الطافِ کریمانہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو (جوارِ )بیت اللہ میں سکونت عطاء فرمائی تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ (اے پروردگار) بے شک تو نے ہر مزدور کو اس کی اجرت بخش دی۔ لہٰذا مجھے بھی میری اجرت عطاء فرما۔اللہ رب العزت نے وحی فرمائی کہ جب تم اس گھر کا طواف کروگے تو میں تمہاری بخشش کردوں گا ۔حضرت آدم علیہ السلام نے گزارش کی ،اے میرے رب میری اجرت میں اضافہ فرما۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :تمہاری اولاد میں جو بھی اس گھر کا طواف کرے گا میں اس کو بھی بخش دوں گا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پھر درخواست کی، اے میرے مالک مجھے مزید عطا ء فرما ۔ اللہ کریم نے فرمایا : وہ طواف کرنے والے جس کی مغفرت چاہیں گے میں اس کو بھی معاف کر دوں گا۔ راوی کہتے ہیں ۔ (یہ نوازشات دیکھ کر ) ابلیس گھاٹیوں کے درمیان کھڑا ہوااور کہنے لگا۔ اے خدا تو نے مجھے فنا کے گھر میں ٹھہرا دیا اور میرا ٹھکانہ جہنم بنادیا، اور میرے ساتھ میرے رقیب (آدم علیہ السلام ) کو کردیا۔ اس پر ایسی عطاء ، اے رب مجھے بھی (کوئی خاص صلاحیت ) عطاء فرما۔ خداوندِ قدیر نے فرمایا : میں نے تجھے ایسا کردیا تو انسان کو دیکھ سکتا ہے ،لیکن وہ تجھے نہیں دیکھ سکتا۔ اس نے پھر سوال کیا تو ارشاد ہوا: میں نے انسان کے قلب کو تیرا ٹھکانہ بنادیا۔ اس نے مزید تقاضا کیا تو ارشاد ہوا، میں تجھے ایسا بنادیا کہ تو انسان کے رگ وپے اور شریانوں میں دوڑ سکتا ہے۔ راوی کہتے ہیں ( یہ دیکھ کر) آدم علیہ السلام نے درخواست کی: اے میرے رب ابلیس کو (ایسی صلاحیت ) مل گئی ہے(تو اس کے سد باب کے لیے) مجھے بھی کچھ عطاء ہو۔ ارشاد ہوا: میںنے تمہیں ایسا کردیا کہ جب تم نیکی کا ارادہ کروگے ، لیکن اسے انجام نہ دوگے، پھر بھی اس نیکی کو تمہارے حق میں لکھ دوں گا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پھر سوال کیا، تو ارشادہوا: اگرتم برائی کا ارادہ کروگے ،لیکن اس پر عمل نہیں کرو گے تو میں تمہارے نامہ اعمال میں اس برائی کو درج نہیں کروں گا۔ بلکہ اس کے بدلے میں تمہارے حق میں ایک نیکی لکھوں گا۔

ای پیپر دی نیشن