سٹریٹجک مذاکرات انتہائی کامیاب رہے‘ دہشت گردی کیخلاف پاکستانی اقدامات سے مطمئن ہیں : امریکہ

29 مارچ 2010
واشنگٹن (اے پی پی + آن لائن) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ انتہائی کامیاب رہے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات سے مطمئن ہےں، باہمی دلچسپی اور عزت و احترام کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مزید فروغ دینے کےلئے سٹریٹجک ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ پی جے کرولے نے گزشتہ روز اخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے رواں ہفتے پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دونوں ملکوں کے وزراءخارجہ کے درمیان بات چیت کے دوران جوہری توانائی سے متعلق پاکستان کی درخواست بھی زیر بحث لائی گئی۔ امریکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین باہمی تعاون کے لئے سیکٹروں کی تعداد چار سے بڑھا کر دس کردی گئی۔ پی جے کرولے نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر مذاکرات جاری رکھنے کے لئے سیکرٹری رواں سال پھر پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے معاملات پر تعاون جاری رکھے گا ہم پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے نہایت مطمئن ہیں۔ دریں اثناءنائب امریکی وزیر دفاع مائیکل فلورنی نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بھارت نہیں بلکہ طالبان اس کی سلامتی کے لئے حقیقی خطرہ ہیں۔پی بی اےس کوبتاےا کہ پاکستان اور امریکہ کے سٹرٹیجک ڈائیلاگ میں پاکستان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بھارت کے مقابلے میں طالبان اس کے لئے بڑا اور حقیقی خطرہ ہےں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے لئے ایک انتہائی حقیقی اہم ملک ہے لہٰذا اسلام آباد کو حقانی نیٹ ورک جیسے گروپوں کا تعاقب کرنا چاہیے۔ دریں اثناءامریکہ نے سکیورٹی کی صورتحال کو بہانہ بناتے ہوئے قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زون میں قیام کی بجائے پاکستان کو آزاد تجارت کے معاہدے کی پیشکش کر دی ہے اور اس حوالے سے کانگریس مین ڈیوڈ پرائس کی سربراہی میں ایک وفد 30 مارچ کو اسلام آباد بھی پہنچ رہا ہے جو کہ پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لے گا۔ وفد پاکستان، امریکہ آزاد تجارت معاہدے سے متعلق امور پر بھی بات چیت کرے گا اور اس بات پر زوردے گا کہ پاکستان آزاد تجارت کے معاہدے کو قبول کر لے اور قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زونز کا اپنا دیرینہ مطالبہ واپس لے لے۔