سرگودھا سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

29 جولائی 2010
ہم تو یہی دعا کر سکتے ہیں کہ سرگودھا سے صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے آزاد کاہلوں کو اللہ ہمت دے اپنی اور اپنے ووٹروں کی آزادی کو برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے کہ پڑھتے ہیں رسہ گیروں کا نیٹ ورک انہیں بھی چوری کی بھینس بکری سمجھ رہے ہیں اور اپنے اختیارات کے مفادات کی گھاس پھونس دکھانے اور لہرانے میں مصروف ہو گیا ہے کیا آزادانہ رائے رکھنے والے ووٹروں کا اتخاب گھاس کے پیچھے چلا جائے گا؟ ہم تو نہیں جانتے لیکن اگر چلا گیا تو ان کے ووٹروں کے نیٹ ورک کا کیا ردعمل ہو گا؟ ”ہم نے تمہیں رکن اسمبلی منتخب کیا اور تم نے رسہ گیروں کی گھاس پسند کر لی؟ سیاسی رسہ گیروں سے زیادہ تو تم نے ہماری توہین کی ہے۔ اور آزاد رکن اسمبلی کی حیثیت میں آزادانہ کردار ادا کرنے کی بجائے چوری کی گائے بھینس بھیڑ بکری بننا پسند کر لیا۔ ویسے تو اس خادم و حکمران رسہ گیر نیٹ ورک کے سیاسی مویشی کھانوں میں دوسروں کے چرائے ہوئے اور گھاس دکھا کر گائے بھینس بھیڑ بکری بنائے ہوئے چوری اور رسہ گیری کی زوری والے سیاسی جانوروں کی پہلے ہی وافر تعداد موجود ہے جو کھاتے ہم عوام کا ہیں وہ جن کا گند مند بھی عوام کو یعنی عوام کے خرچہ پر اٹھایا جا رہا ہے اور ان کے ”دودھ“ سے میثاقیہ.... مالکان کے بچے بچیاں بیرونی ممالک میں ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں۔ اس ایک رکن کے اس رسہ گیر نیٹ ورک کے کسی مویشیوں کے واڑے میں ”پناہ“ یاب ہو جانے سے صوبہ کے عوام کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن وہ ووٹر جنہوں نے گھاس کی بجائے ووٹ اور ضمیر کی آزادی کا ساتھ دیا تھا ان کی سوچ اور ضمیر کی آواز کا کیسے ساتھ دیں گے وہ کاہلوں جی جنہیں انہوں نے آزاد سمجھ کر آزاد رکن منتخب کیا ہے؟اس گھاس مقابلے میں جس بھی کسی پارٹی شارٹی کا اپنا ٹکٹ یافتہ یا حمایت یافتہ امیدوار ہار گیا ہے وہ عوام کے اس صاف ستھرے فیصلے کے چہرے پر رسہ گیری کی پیشہ ورانہ چپیڑ مار کر کیا پیغام دیں گے؟ یہی کہ ”تمہاری اور تمہارے ووٹ کی اور تمہاری آزادی کی حیثیت کیا ہے؟ دیکھو تو؟ یہ! یہ! یہ گھاس پھونس ہے تمہاری آزادی اور آزاد ووٹ کی قیمت؟ کہاں ہے تمہارا آزاد نمائندہ؟ تمہاری آزادی کے ساتھ کھڑا ہے یا ہمارے واڑے میں گھاس کھا رہا ہے؟ وہ تو ہیں ہی ایسے سیاسی رسہ گیر اور اخلاقی ڈبہ پیر مگر وہ با آزادی اہل رائے جنہیں گھاس کی بجائے آزادی زیادہ عزیز ہے۔ اپنی اور اپنے ملک کی۔ وہ ووٹر جنہوں نے
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
جسے زیبا کہیں آزاد ووٹر ہے وہی زیبا
کا نعرہ لگایا اور کامیاب بنایا ہے کیا ان کا آزاد نمائندہ ان کے اس معیار زیبا پر پور ا اتر سکے گا؟ دیکھیں گے کہ رسہ گیروں کا سارا ہی نیٹ ورک اس آزاد بندے کو اپنے اپنے نیٹ میں قابو کرنے کےلئے اور آزاد رکن اسمبلی کی بجائے ”چوری کا جانور ہی بنانے کی قومی خدمات میں سردھڑ گرم ہو گیا ہے۔ اس حلقہ کے عوام نے اپنی آزادی اور خود مختاری کے ذریعے کیا پیغام دیا ہے گیلانی نیٹ ورک میں شامل”اور بھی غم ہیں“ کے قائد کو اور ان کے نیٹ ورک کو این آر او شاہ کو؟ ہم انہیں یا اس گیلانی نیٹ ورک کے شاہوں گداﺅں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرگودھا کے ووٹروں کے اس آزادانہ فیصلہ سے ہی تھوڑی سی بصیرت حاصل کر لو کہ ان کے برا مان جانے سے سستی روٹی مہنگا سالن نیٹ ورک والے ہمیں بھی اس خدمت عالیہ کے کسی تندور کا بالن بنا دیں گے لیکن ان سے یہ تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ :
کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
سرگودھا سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
سرگودھا کے سورج سے ہماری مراد وہ کوئی کاہلوں نہیں ان کے ووٹروں کا وہ آزادانہ فیصلہ ہے جو اندھیر نگر کے سارے اندھیر کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے سنا دیا ہے۔ بڑا مبارک فیصلہ، جس میں کسی ناپاکی کا شبہ کرنا بھی دشوار ہے اور اگر رسہ گیر نیٹ ورک کے کسی باکمال رکن کی چالاکی سے ان کے چہروں پر بھی سیاہی کا پھوارہ مار دیا جاتا ہے تو اس سے ہواﺅں کا رخ تو تبدیل نہیں ہو جائے گا۔ ان ہواﺅں کا رخ جوبی بی بے نظیر کے ساتھ مل جل کر حکومت اور صلیبیوں کی خدمت کرنے کا این آر او کرنے والے وردی شاہ اور اس کے چودھری رسہ گیر نیٹ ورک کو اڑا کر لے گئی تھیں۔ عوام کی آزادانہ سوچ کی ہوائیں جن کا رخ بدلتا دکھتا ہے۔ سرگودھا کے ووٹروں کو ان کی آزادی مبارک لیکن ان کے انتخاب کو؟ دیکھیں گے۔ !