افغان سرحد کے آر پار کامیابی کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتے‘ طالبان کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تعاون چاہئے : اوباما

29 مارچ 2010
افغان سرحد کے آر پار کامیابی کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتے‘ طالبان کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تعاون چاہئے : اوباما
کابل (رائٹرز + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ طالبان کے خاتمے کے لئے پاکستان کا تعاون چاہئے ۔ افغان سرحد کے آر پار کامیابی کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے ۔ غربت سے پاکستان ، افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز پھیلیں گے۔ دہشت گرد اب پاکستان سے بھاگ رہے ہیں۔ وہ غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچنے کے بعد بگرام ائرپورٹ پر امریکی فوجیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اتحادی افواج غیر معمولی کام کر رہی ہیں امریکی اور افغان عوام کو دہشت گردوں سے خطرات ہیں۔ افغان فورسز طالبان مخالف جنگ میں بہتر کردار ادا کر رہے ہیں القاعدہ اور طالبان صرف امریکہ کے نہیں ہم سب کے دشمن ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف امریکہ کی نہیں پوری دنیا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن البیون کے مرکزی ملزم اب بھی خطے میں موجود ہیں۔ پاکستان افغانستان میں غربت سے دہشت گردی کے مراکز پھیلیں گے۔ ہمارا مشن القاعدہ سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ افغان جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کی ہرممکن مدد کی جائے گی اگر طالبان دوبارہ قابض ہو گئے تو افغان عوام ترقی کا موقع ضائع کر دیں گے۔ ہم افغان سرحد کے دونوں طرف کامیابی حاصل کئے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے ۔ افغان حکومت اور فوج کو اتنا مضبوط بنانا چاہتے ہیں کہ وہ خود طالبان کا مقابلہ کر سکیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہیں۔ دہشت گرد پاکستان سے بھاگ رہے ہیں امریکہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے طالبان کے خاتمے کے لئے پاکستان کا تعاون چاہتے ہیں۔ دریں اثنا صدر حامد کرزئی کو صدر اوباما کے دورے سے ایک گھنٹہ قبل آگاہ کیا گیا تھا۔ صدر اوباما بگرام ائربیس سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کابل پہنچے۔ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اوباما کا یہ پہلا افغانستان کا دورہ ہے۔ افغان صدر کرزئی سے ملاقات میں امریکی صدر بارک اوباما نے زور دیا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے ساتھ اپنی حکومت کی گورننس میں بہتری لائی جائے۔ کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی مختصر ملاقات میں امریکی صدر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغان حکومت کے حالیہ عسکری اقدامات کو سراہا اور زمینی حالات کو حکومت کے حق میں مزید بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے افغان صدر سے ڈومور کا مطالبہ بھی کیا۔ اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں تعمیرنو اور بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی افغانستان اپنے سکیورٹی مسائل کی خود دیکھ بھال کے قابل ہو جائے گا۔ دریں اثنا جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈی میزیری بھی افغانستان پہنچ گئے جہاں وہ افغان حکام سے افغان افواج کو تربیت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزیر داخلہ دورہ افغانستان میں افغان صدر حامد کرزئی‘ افغان ہم منصب محمد حنیف اتر اور جنرل سٹینلے میک کرسٹل کے علاوہ یورپی یونین کے پولیس مشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔