لاہور : برتھ سرٹیفکیٹ کے اجراءکی مفت سہولیات ختم،من مانی فیسوں کی وصولی

29 مارچ 2010
لاہور (خبر نگار) لاہور کی 150یونین کونسلوں میں تعینات عملے نے برتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا لیا۔ ناظمین کی رخصتی کے بعد ”خود مختار عملے“ نے اپنی من مانی فیسیں وصول کرنا شروع کر دیں۔ بچے کی پیدائش سے 60دن تک بچے کی پیدائش کا اندراج مفت ہوتا ہے مگر ان 60 دنوں کے دوران بھی 150سے 300روپے فیس وصول کی جاتی ہے قانون کے تحت 60دن کے بعد100روپے 150دن کے بعد 200روپے،210دن کے بعد 250اور ایک سال کی عمر سے کسی بھی عمر کے بچے یا نوجوان کے برتھ سرٹیفکیٹ کو بنانے کے 300روپے سے زائد وصول نہیں کئے جا سکتے مگر یونین51دفتر واقع(جلو موڑ غلہ منڈی) میں تعینات عملے نے گزشتہ دنوں نومولود بچے کی ایک ہفتے کے اندر رجسٹریشن کروانے کے 150 روپے وصول کئے اور اب 5 سے 16برس کے 4 بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ بنانے کے 1200روپے کی بجائے 1800روپے مانگے جارہے ہیں۔ جس میں 150روپیہ فی بچہ” نادرا“ کے نام پر مانگا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں لاہور کی دیگر یونین کونسلوں کا سروے کیا گیا تو پتہ چلا کہ کسی جگہ پر15سال یا اسی عمر کے کسی بچے کی رجسٹریشن کرائی جائے تو50سے روزانہ کے حساب سے جرمانہ مانگا جاتا ہے اسی طرح1000 سے 2000تک وصول کیا جاتا ہے۔