مسائل سازی اور سیاست بازی

29 مارچ 2010
زوال ہو یا عروج‘ دونوں کا کوئی نہ کوئی فارمولا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایک لگے بندھے فارمولے کے تحت 62 برسوں سے پہلے مسائل پیدا کئے جاتے ہیں‘ پھر ان پر سیاست نہیں سیاست بازی کی جاتی ہے جس کے عناصر جوئے سے ملتے جلتے ہیں‘ مگر اس جوئے کی یہ خصوصیت ہے کہ لیڈرز جیت جاتے ہیں اور قوم ہار جاتی ہے‘ اس جوا خانے کو کوئی بند کرنے والا نہی‘ اِلا یہ کہ قوم میں سے کوئی مردِ قلندر اُٹھے جو سیاستدان ہو سیاست باز نہ ہو‘ صرف یہی ایک صورت ہے مقصدِ وطن کو پانے کی۔ ہم ہمیشہ ایک ہی سچ دہراتے رہے کہ پاکستان میں امریکہ جس کو چاہتا ہے‘ مسندِ اقتدار پر بٹھا دیتا ہے حالانکہ یہ ہمارے ”سیاست باز“ ہی تھے جنہوں نے آمروں کو دعوت دی اور انہوں نے اس لئے بجان و دل قبول کر لی کہ ان کو نہ صرف یہاں سے تائیدِ حاصل بھی قصر ابیض سے بھی اشارہ مل چکا تھا‘ اگر ہمارے ہاں سے آمروں کو دعوت عام نہ دی جاتی ان کے بٹن اور جوتے نہ چمکائے جاتے تو واشنگٹن کا کوئی اشارہ کارگر ثابت نہ ہوتا۔ مسائل سازی اور سیاست بازی کی ایک جھلک ملاحظہ ہو‘ اگر آئینی ترامیم نہ ہوئیں تو کیا ہو گا؟ جعلی ڈگریوں پر دو ارکان کے مستعفی ہونے کی بڑی خبر نواز شریف کے اس بیان میں دب گئی کہ ججوں کے تقرر کے طریقہ کار پر حکومت سے اتفاق نہیں‘ سٹرٹیجک مذاکرات کا انجام یہ ہوا کہ سول جوہری تعاون پر امریکہ سے مثبت مذاکرات ہوئے‘ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوا جیسے بھارت کے ساتھ کیا گیا بلکہ ہم تو سٹریٹجک مذاکرات کا حاصل وہ تصویر سمجھتے ہیں جس میں سر سے سر جوڑے ہلیری جام بکف شاہ محمود کے ہمراہ خوشگوار موڈ میں بیٹھی ہیں اور شاہ صاحب کے چہرے پر بھی بہار کا سا سماں نظر آتا ہے۔ ملک کی ضرورت کالا باغ ڈیم ہے اسے سیاسی مسئلہ بنا کر ”پختونخواہ“ کا ایک اور مسئلہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں ارکان کے چہروں سے عدم دلچسپی ٹپک رہی تھی‘ قوم لوڈشیڈنگ کے عذاب سے گزر رہی ہے‘ مگر ارکان اسمبلی نے اس کے سدباب کے لئے اب تک کچھ نہیں کیا‘ انہیں بھلا کیا فکر وہ اسمبلی میں آئیں نہ آئیں ان کا میٹر تو چلتا رہتا ہے‘ یہ قوم ہے ہی ان کے لئے کہ اس پر عیش کریں‘ پختونخواہ (پشتون کو چاہنے والا) کا مسئلہ باچا خان کی قومیت پرستی کا وہ فوبیا ہے جسے اے این پی بہر صورت پورا کرنے پر تُلی ہوئی ہے‘ یہی توجہ ان کو امور صوبہ اور مسائل کے حل پر دینی چاہیے‘ جوں ہی پختونخواہ کا مسئلہ کھڑا کیا گیا۔ سرائیکستان کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا‘ کیا باسٹھ سال گزرنے کے بعد بھی ہماری سیاست ناموں کی تبدیلی اور نئے صوبے بنانے پر مرکوز رہے گی۔ جس ملک میں جعلساز سیاست کا یہ عالم ہو کہ ڈگریاں اور اسناد خرید کر قوم کے نمائندے پارلیمنٹ کی سیٹوں پر بیٹھے ہوں وہاں کیا خاک قانون سازی ہو گی یا قوم کو درپیش مسائل حل کئے جائیں گے۔ اگر ہماری پارلیمنٹ عہد کر لیتی کہ عافیہ صدیقی کو امریکہ کی قید سے چھڑانا ہے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ بے گناہ مظلوم پاکستان کی بیٹی امریکہ میں صعوبت کی زندگی گزار رہی ہوتی۔ ستم ظریقی تو یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والوں نے امریکہ کو اپنا بھگوان بنا رکھا ہے اور خود شاید کلمہ بھی بھول گئے ہیں‘ امریکہ اگر ہم سے مخلص ہوتا تو کشمیر کی آزادی میں بھارت پر دباو ڈالتا‘ ہمارا پانی واگزار کرانے کے لئے ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا‘ وہ تو صرف ہمارے ہاتھوں ہمارے اپنوں کے خون کا معاوضہ دے سکتا ہے جو ہماری جیبوں میں جا رہا ہے‘ چاہے ہماری آستینوں سے ہمارے اپنوں کا خون ہی کیوں نہ بہہ رہا ہو‘ ہمارے وزیر داخلہ فرماتے ہیں ڈرون حملے ہم نہیں کرا رہے کیا یہ حملے پاکستان سے باہر ہو رہے ہیں؟ جو وہ یہ کہہ سکیں کہ ہم نہیں کرا رہے۔ سیاست اور سیاست بازی اور مسائل سازی سے جب تک ہم نہیں نکلیں گے‘ ہماری چال بے ڈھبی تو کیا ہم اپنے پاوں پر چل بھی نہیں سکیں گے۔ کیا ذاتی مفادات اور جاہ وجلال کے حصول کو حکومت چلانا کہتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ آصف زرداری کا اسمبلی میں وہ خطاب نہ ہو سکا جس میں انہوں نے 58 ٹو بی اور ایل ایف او کے خاتمے کا اعلان کرنا تھا؟ اعلیٰ ترین عدلیہ کی آزادی کا مسئلہ اگر حل ہو گیا تو ہمارے دیگر مسائل بھی اسی انداز کو اختیار کرنے سے حل ہوں گے جو وکلا برادری اور عوام نے پچھلے دنوں اختیار کیا‘ سپریم کورٹ نے آٹھ ہزار کے لگ بھگ لٹیروں کی فہرست دیدی‘ مگر تاحال حکومت نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔ عدالت کیوں خاموش ہے اور پارلیمنٹ کیا صرف اپنا میٹر چلانے پر ہے‘ یا خوش گپیوں کی بیٹھک ہے۔ شدید گرمیوں کی آمد آمد ہے‘ اسمبلی نے اپنے ووٹرز کو بجلی کی فراہمی کے لئے کیا جتن کیا ہے۔ یہ دھرتی اس وقت سیاست بازوں کی دھرتی بن چکی ہے‘ جن کی شان و شوکت کا سارا دارو مدار عوام کو غربت‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے متعدد مسائل میں الجھائے رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ اس وقت امریکہ اپنی غرض سے پاکستان کے بہت قریب آ چکا ہے‘ اس قربت کے نتیجے میں کروڑوں ڈالر پاکستان کو ملیںگے‘ مگر یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ رقم آنے کے باوجود یہاں عوام کو اس کا فائدہ نہیں پہنچے گا۔ یہ پریکٹس آج کی بات نہیں نصف صدی سے زائد عرصے سے یہ لوٹ مار جاری ہے لیکن یہ بھی ہمارے ”سیاست بازوں“ کو سوچ لینا چاہیے کہ اب شاید ان کے پاس وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ کیوں آخر یہ ظلم و زیادتی کا گراف اب گرنے والا ہے اور یہ اپنے ساتھ ظالمانہ سسٹم کو تنکے کی طرح بہا لے جائے گا۔ ہماری حکومت اور لیڈران کو سوچنا چاہیے آخر کیا وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ یوم پاکستان کے موقع پر پہلی مرتبہ سعودی عرب اور چین سمت کئی برادر ملکوں کے سفیر موجود نہ تھے‘ ہم امریکہ کے اشاروں پر جو ’ناچ‘ دکھا رہے ہیں اس کا انجام بتدریج ہمارے سامنے آتا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے حکمرانوں کو یہ غلط فہمی کہ سٹرٹیجک مذاکرات اور پرانے جہاز یا مالی امداد سے امریکہ پاکستان کے حالات بدل دے گا‘ یا اس کو درپیش بڑے مسائل حل کرنے میں مدد دے گا تو اس خیال کو انٹرپرائزز نامی بحری جہاز کی کارکردگی سے زیادہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مسائل سازی اور سیاست بازی سے پاک سیاست جب تک شروع نہ ہو گی اس ملک کے غریب عوام اسی طرح لاچار و محروم رہیں گے اور کاسہ گدائی بھر بھر کر اپنی تجوریاں بھری جاتی رہیں گی۔