کچھ کرکے مرو!

29 جولائی 2010
اس زمیں سے پیار کرنا سیکھ لو
اس کی خاطر جینا مرنا سیکھ لو
مشکلیں آتی ہیں جو بھی راہ میں
ان سے ہنس ہنس کر گزرنا سیکھ لو
اس زمیں کا پیار ہم پر قرض ہے
اور اسے پورا چکانا فرض ہے
ہے بزرگوں سے بھی میری استدعا
اور نسل نو سے بھی یہ عرض ہے
اس زمیں نے کیا نہیں ہم کو دیا
ہم نے اس کے واسطے ہے کیا‘ کیا
زندگی میں کارنامہ کچھ تو ہو
کچھ کئے بن مر گیا تو کیا جیا
کم اگر ہے پاس‘ محنت سے بڑھاو
ہے زیادہ تو نہ تم اس کو چھپاو
کام میں لاو وہ ملک و قوم کے
تیز تر رکھو معیشت کا بہاو
زندہ قوموں کا یہی دستور ہے
ولولوں سے زندگی بھرپور ہے
ایک اسلامی فلاحی ملک میں
خود کشی پر کیوں کوئی مجبور ہے
عام ہو علم و ہنر اور روزگار
حکمراں ہوں مفلسوں کے غمگسار
سب کو‘ ملتی ہے کہاں عمر خضر
چند روز ہے بہار اقتدار