وکھری ٹائپ کے لوگ

29 جولائی 2010
مکرمی! وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ہوئے 63سال کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن وطن عزیز میں رہنے والے 98فیصد متوسط و غریب طبقے کی حالت زار بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اور باقی کے 2فیصد جو وکھری ٹائپ کے لوگ ہیں وہ 1947ء سے لے کر اب تک وطن عزیز کے تمام وسائل پر قابض ہیں۔ بلکہ یہی نہیں 1947ء سے پہلے بھی انہی کے آباء و اجداد نے انگریزوں کی غلامی کر کے بے پناہ جاگیریں اور فوائد حاصل کئے۔ 1947ء سے لے کر موجودہ دور تک جتنے بھی سیاستدان بیوروکریٹ، جرنیل، برسراقتدار آئے سب نے ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے 98فیصد عوام کے صرف کندھے استعمال کئے۔ ایوان اقتدار میں پہنچنے کے بعد یہ وکھری ٹائپ کے لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ پھر وکھری ٹائپ کے ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا صرف پیسہ اور اقتدار ہوتا ہے۔ کبھی 98فیصد عوام یعنی ہم میں سے کسی نے سنجیدگی سے ان 2فیصد وکھری ٹائپ کے لوگوں کے بارے میں سوچا کہ ان وکھری ٹائپ کے لوگوں کی کوئی پارٹی نہیں ہوتی۔ صرف اقتدار ان کا مشن ہوتا ہے۔ لیکن یہ اتنے چالاک اور ہوشیار ہیں کہ ہمیں سوچنے کا موقع ہی کب دیتے ہیں۔ یہ ہمیں ہر روز کسی نہ کسی مسئلے اور الجھن میں الجھائے رکھتے ہیں۔ اپنی ہیرا پھیریوں اور فراڈ سے توجہ ہٹانے کے لئے کبھی آٹے چینی کا پھڈا۔ کبھی ڈرون حملوں، کبھی عدلیہ کے ساتھ پھڈا۔ کبھی میڈیا کے ساتھ پھڈا۔ کبھی جعلی ڈگریوں کی لڑائی مگر ہمیں 98فیصد کو غور سے سوچنا ہو گا کہ ان تمام مسائل سے ہمیں کیا لینا دینا۔ ہم اٹھانوے فیصد کو تو صرف تین وقت عزت کی روٹی درکار ہے۔ ہمیں مہنگائی میں کمی چاہئے۔ ہمیں انصاف چاہئے۔ ہمیں بجلی و گیس چاہئے اور ضروریات زندگی آسانی سے میسر ہو۔ ہم 98فیصد عوام الناس کو وکھری ٹائپ کے ان 2فیصد لوگوں کو ناانصافیوں، زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی اور اپنے اندر کے سوئے ہوئے انسان کو جگانا ہو گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مدد فرمائے گا۔ آمین۔
(وحید یوسف جنجوعہ۔ وزیرآباد)