پیر ‘12 ؍ربیع الثانی 1431ھ‘ 29 ؍ مارچ 2010ء

29 مارچ 2010
لاہور میں پولیس سب انسپکٹر نے شہری کو زنجیروں سے جکڑ کر چارپائی سے باندھ دیا۔
ہم بڑی کوشش کرتے ہیں کہ پنجاب پولیس کو اس کے تمام تر گناہوں سمیت اچھا کہیں مگر اب تو ہم خود کو بھی گناہ گار سمجھیں گے اگر اس بے لگام پولیس کی مشکیں نہ کسی گئیں۔ یہ تو بھلا ہو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زوار احمد شیخ کا جنہوں نے حبس بے جا کی درخواست پر پولیس کی غیر قانونی حراست میں ہتھکڑی اور زنجیروں سے جکڑ کر چارپائی کیساتھ باندھے ہوئے بے گناہ شہری کو برآمد کروا کر اس جرم کے ذمہ دار سب انسپکٹر طالب حسین بھٹی کو تین ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔
جج صاحب نے بڑا اچھا کام کیا مگر ہمیں یوں لگتا ہے کہ ایسے مجرم سب انسپکٹر کو فقط تین ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنانا اسے بالی وڈ کا گانا سنانے کے مترادف ہے۔ ایک بے گناہ شہری کو ظالمانہ حبس بے جا میں رکھنا ایک ایسا جرم ہے جس پر سب انسپکٹر صاحب کو گھر بھیج دیا جاتا تاکہ وہ گھر کی چارپائی سے بندھے رہتے اور انکے بچے روٹی روٹی کہتے رہتے۔ پولیس تشد روز بروز بڑھتا جا رہا ہے‘ میڈیا اس کے تشدد کی ہر تصور کو نمایا ںکر رہا ہے‘ عوام دُہائی دے رہے ہیں‘ دانشور تحریریں لکھ رہے ہیں مگر حکومت ہے کہ بھنگ کے پکوڑے کھا کر سو رہی ہے یا قہقہے لگا رہی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی اپنے اہلکاروں کی ان شتر بے مہاریوں کو دیکھ رہے ہیں مگر ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہے …ع
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
٭…٭…٭…٭
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے‘ صدر زرداری کی سیاسی گاڑی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔
خان صاحب سردست اپنا سیاسی ٹانگہ چلاتے رہیں‘ وہ زرداری کی سیاسی گاڑی کی زیادہ فکر نہ کریں‘ جب آپ اس گاڑی کو روک نہیں سکتے‘ تو بیان دینے سے کیا یہ رک جائیگی؟ صدر زرداری کے پاس اب بھی سیاست کا دیوہیکل ٹرک ہے‘ جسے وہ پہلے گیئر میں چلا رہے ہیں۔ یہ جو گیلانی صاحب برق رفتاری سے چل رہے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ڈرائیورنگ سیٹ پر زرداری بیٹھے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اب پہلے کی نسبت کچھ چپ چپ نظر آنے لگے ہیں۔ خان صاحب شکر کریں کہ پیپلز پارٹی کی گاڑی چل تو رہی ہے اور ملک میں جمہوریت کا پہیہ حرکت میں تو آیا ہے۔ آمر کی دین تو نہیں‘ اگر اسی طرح انتخابات کے نتیجے میں اور آمروں کی گرفت سے آزاد ہو کر حکومتیں چلتی رہیں تو یہاں بھی سدھار پیدا ہو گا۔ خان صاحب ہنوز اپنے ورکروں کے لیڈر ہیں‘ عوامی لیڈر نہیں بن سکے‘ وہ اس سلسلے میں زیادہ غور و خوض کیا کریں‘ زرداری صاحب کی گاڑی کو چلنے دیں کہ ملکی حالات کا یہی تقاضا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے‘ صوبہ سرحد کے نام کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے‘ اصل مسئلہ صوبائی خودمختاری کا ہے۔
ہم تو لوگوں سے کہتے ہیں کہ اب مولانا کو کوئی مولانا ڈیزل نہ کہے‘ کیونکہ جب سے انکے نام کے ساتھ ڈیزل کا اضافہ کیا گیا ہے‘ ڈیزل مہنگا ہی ہوتا جا رہا ہے اور اسکی افتاد بے چارے عوام پر پڑتی ہے۔
صوبائی خودمختاری کا مسئلہ اتنا اہم نہیں جتنا ایک مضبوط وفاق کا ہے۔ کیا اس وقت صوبے غیرخودمختار ہیں‘ جس باپ کے بیٹے بہت زیادہ خودمختار ہو جائیں‘ وہ باپ کمزور پڑ جاتا ہے اور اس کا بیٹوں پر کنٹرول ہی نہیں رہتا‘ چاہے وہ سیاہ کریں یا سفید‘ اس لئے مولانا صوبائی خودمختاری کی جگہ چاروں صوبوں کو کالاباغ ڈیم بنانے پر راضی کریں اور تاریخ میں اپنا نام لکھوائیں۔
جہاں تک صوبہ سرحد کا نام رکھنے نہیں‘ بدلنے کا تعلق ہے‘ تو یہ تبدیلی کسی کو بھی منظور نہیں۔ مولانا نے نواز شریف پر خوامخواہ الزام لگا دیا ہے کہ نواز شریف ہمیں سترہویں ترمیم کا طعنہ دیتے تھے‘ اب خود اس ترمیم کو برقرار رکھنے کی راہ پر لگ گئے ہیں۔ لیکن مولانا فکر نہ کریں‘ میاں صاحب میں بڑی نرمی اور لچک ہے وہ سترہویں ترمیم کو ضرور نکال باہر کرینگے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ ’’مشرف‘ شوکت عزیز اور نواز شریف تین تین روپے میں بک رہے ہیں‘‘ ۔
جو چیز دنیا کے بازار میں عام بکتی ہو‘ اسکے نام پر بنی ہوئی دو نمبر چیزیں بھی خوب بکتی ہیں۔ اس وقت لوڈشیڈنگ جس کا دوسرا نام نااہلی ہے‘ سے تنگ آکر لوگوں نے ہاتھ سے چلنے والے پنکھے خریدنے شروع کر دیئے ہیں‘ اہل حرفت و صنعت بھی بڑے چالاک ہوتے ہیں۔ وقت کی نبضیں اور رمزیں خوب جانتے ہیں‘ اس لئے انہوں نے مشرف شوکت عزیز اور نواز شریف کے نام پر ہاتھ کے پنکھوں کے نام رکھ کر ان پر لکھ دیئے ہیں اور آواز لگاتے ہیں کہ بولوجی‘ بابو ’’کس کس‘‘ کو خریدو گے۔ ابھی تو جوں جوں لوڈشیڈنگ بڑھے گی‘ ہاتھ کے پنکھے اور بھی ناموں سے بنیں گے‘ کیونکہ ابھی تو بہت سے ایسے نامور حضرات باقی ہیں جن کی مارکیٹ میں بڑی مانگ ہے۔ ہم نے کہیں پڑھا کہ ملک میں بجلی کی کمی نہیں لوڈشیڈنگ صرف بدنظمی اور بے عقلی کے سبب ہے۔ لکھنے والے نے یہ بات بجلی کے محکمے کے اعلیٰ ترین منصب دار سے سن کر لکھی ہے۔
ویسے خدا لگتی بات ہے کہ ہمارے ہاں کون ہے جو بکائو نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہاتھ کے پنکھوں پر تو انکے نام درج نہ ہوتے۔ نام بہت سے رہ گئے ہیں‘ باتھ کے پنکھے بنانے والے انکے اسمائے گرامی پر بھی پنکھوں کے نام رکھیں‘ زیادہ بکیں گے اور ہوتے ہوتے یہ پنکھا تحریک ریشمی رومال تحریک بن جائیگی۔