پاکستان بنانے میں مشائخ عظام کا کردار قابل ستائش ہے: مجید نظامی

29 مارچ 2010
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) چیف ایڈیٹر نوائے وقت جناب مجید نظامی نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو حاصل کرنے میں مشائخ عظام کا کردار قابل ستائش ہے جس طرح پاکستان حاصل کرنے میں مشائخ عظام نے تائید ایزدی سے مسلمانوں کے ایمان اور وطن کی حفاظت فرمائی اسی طرح آج اس وطن عزیز کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت غیر مسلم قوتیں عالم اسلام بالخصوص پاکستان کےخلاف متحد ہوچکی ہیں۔ مجید نظامی نے ان خیالات کا اظہار غوث اعظم کانفرنس کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ غوث اعظم کانفرنس کا انعقاد گولڑہ شریف میں کیا جا رہا ہے۔ مجید نظامی نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ درگاہ عالیہ گولڑہ شریف پر دو روزہ غوث الاعظمؓ کانفرنس کے موقع پر میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کار خیر میں شامل ہو کر دنیا و مافیہا اور عقبٰی و مافیہا کی بھلائی حاصل کرسکوں‘ جس طرح بر صغیر پاک و ہند میں عالم اسلام کے حوالے سے قبلہ سیدنا پیر مہر علی شاہ صاحب گیلانیؒ کا کردار ان باطل قوتوں کےخلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا سا تھا۔ اسی طرح آپؒ کے فرزند ارجمند حضرت سیدنا پیر غلام محی الدین بابوجیؒ نے والد محترم کا مشن جاری رکھا اور آج کے دور میں قبلہ حضور پیر سیدنا شاہ عبدالحق گیلانی سجادہ نشین درگاہ عالیہ گولڑہ شریف دکھی انسانیت کی خدمت اور ملک پاکستان کی سلامتی‘ اتحاد بین المسلمین کے فروغ کےلئے شب و روز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ حالات کا حل صرف اور صرف صوفیائے کرام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میںمنحصر ہے دعا ہے کہ اﷲ تعالٰی ہم سب کو صوفیائے کرام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ غوث اعظم کانفرنس کے موقع پر پیر صاحب گولڑہ شریف سید غلام معین الحق گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیدنا شیخ ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی غوث اعظمؓ نے اپنے نانا کریم کے دین پر کماحقہ عمل کرکے دکھلایا۔ اس راہ میں ہر آزمائش کو نہایت خندہ پیشانی سے برداشت فرمایا۔ آنےوالی نسلوں کےلئے دین کا راستہ روشن کردیا۔ حق پرستی‘ باہمی اخوت و محبت اور انسانی عظمت کا درس دیا۔ آپؓ کی تعلیمات سے انسان کو اپنے نفس کی سرکشی‘ عقل کے پیدا کردہ وسوسوں‘ حرص و طمع‘ تنگ نظری شدت پسندی اور ظلم کے خلاف بھرپور جدوجہد کرنے کا سبق ملتا ہے۔