسین افغانیہ رکھنے کی حمایت کی۔ سرحد کے نام کی تبدیلی پر مسلم لیگ ن اور اے این پی کے درمیان حالیہ رابطے کچھ زیادہ نتیجہ خیز نہ ہونے کی بنیاد پر حکمران اتحاد نئی پارلیمانی صف بندی کی جانب پیشرفت کر رہا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی کی قیادت میں قائم کمیٹی کے اب تک 76 اجلاس ہو چکے ہیں اس کے باوجود مسلم لیگ ن اور اے این پی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔ بدلتی صورتحال میں آئینی پیکج کی منظوری کے متبادل راستے بھی تلاش کئے جا رہے ہیں۔ یہ سوچ سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ ن راضی نہ ہو تو دوسری جماعتوں کے اعتماد کے ساتھ مجوزہ ترامیم کو قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور کرا لیا جائے اس کے لئے 228 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ دیگر اطلاعات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ اور قانونی ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ عدالتی کمشن اور صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی پر مسلم لیگ ن کے تحفظات آئندہ ہفتے کے اوائل میں دور کر لئے جائینگے۔ پیر کو اے این پی اور ق لیگ کے درمیان اہم ملاقات بھی ہو رہی ہے۔ صوبہ سرحد کے سینئر وزیر اور اے این پی کے پارلیمانی لیڈر بشیر بلور نے کہا کہ ملکی تاریخ کے نازک مرحلے پر مسلم لیگ ن کے منفی اور غیر مفاہمانہ رویہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کا نام پختونخوا ہی ہو گا ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اب جمہوری حق سے اتفاق نہ کیا تو 18 ویں ترمیم پر دستخط نہیں کرینگے جس کی ذمہ داری لیگیوں پر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف چند نادیدہ مصلحتوں کی خاطر پرانے اتحادیوں کو نظرانداز کرنے کی روش ختم کریں۔ اے این پی کے سینئر نائب صدر سینیٹر حاجی عدیل نے کہا ہے کہ پختونخوا کے سوا صوبہ سرحد کا کوئی دوسرا نام قبول نہیں کیا جائے گا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اباسین پختونخوا اور خیبر پختونخوا کو تو تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن لفظ پختونخوا کے بغیر کسی نام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نوازشریف نے خود پختونخوا خیبر کی تجویز دی تھی مگر اب وہ اپنے موقف پر قائم نہیں رہے۔ پختونخوا کا مطالبہ 14 میں سے 12 پارلیمانی پارٹیاں اور پوری قوم کر رہی ہے۔ اے این پی کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ امید ہے مسلم لیگ (ن) سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کرے گی اور صوبے کے نام کی تبدیلی کو ایشو نہیں بنائے گی۔ ”اے پی پی “ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے نقشے میں پختونوں کا نام کٹوانے کی بات نہیں کی بلکہ شامل کرنے کی بات کی ہے، جس طرح پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے نام پر ہمیں اعتراض نہیں ہے اسی طرح دوسروں کو بھی صوبہ سرحد کا نام پختونخوا ہونے پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ پختون پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن مسلم لیگ (ن) کی ضد سے ملک میں جمہوری عمل کو نقصان ہوگا۔ پختونخوا نام صوبہ سرحد کے عوام کا حق ہے، مسلم لیگ (ن) اپنی ضد پر قائم رہی تو پھر 17 ویں ترمیم کا خاتمہ بھی نہیں ہو سکے گا اور 18ویں ترمیم بھی پیش نہیں کی جا سکے گی، خود مسلم لیگ (ن) کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی، پہلے ہی مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے عوامی نیشنل پارٹی کی نمائندگی تینوں صوبوں اور وفاق میں موجود ہے اور یہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات کا معاملہ 31 مارچ تک حل ہو جائےگا اور صوبے کے نام سمیت تمام تنازعات طے ہوجائیںگے۔ ڈاگ اسماعیل خیل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئینی اصلاحات کے معاملے پر سخت بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اور مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ڈیڈ لاک ختم کرائیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اقبال ظفرجھگڑا نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن میں سرحد کا نام افغانیہ رکھنے پر آمادگی پائی جاتی ہے نام بدلنے کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ نام خیبر پختونخواہ یا اباسین افغانیہ ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما صدیق الفاروق نے کہا کہ اے این پی ضد نہ کرے مل بیٹھ کر معاملات حل کر لیں گے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان ملاقات میں معاملہ طے پا جائے گا۔ اے این پی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلی پیر صابر شاہ نے کہا کہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے بارے میں قیادت پر دباﺅ نہیں ڈال رہے۔ حقوق کے حصول کے لئے جمہوری طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ر ہنما سردار یعقوب ناصر نے کہا ہے کہ اے این پی کو پختونخوا پر سیاست چمکانے کی بجائے دوراندیشی کے ساتھ باریک بینی سے معاملات کو دیکھنا ہو گا۔ وزیراعلی صوبہ سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے پاکستان مسلم لیگ ق صوبہ سرحد کے صدر انجینئر امیر مقام کو ٹیلی فون کیا اور صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے بات چیت کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا نمائندہ جرگہ پیر کے روز اسلام آباد میں پارٹی کے مرکزی صدر چودھری شجاعت حسین اور سرحد کے صدر انجینئر امیر مقام سے ملاقات کرے گا جس میں صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...