جوڈیشل کمشن کا قیام فضول پریکٹس

29 مارچ 2010
رانا اعجاز احمد خان .............
جہاں پاکستان کی سیاست اور سیاستدانوں کا معیار ایک جیسا ہے وہیں سیاست دانوں کے مفادات بھی تھوڑے سے فرق اور چکر کے ساتھ ایک جیسے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے حکومت سے باہر ہوتے ہوئے سیاستدانوں کا موقف کچھ اور اقتدار کے پہلے زینے پر قدم رنجہ فرماتے ہی سوچ بدل جاتی ہے۔ اپوزیشن میں ہوں تو غیر جانبدار عدلیہ اور ججوں سے کم بات نہیں کرتے۔ حکومت میں آئیں تو عدلیہ کو غلام بنانے اور مرضی کے جج لگانے کی بے پایاں خواہش مچل مچل جاتی ہے۔ حق میں فیصلہ ہو تو عدلیہ زندہ باد عدلیہ غیر جانبدار‘ فیصلہ جرات مندانہ آئین اور قانون کے عین مطابق‘ مخالفت میں ہو تو عدلیہ کو الٹا دیا جاتا ہے۔ چمک اور کانگرو کورٹس کی اصطلاحیں گھڑی جاتی ہیں۔رضا ربانی کی زیر قیادت آئینی اصلاحات کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کے ذمے 17ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ لیکن اس نے اپنا کام ایسا بڑھایا کہ 9 ماہ بعد وہ سفارشات بھی پیش کر دیں جن کی ضرورت ہی نہیں تھی اور آج وہی سفارشات سب سے بڑا تنازع بن کر سامنے آ چکی ہیں۔ ججوں کی تعیناتی کا ایک طریقہ کار مقرر ہے۔ اس کو خواہمخواہ آئینی اصلاحات کا حصہ بنا دیا گیا۔ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ انہیں سفارشات پر سیاست کر رہی ہیں۔ ججوں کی تقرری کے حوالے سے قانون سازی کا 17ویں ترمیم سے قطعاً تعلق نہیں ہے۔ پھر بھی آئینی اصلاحات میں یہ ”رنڈی رونا“ ڈال کر ایک تماشا کھڑا کر دیا گیا۔ مسلم لیگ ن کی سادگی پہ کیا کہا جائے اس کے ترجمان چند دن پہلے جوڈیشل کمشن کے قیام کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔ اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے کمشن کی تشکیل پر تنقید کی تو اس پر احسن اقبال نے اپنی طرف سے بھرپور دلائل دیئے اور 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے بھی ”فضائل بیان“ کرتے رہے۔ اب ان کی پارٹی کے سربراہ نے معاملہ ہی الٹا کر رکھ دیا ہے۔ احسن اقبال جو کہہ رہے تھے میاں صاحب اس کے برعکس کہہ رہے ہیں مسلم لیگ کو بات کرنے سے پہلے آپس میں تو بات کر لینی چاہئے تھی۔ یا پھر یہ ہوا کہ آپس کے اتفاق رائے کو میاں نواز شریف کے کان میں کسی طرف سے ماری گئی پھونک نے پارہ پارہ کر دیا۔ کیا مسلم لیگ ن کے ترجمان نے جو کہا وہ ان کی ذاتی رائے تھی۔ اگر ذاتی رائے تھی تو پارٹی پالیسی بیان کون جاری کرتا ہے کیا قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف ہی جاری کیا کریں گے؟ بہرحال پارٹی پالیسی بیان جو بھی جاری کرے۔ ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا نقطہ نظر ذاتی مفادات پر مبنی ہے۔ اس سے قوم و ملک کو کوئی فائدہ ہے نہ آزاد عدلیہ کےلئے سود مند ہے۔ جوڈیشل کمشن کا قیام ایسا گورکھ دھندہ ہے اس کے مطابق قانون سازی ہو گی تو بہت کچھ ڈوب جائے گا۔ ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار بہترین ہے۔ آرٹیکل 177 کے تحت چیف جسٹس کی سفارشات پر ججوں کی تقرری صدر کی منظوری سے ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کی تعیناتی کےلئے سنیارٹی کا اصول موجود ہے۔ موجودہ حکمران شاید اس میں بھی اپنی فطرت کے مطابق کوئی اونچ نیچ کرتے لیکن چیف جسٹس کی مدت ملازمت‘ حکومت کی آئینی مدت کے بعد پوری ہونا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے موجودہ قوانین میں کوئی بہتری لانی ہے؟ تو اس صورت میں کی جا سکتی ہے کہ ججوں کی تعیناتی کا مکمل اختیار چیف جسٹس کو دے دیا جائے۔ عدلیہ مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار ہو جائے گی۔ یہ خود سیاستدانوں کے بہترین مفاد میں ہے حکومت میں ہوں گے تو اپنے دائرے کے اندر رہتے ہوئے حکمرانی کریں گے۔ اپوزیشن میں ہوں گے تو بے لاگ انصاف ملے گا۔ جج بغیر کسی دباو کے فیصلے کریں گے۔ یہی پاکستان قوم عام آدمی اور خود سیاستدانوں کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

P E C کا امتحان فضول مشق

مکرمی!آپ کی وساطت سے محکمہ تعلیم سے یہ استدعا کرنی مقصود ہے کہ P E C کا امتحان ...