اب گجرات الیکشن کے نتیجہ پر ”مٹی پاو“

29 مارچ 2010
جاوید ہاشمی لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی ٹریفک کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ہمیں تو ان کے دعویٰ میں فخر سے زیادہ بھولپن ہی نظر آیا۔ جس معاشرے میں جعلی تعلیمی ڈگری پر رائی برابر شرم محسوس نہ کی جائے‘ وہاں آپ قانون کی پابندی ایسے دعوے پر بھلا اور کیا تبصرہ کر سکتے ہیں۔ گجرات کے صوبائی حلقہ 111 سے 2008 کے الیکشن میں حاجی ناصر کامیاب ہوئے تھے۔ اس سیاسی کارکن نے گجرات کے چوہدریوں کو عبرتناک شکست دی تھی۔ ان دنوں لال مسجد کے شہداءکے والی وارثوں کی سسکیوں سے فضا بوجھل تھی۔ پھر مشرف کو وردی میں بیسیوں بار منتخب کروانے کے دعوے بھی یار لوگوں کے کانوں میں ابھی گونج رہے تھے۔ حاجی ناصر بی اے پاس نہیں تھے لیکن وہ بڑے ٹھسے سے بی اے پاس بن بیٹھے۔ بات ننگی ہو گئی۔ اس ”بہادر“ آدمی نے پوری ڈھٹائی سے سپریم کورٹ تک مزاحمت کی۔ پنڈی والے حاجی پرویز بڑے بدقسمت واقع ہوئے ان کی جگہ کمرہ امتحان میں کوئی اور بیٹھ گیا اور رنگے ہاتھوں پکڑا بھی گیا۔ ”بااصول“ ن لیگ نے حاجی پرویز خان سے استعفیٰ طلب کر لیا‘ سیٹ خالی ہو گئی پھر ان کے کسی دور پار کے رشتے دار کو بھی ٹکٹ نہ مل سکا۔ گجرات میں ن لیگ کی ہائی کمان نے انتخابی ٹکٹ دوبارہ حاجی ناصر کی جھولی میں لا ڈالا۔ اب ضمنی انتخاب میں ان کے بھتیجے امیدوار تھے۔ دراصل الیکشن حاجی ناصر ہی لڑ رہے تھے۔ جعلی ڈگری رات گئی بات گئی ہو گئی۔ یہ باشرع پرہیزگار سے آدمی اپنے اس جرم پر قطعاً شرمندہ نظر نہیں آئے۔ مرحوم دریائے چناب کے کنارے عجب معرکہ تھا۔ بھٹو‘ بینظیر‘ زرداری‘ بلاول‘ نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی تصویریں من تو شدم تو من شدی کا منظر نامہ پیش کر رہی تھیں۔ بھٹو کے جیالوں کو چوہدری ظہور الٰہی کے جنرل ضیاءالحق سے قلم لینے والا واقعہ بھولتا ہی نہیں۔ دونوں پارٹیوں نے پوری قوت سے گجرات کے چوہدریوں کا مقابلہ کیا لیکن اب حالات بہت بدل چکے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کائرہ نے اخبارات کے لئے ایک مضمون لکھا ہے کہ جمہوریت آپ کے لئے کیا کر سکتی ہے؟ آنجناب اس میں لکھتے ہیں ”غالب نے شاید جمہوریت کے بارے میں لکھا تھا ....
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب ...... دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک
جمہوریت بہت صبر طلب کام ہے اور خون جگر تو لگتا ہے صاحب ۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمہوریت کی بھینٹ چڑھانے کے لئے خالص عوام کا ہی خونِ جگر درکار ہے؟ جمہوریت میں بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنے والے لیڈروں کے لئے بس مزے ہیں اور پھر کیا جمہوریت ایک مذہبی فریضہ ہے اور اس کا اجر اس دنیا کی بجائے اگلے جہان میسر آئے گا۔ اب لوگ جمہوریت اور آمریت کا مقابلہ اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں سے کرتے ہیں۔ مشرف دور کا 13 روپے کلو والا آٹا اب جمہوری دور میں 35 روپے کلو ہو چکا ہے۔ چینی 21 روپے کلو سے 65 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔ دودھ کی قیمت آمریت میں 32 روپے کلو تھی جو اب جمہوری دور میں 48 روپے کلو ہو چکی ہے۔ وزیراعظم گیلانی بلا جھجک اعلان فرما رہے ہیں کہ غربت‘ بھوک اور بجلی کی قلت جیسے مسائل حل کرنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ پرویز اشرف نے بجلی میں کمی پر کنٹرول میں پانچ برس لگ سکنے کی خوشخبری سنا دی ہے۔ بجلی اور گیس کی کمی کے باعث کارخانے بند ہیں۔ بیروزگاری آمریت کے دور کی نسبت جمہوری دور میں بہت بڑھ چکی ہے۔ ادھر گجرات کے چوہدری گجرات کے گلی کوچوں میں پھیل گئے۔ گھر گھر‘ گلی گلی ہاتھ جوڑے گئے‘ منت سماجت‘ ترلے‘ معافی تلافی آخرکار پتھر دل بھی موم ہو جایا کرتے ہیں۔ ضمنی انتخاب لاہور اور گجرات کے درمیان مقابلہ بن گیا۔ ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ انتہائی دیانتدار اور اہل افسر ہیں۔ پولنگ کے روز تین بجے تک ق لیگ کو پولیس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ پولیس کا غیر جانبدارانہ کردار سراہا جا رہا تھا۔ پھر ڈی آئی جی کا مسلک رندانہ تو ضرور قائم رہا لیکن بقول سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ‘ معاملات دیگر سرکاری قوتوں نے سنبھال لئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر الیکشن لڑ رہی تھیں۔ اب چوہدری پرویز الٰہی دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔ وہ چھ سو ووٹوں سے الیکشن جیتنے کے دعویدار ہیں۔ وہ ایک عرصہ تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ کوئی حکومت ضمنی انتخاب میں شکست کی متحمل نہیں ہوا کرتی۔ پھر کسی بھی حکومت کے لئے دو تین ہزار ووٹوں کا فرق نکالنا کوئی مشکل کام نہیں۔ بہرحال ن لیگ تین ہزار تین سو پانچ ووٹوں سے جیت گئی۔ گجرات میں ق لیگ کے مُردے میں جان پڑ گئی ہے۔ بعض اوقات فتح بھی آبرو مندانہ نہیں ہوتی۔ کبھی شکست بھی عزت میں اضافے کا باعث بن جایا کرتی ہے۔ اس ہار میں چوہدریوں نے خاصی عزت سمیٹ لی ہے۔ اب مشورہ اسحاق ڈار کا ہی درست نظر آ رہا ہے جو انہوں نے پرسوں سینٹ میں چوہدری شجاعت حسین کو دیا تھا کہ ”اب گجرات الیکشن کے نتیجے پر مٹی پاو“ ۔!