حکومت امریکی عزائم بھانپے!!

29 جولائی 2010
مکرمی! امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کہا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان میں ہیں جس پر حکومت پاکستان نے امریکا کو انکی نشاندہی کرنے کا باور کرایا ہے یاد رہے پاکستان کے جواب کوابھی دئیے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے بھی ہلیری کلنٹن کے اس بیان کا اعادہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان میں ہی ہیں، امریکی وزیر خارجہ اور امریکی فوج کے سربراہ کے حالیہ بیانات کو راقم بحیثیت تجزیہ نگار امریکا کے مکروہ ارادوں سے تعبیر کرتا ہے جنکا مطمع نظر القاعدہ کے ارکان کی تلاش کی آڑ میں پاکستان میںاپنے قدم جماتا ہے اس حقیقت کو جھٹلایا نہیںجاسکتا کہ امریکا افغانستان میں منہ کی کھانے کے بعد پاکستان کو ہڑپ کرنے کے حیلے بہانے تلاش کر رہا ہے جسکا عندیہ اسکے اعلیٰ سرکاری عہدیدار تواتر کے ساتھ دے رہے ہیں ایسے ہی ہمیں امریکا کی چانکیائی سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خطرہ لاحق یہ ہے کہ اگر ماضی کے مطلق العنان حکمران پرویز مشرف کی طرح اس بار بھی ہم نے امریکا کے آگے اپنے ہاتھ کھڑے کردئیے تو پھر امریکا ہمیں اچک لے گا واضح ہے افغانستان کے کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی بھی ان دنوں امریکا کی زبان بول رہے ہیں اور پاکستان پر دشنام طرازی کے تیئں اپنی امریکا نوازی نبھا رہے ہیں اس بارے میں دورائے نہیں کہ صہیونی قوتیں پاکستان کو اس وقت میلی آنکھ سے دیکھ رہی ہیں اور انکے داغے گئے بیانات سے اس امر کی بُو آتی ہے کہ وہ عراق کی طرح ہم پر بھی شب خون مارکر ہمارے مادی و معدنی وسائل پر قبضہ کرلیں جسکی کلیدی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسلام کا ایک قلعہ ہونے کے ساتھ ایک ایٹمی قوت بھی ہے جو اسرائیل، بھارت، امریکا اور برطانیہ کی نظروں میں بری طرح کھٹک رہی ہے یہاں ہمیں یہ تسلیم کرلیناچاہئے کہ ہم غیروں کی زمام پکڑ کر نہ صرف اپنی داخلی سلامتی کا ستیا ناس کر رہے ہیں بلکہ اپنی نظریاتی اساس میں بھی گہرے شگاف ڈال رہے ہیں واضح رہے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ملک دشمن قوتوں کے گھناﺅنے عزائم کا پتہ دیتے ہیں جن میں ہمارا پڑوسی ملک بھارت پیش پیش ہے بد قسمتی سے جسکا نام لینے میں ہم شرم محسوس کرتے ہیں کہ مبادا امریکا ہم سے خفا نہ ہوجائے زیر نظر کالم کے حوالے سے میری ارباب اختیار سے گذارش ہے کہ وہ متوقع خطرات کی پیش بندی کیلئے اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کریں جو قومی سلامتی اور ملکی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں اس سلسلے میں تمام سیاسی و دینی جماعتوں کی مشاورت اس بحران سے نکلنے میں اکسیر کا کام کرسکتی ہے چنانچہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت امریکا کی نیتوں میں فتور کو بھانپ کر اس سے بچ نکلنے کی بیل نکالے گی۔
(چودھری ایم اے شیدا....فون:6680874)