امریکہ کی نئی سیاست کے مقاصد کیا ہیں ؟

29 مارچ 2010
چیئرمین ماوزے تنگ نے کہا تھا کہ ”جنگ سیاست کی راہ سے رکاوٹیں دورکرنے کے لیے چھڑ جاتی ہے اور جب اس کی راہ سے رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اور سیاست کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو جنگ بند ہو جاتی ہے“ ۔۔ آج ہر پاکستانی یہ تسلیم کرتا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں ۔۔ پاکستان بننے کے مرحلے میں بھی ہم جنگ کی حالت سے گزرے تھے ۔۔۔ کیونکہ ہمیں اپنا ملک اور اپنا تشخص درکار تھا ۔۔۔ پاکستان بن جانے کے بعد کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ ہماری جنگیں ہوئیں اور یہ جنگیں انصاف کے حصول کے لیے تھیں مگر اب یہ جنگ کس کی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔۔۔ کون لوگ ہیں؟ کہ جو پاکستان کے ترقی کرتے کرتے ایٹمی طاقت بن جانے کے مرحلے کو اپنے لیے رکاوٹ تصور کرتے ہیں اور پھر یہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ انگریزوں اور ہندووں سے علیحدہ ہو کر آگے بڑھنے والا ملک ہمارے مدمقابل آ کر مضبوط ہوتا چلا جا رہا ہے ۔۔۔ اور پھر کن کے مفادات یہ کہتے ہیں کہ جنگ چھیڑ دی جائے ایک ایسی طویل جنگ کہ جس کی وجہ سے ملک اندرونی طور پر موجود مسائل کے حل اور معیشت کو مضبوط بنانے کے سلسلوں پر توجہ نہ دے سکے ۔۔۔ بلکہ سرحدی مسائل اور تخریب کاری کے خاتمے کے نام پر طویل جنگ میں بھی الجھا رہے ۔۔ پھر سوال یہ ہے کہ کن لوگوں کے سیاسی مقاصد پورے ہو جائیں گے تو یہ جنگ بند ہو سکے گی؟ ۔۔۔ ان سوالات کے جوابات سے پہلے ذرا تازہ ترین تصویر ملاحظہ فرمائیے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود اور جنرل کیانی امریکی نائب صدر اور مشیر نیشنل سیکورٹی کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں اور پاکستان کی ضروریات پر بات ہوتی ہے یا پھر افغانستان کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات پر بات کی جاتی ہے اور پھر اس بات چیت کے ساتھ ہی دفتر خارجہ کے ترجمان کا ایک بیان سامنے آجاتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے اور دونوں ممالک تعلقات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں ۔۔ اور ان ساری باتوں کے جواب میں امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا تازہ ترین فرمان پڑھنا ضروری ہے کہ امریکہ ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرتا رہے گا اور پاکستان میں اس کا استعمال کامیاب رہا ہے اور پھر رابرٹ گیٹس نے یہ بھی کہہ دیا کہ ایران افغانستان میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے ۔۔ اور یوں یہ لوگ اپنی سیاست کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے افغانستان ‘ ایران اور پاکستان کو آپس میں بھی لڑوانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف پہلے سے چھیڑی ہوئی جنگ میں بھی ہمیں موجود رکھنا چاہتے ہیں ۔۔ ایسی جنگیں سیاست کا مقصد پورا ہونے پر ہی ختم ہوا کرتی ہیں ۔۔ ان کی دنیا بھر میں پھیلائی ہوئی اور وہ بھی خصوصاً مسلمانوں کے لیے پھیلائی گئی جنگ اور پھر اس کا خاتمہ تو نہ جانے کب ہوگا مگر ہمیں خوش کن مذاکرات اور پھر امریکہ کے ان مذاکرات سے ہٹ کر اپنی پالیسیوں پر چلنے کی سیاست کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔۔۔ کیونکہ ہمارے لیڈر بڑے خوش فہم قسم کے لیڈر ہیں ۔۔ بڑی جلدی خوشخبریاں بانٹ کر سیاست چمکانے کے موڈ میں آجاتے ہیں اور اسی وجہ سے تلخ حقائق پر نظر رکھنا نہیں چاہتے ۔۔۔ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر قوموں اور ملکوں کو گندی سیاست اور جنگ میں جھونک دینے والے حالات سے بچانے کے لیے سچ کے کڑوے گھونٹ بھر کر ہی کوئی پالیسی مرتب کی جا سکتی ہے ایسی پالیسی کہ جو خوش فہمیوں سے نکال کر ملک وقوم کے استحکام کے لیے ضروری ہو ۔۔۔ کیونکہ امریکہ کبھی بھی دہشت گردی میں اسرائیل اور بھارت کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں کرتا اور اب اسی نے ایران کو افغانستان کی دہشت گردی میں ملوث کر دیا ہے جبکہ ہمارے وزیر داخلہ رحمان ملک بھی کہہ چکے ہیں کہ بیرونی ہاتھوں کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں ۔۔۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ان غیر ملکی ہاتھوں میں بھارت بھی شامل ہے ایسے میں جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگٹی کے تازہ ترین بیان پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ”را“ بلوچستان میں کافی ایکٹو ہو چکی ہے ۔۔۔ ماوزے تنگ نے کہا تھا کہ ” جنگ سیاست کی راہ سے رکاوٹیں دورکرنے کے لیے چھیڑی جاتی ہے“ ۔۔۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اپنی جگہ مگر یہ سچ ہے کہ وہ دنیا بھرکے مسلمانوں کے خلاف اپنی پھیلائی ہوئی سیاست سے رکاوٹیں دور کر رہا ہے....!اپنا خیال رکھئیے گا !