نوائے وقت کے 70 سال .... ہماری محفل نوائے وقت میں شرکت

29 مارچ 2010
ڈاکٹر ایم اے صوفی...........
نوائے وقت کا اجراءبطور نوزائیدہ پندرہ روزہ 23 مارچ 1940ءکو اس وقت جب قراردادِ لاہور منظور ہوئی۔ اس دن ہندوستان بھر کے درد مند مسلمان لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سبز ہلالی چاند تارہ والے پرچم لہرا رہے تھے۔ منٹو پارک (اقبال پارک) رنگدار جھنڈیوں اور روشنیوں سے مزین تھا۔ پندرہ روزہ ننھا سا پرچہ، ایک دبلے پتلے، تیز نوجوان حمید نظامی نے رہبر ملت اسلامیہ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی گود میں پیش کیا۔ یہ پھول نما نیا پرچہ ہند کے مسلمانوں کو احساس پاکستان کی شعاوں سے شناسا کرنے کے لئے میدان میں اترا۔قائداعظم محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ نے 27 ویں مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے اذان دلوائی اور حمید نظامی نے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے مصمم ارادہ کا ثبوت پیش کردیا۔ گویا مسلم لیگ کی آواز پنجاب کے دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لئے پندرہ روزہ نغمے آلاپتا رہا اور 1924ءمیں مسلمانوں کو جگانے کے لئے ہفت روزہ ہوا اور 1944ءکے قریب روزنامہ کی شکل اختیار کرگیا۔ اسی طرح ہونہار نوجوان حمید نظامی نے اس نئے پرچہ کی پیدائش کی گویا مقررہ مدت سے قبل بغیر کسی سرمایہ کے اپنی حلال کی پونجی سے مسلمانوں کی خدمت دولت انداز میں کی۔نئی نسل اور پوری قوم کو نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے نوائے وقت ملک و قوم کے لئے ایک حیات بخش پیغام دینے کے قابل، توانا درخت ہو چکا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ نوائے وقت کا بچپن تھا اور ہمارا بھی بچپن تھا۔ ہمارا اسی تحریک کے ساتھ واسطہ تھا۔ جس تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کو نوائے وقت نے پروان چڑایا۔ ہماری الفت اس پرچہ، اس پرچے کے بانی ایڈیٹر حمید نظامی، اس کے دفتر، اراکین سے مکمل برابری کے محبت پیدا ہونے لگی۔ ہم مسکراتے ہوئے شاہ دین بلڈنگ کی سیڑھیوں سے گزرتے اور چند قدم دور نوائے وقت کے ایڈیٹر کے کمرہ کے باہر چیک ہوتی، آگے جاتے، قلم کار اپنی تجربہ کار انگلیوں سے قلم کے ذریعے نوائے وقت کے صفحات تیار کرتے اور ہر ایک اپنی مہارت اور لگن سے لکھائی کی کوالٹی کو پیش کرتا۔ نوائے وقت پندرہ روزہ کو اعزاز ہے کہ اس دن اپنے وجود کو نہایت خلوص اور سچائی سے پیش کیا۔ جس روز جنوبی ایشیاءاور خاص کر ہندوستان کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ کی ولولہ انگیز قیادت رہنمائی اونچی سوچ رکھنے والے کے تحت اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ ایک جدا قوم کی شکل میں اپنی زندگیوں کو اپنی نظریاتی مذہبی تقاضوں اور ملی ضرورتوں کے مطابق اپنے جدا ملک میں بطور ایک قوم گزاریں گے۔ لہٰذا 3 جون 1947ءکی تقسیم ہند کے پلان کا فیصلہ تاریخی سنگ میل تھا۔ نوائے وقت کے ادارہ میں کئی بڑے معیار کے سب ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے اپنی قابلیت، حسن نظر سے نوائے وقت کا معیار ایسا رکھا کہ اب نوائے وقت کا نکھار اور وقار قومی، قومی نظریہ کا فروغ بن گیا۔ دیگر جم غفیر اخبارات ہیں جن کا ذکر کیا اب نوائے وقت میں کئی زیادہ خبریں ادارئیے، مضامین نیشنل اشاعت اور عوام کے لئے تاریخی، اصلاحی مذہبی ادبی اور سائنسی معلومات پہنچانے میں منفرد مقام پا لیا۔اس طرح قوم کے اندر احساس ذمہ داری اجاگر کیا کئی لوگ یہاں آئے، دیدہ وبینا ہوئے۔ کچھ بھٹک گئے اور داغ جدائی کا صدمہ دے کر چلے گئے۔ مگر نوائے وقت نے اپنی پالیسی بیباک صداقت کے ساتھ رکھی اور اس کی ادارت کے شہسوار مجید نظامی نے جرات ہمت کے ساتھ مقام رفعت پایا۔ اس طرح نوائے وقت کے ہر دور میں طباعت، ضخامت، مضامین نظم و غزلیات اور تمام حالات سے تمام، سیاسی سماجی سرگرمیوں پر مشتمل خبروں کے ذریعہ دوسرے اخبارات پر بہرطور فوقیت حاصل کرلی۔ نوائے وقت70 سال کا پرمغز درخت دو قومی نظریہ کی مشعل راہ ہے۔ ایک ادارہ ہی نہیں ایک اکیڈمی ہے۔ جہاں آج کے بڑے بڑے ایڈیٹر، دانشور، قلمکار، کالم نویس اسی درسگاہ سے مستفید ہوئے ہیں۔ اس چمن کے خوبصورت پودے تھے اور نوائے وقت سایہ دار گلستان ہے۔ نوائے وقت 70 سالہ ہونے کے باوجود خوب رنگ، خوبصورت نوجوان کی طرح پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ہمارا اس اخبار اس ادارے سے تعلق سماج سے ہٹ کر فکری ہے۔ یہ ادارہ تحریک پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ علامہ اقبالؒ محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر اکابرین کے افکار کو اجاگر کر رہا ہے۔
ہماری دعا یہی ہے، اللہ اس ادارے کی حفاظت کرے، اس کے معزز ترین رہنما محترم مجید نظامی کو صحت کاملہ سے نوازے رکھے۔ وہ ایک چمکتا ہوا دلیر پاکستان کا سپاہی ہے۔