’’قافلے والو دیکھ کے چلنا‘‘ … (۱)

29 مارچ 2010
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی......
اب راستہ تلاش کیا جارہا ہے کہ ہم دہشت گردی سے کیسے نجات پائیں اور قوم کو سکون کی نوید سنائیں۔ ہر طرز کا حکمران اپنے اندازِجدید سے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ دہشت گردوں کا تعلق مذہب پرستوں سے بیان کیا جاتا ہے اس لئے ہر درجے کے حکمران مذہب کی بستی میں عافیت کو ڈھونڈنے نکلے ہیں کچھ لوگوں نے نرسری کے اساتذہ سے رابطہ کیا ہے اور ان سے پناہ و عافیت مانگی ہے۔اور کچھ لوگوں نے دھمکی بردار مصلحین سے پینگیں بڑھانا شروع کی ہیں اگر چہ یہ دھمکی دار مصلحین پرویز مشرف کا اثاثہ دین تھے۔ مشرف کے حواریوں کے روحانی صلاح کار تھے سیاسی نیم مجذوبوں کے تصوف کو معصومیت سے تعبیر کرتے تھے اور ہر اچھے کام پر مٹی ڈلوانے میں شریکِ شَر رہا کرتے تھے اور دور پرویزیت کے ہر حیلہ کار میں اخلاقی جواز فراہم کرنے کا فریضۂ علمی سرانجام دیتے تھے۔
اب ہوشیار لوگوں نے غیروں کے ایماء پر خانقاہ و مدرسہ پر ملائم انداز میں حملہ آوری کا پروگرام مرتب کیا ہے انہیں بتایا گیا ہے کہ عملی دہشتگردی سے بے چینی بڑھتی ہے اور لوگوں کا ردعمل بڑھتا جارہا ہے اس لئے ذہنی اور جذباتی دہشت گردی کو فکرِ فردا کے نام سے متعارف کروایا جائے اور اہل دانش کو انکے پسندیدہ انداز سے گھیرا دیا جائے اہل جذبات پر مانوس طریقے کی آندھی برپا کی جائے اور اہل مدرسہ کے محبوب انداز سے ان کا شکار کیا جائے اس لئے بہت گہرے قدیم سازش کاروں نے گزشتہ ایک سال سے اپنا کاغذی منصوبہ مکمل کرلیا ہے اور اسکی عملی مشق اپنے کہنہ کار سفارتیوں سے سرانجام دلوائی جا رہی ہے۔ قوم کے مزاج کو گرم کرنے کیلئے نامورقد آوروں کی مٹھی گرم کی جارہی ہے اور تقسیم رقم کے بل بوتے پر تقسیم عمل بھی کردی گئی ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں اخلاص کی قوت کو گرم رکھنے کا ایک ادارہ اور ایک عملی و جذباتی پروگرام جو روح محمدﷺ کو بدن سے نکلنے نہیں دیتا اس کا نام تصوف ہے۔ مسلمانوں کو کسی بھی ملک سے دیس نکالا دیا جاسکتا ہے لیکن ایمان کو مسلمان کے بدن سے نکالنا بہت مشکل ہے مسلمان جس خطہ ارضی پر اپنے روحانی ادارے سمیت پہنچے وہاں پر انکا قیام ثقافت کی جڑوں تک اتر گیا اور باطن کی تہذیبیں بدل گئی تھیں، برصغیر کی مثال لیجئے کہ یہ ایک تمدن و ثقافت کا امتیازی گہوارہ تھا لیکن جب داتا علی ہجویریؒ اور خواجہ اجمیریؒ نے قلوب کی اتھاہ گہرائیوں میں روح محمدﷺ کا حسین اور دیرپا فیضان اُتارا تب سے پاکستان دلوں پر نقش ہے اور دنیا کے نقشے پر بھی موجود ہے آج کا جدید ورلڈ آرڈر اس نقشے کو بدلنے کیلئے طرح طرح کے پینترے بدل رہا ہے اسے یہ حقیقت پوری طرح سے معلوم ہو چکی ہے۔…؎
خوشا مسجد و مدرسہ خانقا ہے
کہ دروے بود قیل و قال محمدﷺ
اسے یہ بھی احساس ہے کہ جذبات کی مستی قلندرانہ اندازِ عمل سے جھلکتی ہے اور…ع
قلندر جُز دو حرفِ لَااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتا
نیو ورلڈ آرڈر کو غیرتِ فقر اور اثباتِ کلمہ حق کا پورا پورا احساس ہے اسے برصغیر میں امانت و دیانت کے فروغ میں خانقاہ کا کردار پوری طرح سے معلوم ہے کہ جب مخلوقِ خدا پر جادو کی قوت اثر پذیر ہوتی تو حضرت داتا گنج بخشؒ کا روئے استقامت سے معمور کردار ہی مخلوق کیلئے نشانِ نجات بن گیا تھا۔
اُنہیں یہ معلوم ہے کہ اہل باطل کی زبانی و قلبی کاوشیں مسلمان درویش کی پُراخلاص بندگی کے سامنے ایک زرہ بے مایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضور خواجہ اجمیرؒ کے بارے میں جادوگروں نے اعتراف کیا تھا کہ ان پرجادو کا اثر اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ مَن کے اُجلے اور عمل کے سچے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ انکے کردار کو بے داغ نہ رہنے دیا جائے راجہ کی بیٹی نے سوانگ بھرا کہ انکے ذوقِ ایمان کی حلاوت کو کم کردے لیکن وہ ناکام رہی اور بالآخر کلمہ محمدی علی صاحب الصلوۃ و السلام پڑھنے پر مجبور ہوگئی۔ برصغیر میں اکبری عہد کی خانہ ساز چالوں کا سہارا لیتے ہوئے انہوں نے دینِ الٰہی کو ترویج دینے کی کوشش کی لیکن حضرت مجدد الف ثانیؒ اور حضرت داتاگنج بخشؒ اور دیگر اولیاء کرام جیسے صفا و عمل کے جبلِ استقامت ان کی ہوائوںکا رخ بالخصوص بدلنے میں کامیاب ہوئے انہوں نے پورے عالم اسلام کو بالعموم اور بالخصوص مسلمانانِ برصغیر کو اسلامی تصوف سے آگاہی بخشی اور ایک پروگرام یہ ترتیب دیا کہ مسلمان کا اول و آخر اثاثہ کلمہ طیبہ ہے اور اسی کو تمام عبادتوں کا جوہر اور ایمان کا مرکز قرار دیا اور ماحول کے بدترین مظاہر میں بھی کلمہ محمدیﷺ کو ان کے دل میں پختہ کردیا اور ساتھ ساتھ اپنے متعبین کو وصیت کی کہ گھوڑے اور تلوار سے دوستی کبھی نہ ترک کرنا کیونکہ دنیا کی زندگی میں مردانگی ہی قوموں کو بقا عطا کرتی ہے اور اصول بقایہ سامنے رہے کہ!… جیو اور جینے دو
ورنہ ’’ہے جُرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘
اس لئے تقویت کے حصول میں کبھی غفلت و کوتاہی نہ برتو۔ صاحبو صوفی کا طرز فکر اور اسلوبِ حیات نہایت پر استقامت اور فطرت سے ہم آہنگی رکھنے والا ہے اسی لئے تو امام شاملؒ کی خاک ہی زارِ رُوس پر صاعقہ آسمانی بن کر گری تھی۔ پاکستان فطرت کا امین وہ نظریاتی ملک ہے جس کا نام بھی طاغوتی قوتوں کے حلق میں خراش پیدا کرتا ہے 60سالہ تو انا پاکستان ہمہ وقت دشمن دین و ملت کی زد میں ہے ہمارا جغرافیائی بازو کاٹ کر بھی انہیں ہمارا وجود مکمل ہی محسوس ہوتا ہے اس لئے اب انہوں نے ہمارے دین و مذہب کے حوالے سے نقب زنی کی واردات شروع کی ہے۔ مُلاّ کے کردار کو انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے پوری طرح سے مسخ کردیا ہے اب تصوف کا شعبہ باقی رہ گیا تھا جہاں سے دین کی شریانوں کو خفیہ کمک میسر آتی تھی اب اس پر حملہ تازہ کی تیاری ہے۔پہلے اسلام کا ظاہر مسخ کرنے کا منصوبہ تھا اب باطن کو گدلا کرنے کی سازش ہے۔ نیا اندازِ جارحیت ریشمی لباس میں جھلملاتی گمراہ شیطانی روشنیاں ہم نیم دل قوم پر وارد ہونگی معنی سے غلاظت برآمد ہوگی چال میں ُسبک خرامی ہوگی حملے میں برق رفتاری ہوگی بغل میں چھری دبائے منہ میں!… رام رام جپنا پرایا مال اپنا
ان حالات میں قوم کے غیور فرزندوں اور اہل نظر کو اپنی ایمانی بصیرت کو ہر لمحہ بیدار رکھنا ہوگا۔
قافلے والو دیکھ کے چلنا راہ کٹھن ہے ہوش سنبھلنا
جادہ و منزل پر بیٹھے ہیں پھر وہی راہزن بھیس بدل کے
ہماری سرزمین پر قبضہ ہی مقصود نہیں ہے، ہمارے وجودِ ایمانی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عندیہ بھی ہے گزشتہ دنوں ایوان صدر میں ایک ایسی نشست کا اہتمام تھا جس میں مختلف شعبہ ہائے حیات کے نمائندگان موجود تھے موضوع اس نشست کا صوفی ازم بتایا گیا تھا۔ جناب صدر زرداری نے تصوف کی ضرورت اور اہمیت پر خطاب کیا اور زور دیا کہ تصوف کی آبیاری کی جائے اور تصوف ہی سے ہم معاشرے کو امن و سلامتی کی ڈگر پر چلاسکتے ہیں۔ قارئین کسی بھی شخص کی زبان و خیالات پر پابندی یا تنقید بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے لیکن کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنیوالے سے یہ تو ضرور پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ جو باتیں کرتے ہیں اس میں حقیقت یا عمل کا کتنا عمل دخل ہے کسی بھی شخص کی نیت پر شک کرنا اور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنا شاید آسان ہو لیکن حقیقت سے معمور تجزیہ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ (جاری ہے)