جناب خادم اعلیٰ پنجاب متوجہ ہوں

29 جولائی 2010
مکرمی! میں پنجاب کے خادم اعلیٰ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرواناچاہتا ہوں کہ جونہی موسم برسات شروع ہوتا ہے تو سارے سال کے ترقیاتی کام ایک دو بارشوں کی نذر ہو کر بہہ جاتے ہیں، یا پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام تر کرپشن کے کرشمے ہیں۔ ترقیاتی فنڈ کا 75فیصد کرپٹ افسران اور ایم این اے، ایم پی اے حضرات کے منظور نظر ٹھیکیداروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ باقی 25فیصد سے تو پھر ناقص کام ہی ہونے ہیں۔ فیروزپور روڈ جو کہ ماڈل روڈ کہلاتی تھی حال ہی میں بنی ہے۔ اس برسات میں اس کی ٹوٹ پھوٹ کی تصاویر تک چھپ گئی ہیں۔ جناح ہسپتال کے پاس سے گزرنے والا نالہ بمشکل چھ ماہ ہوئے پختہ ہوا تھا۔ جناب کبھی اس کا معائنہ کریں۔ اس کی ساری پختگی حالیہ بارش کی نذر ہو کر نالے میں گر گئی ہے۔ سمن آباد ٹاﺅن کے ستلج بلاک میں کسٹم کالونی کی دیوار کے ساتھ جو سڑک بنی ہے۔ اس کا 25لاکھ کا ٹھیکہ تھا۔ ٹھیکیدار میرا جاننے والا تھا۔ میں نے اسے ازراہ تفنن پوچھا کہ تم نے یہ کیا سڑک بنائی ہے۔ جواب ملا تو ٹھیکہ کا 60فیصد رشوت میں چلا گیا۔ باقی میرے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے۔ جناب یہ ایک دو مثالیں ہیں۔ جگہ جگہ ایسی مثالیں ہر قدم پر ملیں گی۔ بغیر منصوبہ بندی کے جب کرپٹ مافیا ٹھیکے پر ایسے کام کروائے گا تو ہزاروں سال تک بھی اس ملک و قوم کی تقدیر بدل نہ پائے گی۔ کرپشن کا منہ بند کرنے کے لئے احتساب کا کوئی کڑا نظام لائیے۔ غیر مسلموں نے دیانداری کے بل بوتے پر اپنے ممالک جنت بنا لئے ہیں۔ ہم مسلمان ہو کر ”یا بے ایمانئے تیرا ہی آسرا ہے“ کے اصول پر چل رہے ہیں۔ جب تک سخت قانون سازی نہ ہو گی۔ معیاری کام خواب و خیال ہی رہیں گے۔
(محسن امین تارڑ۔ لاہور)

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...