نوائے وقت: ایک قومی اخبار

29 مارچ 2010
شاہد رشید ۔۔۔
نوائے وقت کے دور ثانی میں جناب مجید نظامی نے ایک نئے ولولے او رعزم کے ساتھ نوائے وقت کا دوبارہ اجراءکیا اور اسے عوامی امنگوں سے ہم آہنگ ایک مقبول عام قومی نظریاتی اخبار بنا دیا۔ جناب حمید نظامی کے دور میں نوائے وقت چھ صفحات پر مشتمل آغا شورش کے پریس میں لیتھو پر چھپتا تھا جسے جناب مجید نظامی نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ روزنامہ نوائے وقت نے جہاں تحریکِ پاکستان کے دوران قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کا پیغام برصغیر کے کونے کونے میں پہنچایا وہاں قیامِ پاکستان کے بعد بھی ہر اہم مرحلہ پر قوم کی راہنمائی کی۔ تعمیرِ وطن کی کوششوں میں نوائے وقت کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ جناب مجید نظامی نہ صرف گزشتہ پچاس سالوں سے اس کے مدیر ہیں بلکہ مدیرِ منتظم بھی ہیں۔ نوائے وقت اور اس کی ذیلی مطبوعات کے تمام انتظامی معاملات کی دیکھ بھال بھی وہ خود ہی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوائے وقت گروپ میں آج تک کسی آدمی کو الگ سے جنرل مینجر کے عہدے پر مقرر نہیں کیا گیا۔ یہ ان کے ایثار اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ آج روزنامہ نوائے وقت لاہور کے علاوہ کراچی‘ ملتان اور اسلام آباد سے بھی شائع ہو رہا ہے جبکہ اس ادارے کا انگریزی اخبار ”دی نیشن“ گزشتہ 25سال سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ روزنانہ دی نیشن لاہور کے علاوہ اسلام آباد اور کراچی سے بھی شائع ہوتا ہے۔ نوائے وقت گروپ کے زیر اہتمام بچوں اور طالب علموں کے لیے ماہنامہ ”پھول“سیاسی تجزیاتی ہفت روزہ ”ندائے ملت“ اور گھر بھر کے تمام افراد کے لیے ہفت روزہ ”فیملی “بھی شائع ہو رہے ہیں۔ دو سال قبل ”وقت نیوز ٹیلی ویژن“ کی نشریات کا بھی آغاز کیا گیا ہے جو ایک فیملی چینل ہے اور نوائے وقت ہی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے او رسنجیدہ حلقوں میں اسے خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ وقت ٹی وی کے امور کی دیکھ بھال جناب مجید نظامی کی صاحبزادی رمیزہ نظامی کر رہی ہیں جس نے جناب مجید نظامی سے دنیائے صحافت کے پیشہ وارانہ امور کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ غیر ملکی یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے ملکی و بین الاقوامی امور پر گہری نظرعطا کرنے کے علاوہ بہترین انتظامی صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے۔ وقت نیوز ٹیلی ویژن کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر کے انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا ابھی سے منوا لیا ہے۔ ان کی موجودگی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ نوائے وقت گروپ کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔ جناب مجید نظامی ایک ادارہ ساز شخصیت ہیں جنہوں نے ایسے ادارے قائم کیے جن کا تعلق ہمارے بنیادی نظریات‘ ان کے فروغ اور ان پر عمل کرنے سے ہے۔ انہوں نے ایوانِ اقبالؒ قائم کیا۔ جب انہوں نے اسے تعمیر کرنے کی تجویز دی تو اس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل اقبال نے انکار کر دیا کہ ”ہم اس عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے“۔ جس پر جناب مجید نظامی نے کہا ”جنرل صاحب ! آج آپ‘ میں اور سب اس وجہ سے ہیں کہ پاکستا ن نے ہمیں یہ بننے کا موقعہ دیا۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو شاید آج آپ حوالدار بھی نہ ہوتے۔“ اس پر تب کے فوجی سربراہ مملکت جنرل ضیاءالحق نے مداخلت کی اور کہا کہ حکومت تمام ممکن سہولتیں فراہم کرے گی۔ یوں ایوانِ اقبال قائم ہوا۔ جون 2009ءمیں مجید نظامی کی کوششوں سے وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے ”ایوانِ قائداعظمؒ“ کا سنگِ بنیاد رکھا ہے جو نظریاتی طور پر تحقیق‘ تبلیغ اور تربیت کا بہت بڑا قومی مرکز ہو گا۔ ان کی کوششوں سے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور قائم ہوا اور گزشتہ پندرہ سال سے قومی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اس سے ملحقہ ایوان نظریہ پاکستان بھی ان کی کاوش سے بنے گا۔ اس وقت وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں جو متعدد نظریاتی سرگرمیوں کے علاوہ قومی سطح پر قومی امنگوں کے مطابق یکساں نصاب تیار کرانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کا ایک اہم حصہ ”نظریاتی سمر سکول“ ہے‘ اسے ”نظریاتی“ نام بھی انہوں نے دیا ہے ۔ ٹرسٹ ان گنت سرگرمیوں نے اسے نئی نسل کے لیے ایک نظریاتی تربیتی گہوارہ بنا دیا ہے۔ (جاری ہے)

نوائے وقت سروس

میونسپل کمیٹی تلہ گنگ میں کھلی کچہری24 جنوری کو لگے گیچکوال( نامہ نگار )ڈی جی ...