’’پھول کھلے شاخوں پہ نئے اور درد پرانے یاد آئے‘‘

29 مارچ 2010
اس سال مارچ کا مہینہ ہمارے لئے معمول سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یوں تویہ مہینہ موسم بہار کی آمد کا پیغام دیتا ہے۔ بہار کا موسم جس میں پھول کھِلتے ہیں ۔قدرت سبزہ کو نئی تراوت اور تروتازگی عطا کرتی ہے،میدان جو ابھی تک سردی کی شدت سے بد رنگی کا شکار رہے ترو تازگی اور رنگ و روپ کا نیا لباس اوڑھ کر دیکھنے والوں کی روح کو اطمینان و سکون عطا کرنے لگتے ہیں لیکن اس مرتبہ مارچ کا مہینہ اِن تمام باتوں کے علاوہ ہمارے لئے نئی خوشیاں اور نئے پیغامات لیکر آیا ہے۔ خدا کرے کہ پاکستانی قوم جو اس مہینے میں اہم فیصلے کر یگی وہ اس کیلئے سکون و اطمینان کا سبب بنیں اور قومی مفاہمت اور ملکی ترقی کی وہ تمام راہیں کھول دیں جن کی راہ یہ قوم عرصہ سے دیکھ رہی تھی۔
ایک بہت اہم فیصلہ جو اس مہینے میں ہوا قومی مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر دستخط ہونے کا تھا۔ یہ تقریب اس مہینے ایوانِ صدر میںمنعقد ہوئی ۔ صدر آصف علی زرداری کے علاوہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ، چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبہ سرحد کے علاوہ باقی تین صوبوںکے گورنر بھی موجود تھے۔تمام صوبوں بالخصوص پنجاب نے اپنی سابقہ روش میں لچک دکھائی ۔ تب ہی ایک مفاہمتی فارمولے پر اتفاق رائے ممکن ہو سکا۔ یہ ایک بہت اچھی پیش رفت ہے لیکن اسے منزل نہیںقرار دیا جا سکتا۔ نشانِ منزل ضرور ہے‘ ملکی وسائل اور آمدنی میں اضافہ کے بغیر صوبوں میںآسودگی کا احساس پیدا نہیں کیا جا سکے گا۔ ہمارے ملک میں ٹیکس گذار لوگوں کی شراح اور ان کی طرف سے ادا کئے جانے والی ٹیکس کی رقوم میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ ایک تخمیہ کے مطابق ٹیکس سے وصول شدہ رقوم کا تناسب مجموعی مالیاتی محاصل میں بد ستورگھٹتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو انرجی کا بحران ہے۔ بجلی اور گیس کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں۔جس سے قومی آمدنی میں زبردست کمی واقع ہو رہی ہے۔ جب کارخانے بند ہونے پر آجائیں، بے روزگار ی میں اضافہ ہونے لگے تو ٹیکس کی رقوم میںاضافہ کی توقع رکھنا بھی عبث ہے۔ اس گرداب سے باہر نکلے بغیر نہ ملکی وسائل میں اضافہ ممکن ہے نہ شخصی آمدنی میں ، نہ ہی ٹیکس دہندگان کی طرف سے ادا کی جانیوالی رقوم میں کسی اضافہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اقتصادی بد حالی سے نکلنے کے واسطے انرجی کی دستیابی ضروری ہے ۔ یہ خواہ تیل کی شکل میں ہو ، گیس کی شکل میں ہو یا بجلی کی صورت میں۔ بجلی کی کمی کی بدولت بارہ بارہ ،چودہ چودہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شہریوں کو جس اذیت کا سامنا ہے وہ اپنی جگہ پر، صنعت و حرفت اور زراعت پر اسکے منفی اثرات بد بختی کی ایک اور ہی کہانی رقم کر رہے ہیں۔ ان حالات میں چاہئے تو یہ تھا کہ جہاں کہیں سے بھی بجلی دستیاب ہو حاصل کر لی جائے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ایسا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے یا کامیاب نہیں ہو سکے۔ اخبارات میں ایران کے سفیر ماشاء اللہ شاکری کا ایک بیان رقم ہے کہ ان کا ملک پاکستان کو سستی بجلی فراہم کرنے کا خواہش مند ہے ۔ انہوں نے سستی بجلی کی پیشکش کا اعادہ کرتے ہوئے اسکی مقدار دو گنی کرنے کا اعلان کیا۔ ایک نجی ٹی وی کیمطابق ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پاکستان کو 2200 میگا واٹ بجلی دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ، ترکی اور آرمینیا کو بھی بجلی فراہم کر رہا ہے۔ ایران کیلئے اضافی بجلی کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی 6 سے 7 سینٹ کی لاگت پر فراہم کی جا سکتی ہے۔ جو نیشنل پاور پروجیکٹس سے بہت ہی زیادہ سستی ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا حکومت کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا با ت سامنے نہیں آ رہی۔ پاکستان ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے۔ اس لیے رقم کی فراہمی پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ گویا یہ تو ہم خرمہ و ہم ثواب والی بات ہے۔ ہو سکتا ہے اس پیشکش کے قبول کرنے میں کچھ دقتیں بھی ہوں لیکن عوام یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ وہ کیا ہیں اور انہیں کیوں دور نہیں کیا جا سکتا؟ امریکہ ، ایران کو سیاسی اور معاشی طور پر تنہا کر دینا چاہتا ہے۔ ممکن ہے امریکی دبائو کی وجہ سے ہماری حکومت اتنی اچھی پیشکش قبول کرنے سے کترا رہی ہو۔ جب ایران سے پاکستان اور بھارت کے درمیان خشکی کے راستے گیس سپلائی کرنے کے معاہدہ پر بات چل رہی تھی تب امریکہ نے ٍ بھارت اور پاکستان پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ ایران سے گیس نہ خریدیں۔ بھارت تو ایک دو وجوہ کو بہانہ بنا کر ابھی تک اس معاہدہ پر دستخط کرنے سے گریز کرتا رہا ہے لیکن پاکستان اور ایران نے حال ہی میں اس معاہدہ پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ہر ملک کو اپنے مفاد کی بات سوچنے کا حق ہے یہ حق اگر امریکہ اپنے لئے استعمال کرتاہے تو ضرور کرے لیکن ہمیں اپنے مفاد پر عمل کرنے سے روکنے کا امریکہ کو کوئی حق نہیں۔ لوگ چاہیں گے کہ حکومت شاکری صاحب کے بیان پر اپنی وضاحت ضرور پیش کر ے۔ مارچ کا مہینہ ابھی ختم نہیں ہوا‘ اس مہینے کے حوالے سے گڑبڑ کے جو اشارے مل رہے تھے‘ آئینی پیکیج پر شروع ہونیوالا فساد اسکی تصدیق کرتا نظر آرہا ہے۔
نو مہینے کی محنت شاقہ ، تحمل اور برد باری سے پارلیمنٹ کی دستوری کمیٹی نے ایک متفقہ ڈرافٹ تیار کیا جس سے آئین میںترمیم کرنا مقصود ہے۔ اس کمیٹی میں پارلیمان کی چھوٹی بڑی سب سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے۔ تمام افراد نے زبردست فہم و فراست کا مظاہرہ کر کے مفاہمت کی راہیں نکالیں۔ عین اُس روز بلکہ اُسی تقریب سے ایک گھنٹہ قبل جب کمیٹی کی سفارشات پر دستخط ہونا تھے (اگلے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت خطاب کر نیوالے تھے) ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں بیان کیا کہ دو نکات پر ن لیگ کو تحفظات ہیںان میں سے ایک اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی تقرری کا مسئلہ ہے۔ دوسرے صوبہ سرحد کیلئے ایک نیا نام تجویز کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ججز کی تقرری کے معاملہ پر تمام پارٹیز میں اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میثاق جمہوریت کے تحت 17 ویں ترمیم کا خاتمہ چاہتی ہیں۔اس میثاق کے تحت جو ڈیشنل کمیشن ججز کی تقرری کی سفارشات کیلئے ایک ایسے چیف جسٹس کی سربراہی کا خواستگار ہے‘جس نے خود کبھی P.C.O کے تحت حلف نہ اُٹھا یا ہو۔ ن لیگ کی خاطر پیپلز پارٹی نے لچک دکھائی اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی پر اتفاق ہو گیا( حالا نکہ جسٹس چوہدری خود P.C.O کے تحت حلف اُٹھا چکے تھے)۔ دو ایک اور نکات پر بھی مفاہمت ہو گئی۔ اب معاملہ صاف تھا اور لگتا تھا کہ حکومت قوم کو وہ خوشخبری دینے کو ہے جس کا وعدہ اس نے کیا تھا۔ لیکن میاں نواز شریف کی خواہش تھی کہ حکومت اس مسئلہ پر پہلے عدلیہ سے مشورہ کرے۔ پارلیمانی کمیٹی نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ صوبہ سر حد کیلئے ایک نام تجویز کرنے کا کام صوبائی اسمبلی سے بہتر (جہاں تمام صوبہ کے عوام کی نمائندگی موجود ہے) اور کون کر سکتا ہے۔ صوبہ کی اسمبلی کی سفارش قبول کر لینی چاہئے۔ لیکن ایک اور تنازعہ پیدا کر لیا گیا۔ ایک طرف میاں نواز شریف پارلیمان کو ملک کا سب سے اعلیٰ اور مقتدر ادارہ کہتے آئے ہیں ۔ دوسری طرف وہ پارلیمان کو یہ حق دینے پر بھی تیار نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے آئین میں ترامیم کر سکے۔ خدا کرے یہ خوامخوا ہ کا \\\" بحران\\\" ختم ہو اور دستوری کمیٹی اور پارلیمان اپنا اپنا کام کرسکیں۔
24 مارچ کو واشنگٹن میں پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز ہوا۔ وفود کی قیادت متعلقہ وزرائے خارجہ نے کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ یہ پیغام لیکر واشنگٹن جارہے ہیں کہ باتیں بہت ہو چکی۔ اب ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا ہم پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکے ہیں کسی نے ہمارے جتنی جانیں نہیں گنوائیں۔ ہم نے جوقربانی دی ہے وہ کسی نے نہیں دی۔ ہم نے بہت کچھ کر دکھایا ہے اب امریکہ کی باری ہے کہ کچھ کر کے دکھائیں۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے قریشی صاحب نے کہا کہ امریکہ سے سویلین نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا معاملہ بھی ذیر غور ہے۔ سٹریٹجک ڈائیلاگ کے علاوہ وزیر خارجہ سینٹر جان کیری اور خارجہ امور کمیٹی کے ممبران سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں‘ پاکستان نے ڈائیلاگ کو 10 موضوعات تک پھیلانے کی کوشش کی۔ جن میں معیشت ، دو طرفہ تعلقات، تعلیم ، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، سڑیٹجک استحکام، انسدادِ دہشت گردی ، زراعت، صحت ، مواصلات اور پبلک ڈپلومیسی شامل ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کو ایک دوسرے سے مخلص ہونا چاہئے۔ پاکستان مشرقی سرحد چھوڑ کر صرف مغربی سرحد پر توجہ نہیں دے سکتا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ نے پاکستان کی معیشت کو بُری طرح متاثر کیا ۔اِن نقصانات کا معقول معاوضہ پاکستان کو کم از کم ضرور دینا چاہئے۔