معاشرے کی بقاءکیلئے انصاف کا ہونا ضروری ہے: جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد

29 مارچ 2010
لاہور (سٹاف رپورٹر) سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ( ر ) ناصر اسلم زاہد نے کہا ہے کہ پی ایل آئی کو پروان چڑھانے سے پہلے عدلیہ خود کو مضبوط کرے اور اسکے بعد معاشرے کو سماجی و معاشی انصاف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ جن معاشروں میں انصاف نہیں ہوتا وہاں سے اللہ کی رحمت اُٹھ جاتی ہے لٰہذا کسی بھی معاشرے کی بقاءکے لئے انصاف کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ”مفاد عامہ کی قانون سازی کی اہمیت (SCOPE OF PUBLIC INTEREST LITIGATION)“ کے موضوع پر ہونے والے سیمےنار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے پاکستان کے دورے پر آئے بھارتی سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ پر شانت بھوشن، جسٹس ( ر ) طارق محمود، عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی اور منصور حسن نے خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض معروف صحافی غازی صلاح الدین نے ادا کئے۔ سیمینار میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے رہنماﺅں اور میڈیا کی اہم شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ( ر ) ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ عدلیہ پی ایل آئی کو کورٹس تک محدود رکھے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشری کو ججوں کی تعداد بڑھانے پر زور دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ججوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی تربیت بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں حوالہ کیس سے شہرت حاصل کرنے والے بھارتی سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ شری پرشانت بھوشن نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے عدالتی تجربات سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور آزاد عدلیہ پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے مگر کوئی ایسا ادارہ بھی ہونا چاہئے جس کے سامنے جج جوابدہ ہوں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہمارے خطے میں انصاف بحران کا شکار ہے۔ جسٹس ( ر ) طارق محمود نے کہا کہ عدالت کے سامنے جب کوئی مسئلہ لایا جائے تو وہ مسئلے کو دیکھے مسئلہ لانے والے کی شکل کو نہ دیکھے۔حنا جیلانی نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لئے جوڈیشل ایکٹو ازم ضروری ہے۔ منصور حسن ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارا جوڈیشل سسٹم ٹینشن کا شکار ہے اور ہمارا قانونی نظام ابھی تک19ویں صدی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔