اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا!

29 جولائی 2010
جلا وطنی کے بعد اتنی بار نواز شریف پاکستان آئے ہیں کہ ایک مستقل استقبال کرنے والے متوالے سے آدھی رات کوائرپورٹ پر نعرے لگانے کیلئے کہا گیا تو اس نے بے ساختہ کہا کہ اچھا تو وہ پھر آ رہے ہیں۔ ا نہوں نے آتے ہی کہا کہ اب میں واپس آ گیا ہوں۔ میڈیا کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی تحقیقات کروں گا۔ یہ قرارداد میری غیر موجودگی میں آئی جو ایک غلط فیصلہ تھا۔ کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ آپ نے لندن میں پریس کانفرنس شہباز شریف کی غیر موجودگی میں کر دی کیا یہ فیصلہ غلط نہ تھا؟ کیا ایم پی اے مستی خیل نے اپنے طور پر یہ قرارداد پیش کر دی؟ اگر یہ سچ ہے تو یہ براہ راست شہباز شریف پر طنز ہے کہ اس کا کوئی کنٹرول پارٹی پر نہیں ہے۔ انہیں مسلم لیگ نواز سے نکال باہر کرنے کا ہوائی حکم دیا گیا۔ اس طرح کا حکم نافرمان ملازموں کو گھر سے نکالتے ہوئے دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی خدمت میں سوال نہیں گزارش ہے کہ مستی خیل ابھی تک مسلم لیگ نواز میں ہے۔ میڈیا والے مستی خیل کو نواز لیگ سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اس کا کوئی قصور نہیں۔ نواز شریف کو کسی نے بتایا کہ وہ نعرہ جو صرف آپ کےلئے لگتا تھا۔ پنجاب اسمبلی میں مستی خیل کےلئے لگایا گیا ”قدم بڑھاﺅ مستی خیل ہم تمہارے ساتھ ہیں“ سب سے پہلے نواز شریف کےلئے یہ نعرہ لگا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ نعرہ بھی مستی خیل کےلئے گونجتا رہا۔ ایم پی اے تو وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے۔ وزیراعظم مستی خیل یعنی دمادم مست قلندر.... وزیراعظم نواز شریف کا نعرہ مولوی ہلچل نے لگایا تھا۔ محمد ریاض نام کا یہ ورکر نواز شریف کا جانثار ہے۔ وہ گنگارام ہسپتال میں بے یارومددگار پڑا ہے۔ع۔
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
کسی ایم پی اے کی کوئی حیثیت لیڈروں کے نزدیک نہیں ہے تو بے چارے کارکن کہاں جائیں.... مولوی ہلچل جس طرح ہلچل مچاتا تھا۔ سب کو یاد ہے۔ کیا کارکن صر ف قربان ہونے کےلئے ہوتے ہیں۔ میں ایک بزرگ خاتون اماں شاہدہ کو جانتا ہوں اسے نواز شریف بھی اماں شاہدہ کہہ کر بلاتے تھے۔ کیا قیادت کو معلوم ہے کہ اماں شاہدہ کس حال میں ہے۔ کئی کئی مہینے کارکنوں کو لیڈروں کی زیارت کےلئے بھی وقت نہیں دیا جاتا۔
ایک خیال مجھے تنگ کر رہا ہے کہ جب نوازشریف سے آرمی چیف جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ مصرع کیوں پڑھا؟ ع۔
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
یہ جواب لاجواب کرنے کےلئے کافی ہے۔ غم کےلئے سمجھ آتی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو حکومت چھن جانے کا غم ہوتا ہے۔ ایک غم حکومت نہ ملنے کا بھی ہوتا ہے۔ یہ غم تو بے نظیر بھٹو کو ہونا چاہئے تھا اور تھا کہ نواز شریف کے بعد اس کی باری نہ آئی۔ یہ فرق ہوتا ہے صدر کے حکومت توڑنے اور جرنیل کے حکومت توڑنے میں۔ اب صورت یہ ہے کہ صدر زرداری نے اٹھاون ٹو بی سرنڈر کر دی ہے۔ حکومت جرنیل ہی توڑ سکتا ہے اس کے بعد اپنی باری کے منتظر لوگ دیکھتے رہ جائیں گے۔ جنرل کیانی تو جمہوریت پسند جرنیل ہیں۔ اب تک انہوں نے جو کچھ کیا ہے اور بہت کچھ کیا ہے سیاست میں آئے بغیر اور حکومت توڑے بغیر کیا ہے۔ اس کے بعد بھی ان کا یہی ارادہ ہے۔ نواز شریف کو غم یہ بھی ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن لیڈر چودھری نثار اور شہباز شریف ان کی اجازت کے بغیر جنرل کیانی سے کیوں ملے ہیں۔ اس ناراضگی کا اظہار بھی انہوں نے میڈیا کے سامنے کیا ہے۔ یہ باتیں میٹنگ میں بھی ہو سکتی ہیں۔
نواز شریف یہ مشورہ صدر زرداری کو بھی دے چکے ہیں کہ سینئر جنرل کو آرمی چیف بنایا جائے جونیئر جنرل مشرف نے آرمی چیف بن کر مجھ سے کیا سلوک کیا تھاکیا نواز شریف کو اب بھی معلوم ہے کہ جنرل مشرف کو آرمی چیف کس کے مشورے پر بنایا گیا تھا؟سینئر جنرل علی قلی خان کی باری کیوں نہ آئی؟ مگر چودھری نثار جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے آج بھی نواز شریف کے دل کے قریب ہے۔ مخدوم گیلانی کے ساتھ سینئر وزیر کے طور پر اس نے جنرل مشرف سے حلف لیا پھر اسی مخدوم گیلانی کی حکومت میں اسے اپوزیشن لیڈر بنا دیا گیا۔ جاوید ہاشمی کا ذکر کر کے میں شریف برادران کو پریشان نہیں کرنا چاہتا کہ انہیں اس غلط فیصلے کا کیا نقصان ہوا۔ جاوید ہاشمی اپوزیشن لیڈر ہوتا تو یہ کس کی عزت ہوتی مگر پھر فرینڈلی اپوزیشن تو نہ ہوتی اور یہی امریکہ چاہتا تھا۔ اب بھی نواز شریف کی نظر میں کوئی جنرل ضیاءالدین بٹ ہو گا۔ رفیق تارڑ صدر ہے اور نواز شریف وزیراعظم ہے کسی نے اب تک استعفی نہیں دیا۔ نوازشریف نے دعا کی ہے اے یااللہ! مخدوم گیلانی کو دوسری ٹرم بھی عطا کر دے۔ یہ ٹرم تو خود نواز شریف کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی ٹرم مخدوم گیلانی کی نذر کر رہے ہیں۔ جس طرح صدر جنرل ضیاءنے نواز شریف کو دعا دی تھی اور وہ قبول ہو گئی۔ اے اللہ میری عمر بھی نواز شریف کو لگا دے۔ اگر نواز شریف کی دعا بھی قبول ہو گئی تو ان کا کیا بنے گا؟ اور ہمارا کیا بنے گا؟یہ بھی نواز شریف نے کہہ دیا ہے کہ نجانے 2013ءتک کون رہتا ہے کون نہیں رہتا۔ بے شک کچھ غلط نہیں ہے مخدوم گیلانی نے کہا تھا کہ 2013 تک صدر مملکت، وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف محفوظ ہیں۔ مخدوم گیلانی کی بات بچگانہ ہے۔ حکمرانی کا بھی بچپن ہوتا ہے۔ نوازشریف کی بات بہتر ہے مگر اس میں یہ قرینہ موجود ہے کہ میں تو رہوں گا سیاستدان جرنیلوں سے ڈرتے کیوں ہیں؟ جرنیل بھی تو سیاست کرتے ہیں اور سیاستدانوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ سیاستدان کبھی تو جرنیلوں کا پیچھا کرتے ہیں اور کبھی ان کا استقبال کرتے ہیں۔ آخر میں فیض کی وہ نظم پیش خدمت ہے جس کا صرف ایک مصرع نواز شریف نے پڑھا غور کریں کہ نواز شریف کیا چاہتے ہیں اور شاعر کا مقصد کیا ہے؟
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
اب بھی دلکش ہے تیرا حسن مگر کیا کیجئے
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ