حرمت رسول

29 جولائی 2010
مکرمی! میں حرمت رسول کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتی ہوں۔ ”تم میں سے کوئی شخص بھی صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام انسانوں بلکہ خود تمہارے نفس سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاﺅں۔“ (بحوالہ بخاری و مسلم)
کائنات کی عظیم ترین ہستی، خاتم النبیین رحمتہ اللعالمین کی شان عالی میں جن بدبختوں نے ہرزہ سرائی کو اپنا مشغلہ بنا لیا ہے۔ یکے بعد دیگرے ان کی ناپاک چیرہ دستیوں سے دشمنان خدا مسلمانوں کے خون سے رہی سہی حمیت کو بھی نکال پھینکنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنی محفلوں میں ان واقعات پر محض اظہار افسوس کو ہی اپنی حمیت کا کافی ثبوت سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ ان حالات میں حکومت وقت کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ فیس بک کے استعمال پر مستقل پابندی عائد کی جائے۔ اسلام دشمن ممالک کی مصنوعات کا مستقبل بائیکاٹ کیا جائے۔ او آئی سی کا فوری اجلاس طلب کیا جائے اور اس پروپیگنڈے سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر پلاننگ کی جائے۔ اسلام دشمن ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ تمام فرقہ بازیاں ختم کرتے ہوئے ایک امت ہونے کا فریضہ انجام دیں اور رجوع الی اللہ کریں۔
(فائزہ عارف۔ گوجرانوالہ)