داڑھیں اور دراڑیں!

29 جولائی 2010
ہماری داڑھ میں کیڑے نے سرنگ لگانا شروع کی تو ہمیں اس دراندازی کا پتہ ہی نہ چل سکا مگر جب اس نے ”روٹ کنالنگ“ کے لئے کدال چلانا شروع کی تو ہم بلبلا اٹھے! مگر ایک ’دوست‘ کے مشورے سے ہر روز چائے کے ساتھ ’رس‘ کھانے اور سکول کے زمانے کا لطف اٹھانے لگے! ہمارے معمولات میں تبدیلی ہماری شریک حیات کے چونکانے کے لئے کافی ثابت ہوئی اور وہ چائے کے ساتھ لائی گئی ’رس بھری پلیٹ‘ اٹھا کر چل دیں۔ لوٹیں تو ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چمچی اور بیکنگ پاﺅڈر کی ڈبیا موجود تھی۔ ہمارا منہ کھولا گیا متاثرہ داڑھ تلاش کی گئی اور اس میں ذرا سا ’بیکنگ پاﺅڈر‘ بھر دیا گیا! ”بیکنگ پاﺅڈر“ ذرا سی دیر میں ”بیکنگ سلوشن“ بن گیا اور تہ نشیں کیڑا ہڑبڑا کر باہر آ گیا اور چیخ کر بولا ”بی بی! کیہ ہویا؟ رس مک گئے نیں!‘
’پاک۔ افغان ٹریڈ ٹرانزٹ ایگریمنٹ‘ کا ’مسودہ برائے توثیق‘ تیار ہوتے ہی اس علاقے کی ’داڑھ کا کیڑا‘ ہڑبڑا کر باہر آ گیا ہے! ہماری جگہ سیدھا رچرڈ ہالبروک کے کان میں جا گھسا اور چلایا ’کیہ ہویا؟ رس مک گئے نیں؟‘
جناب رچرڈ ہال بروک نے اپنے کان جھاڑے تو سیدھا ان کے چرنوں میں آن رہا اور جناب ہال بروک کو کہنا پڑ گیا ’پاکستان افغان ٹریڈ ٹرانزٹ معاہدے میں بھارتی مفادات کا خیال رکھا جانا چاہئے!‘ ”دی لیک“ نے 92 ہزار دستاویزات مشتہر کیں تو دنیا ورطہ حیرت میں پڑ گئی کہ یہ کس کا کام ہے؟ حالانکہ یہ کام ’بھارتی لابی‘ کے سوا کون کر سکتا تھا! پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی دراڑ کون ڈال سکتا تھا؟ اور یوں ان سوالات کے صحیح ترین جوابات کے ذریعے اس اشتہار بازی کے پیچھے کارفرما ’بھارتی ہاتھ‘ سب کے سامنے آ گیا! میاں افتخار حسین کے صاحبزادے کا قتل اور تدفین کے بعد تعزیتی رسوم کے لئے جمع ہونے والے سوگواروں کی موت کا سامان لئے ’بارودی ٹرک‘ کی نشاندہی اور ’خودکش دھماکا‘ بھارتی دباﺅ کا ایک واضح ثبوت ہے مگر کسی کی سمجھ میں کچھ آئے تو کچھ کہا بھی جائے!
’بھارت‘ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ان لوگوں کو بھی قربان کر سکتا ہے جنہیں وہ بظاہر بہت عزیز رکھتا دیکھا جا سکتا ہے! یہ بات ہمارے تمام دوستوں اور دشمنوں پر کھل جانا چاہئے کہ ’بھارت‘ اول اور آخر ’بھارت‘ ہے! ان سے انہی کی زبان میں بات کی جائے تو یہ سمجھ سکتے ہیں اور سمجھ بھی لیتے ہیں!
گذشتہ دنوں ’ایک اور ممبئی اٹیک‘ کی خبریں گھمائی گئیں تو ہم جان گئے کہ اب بھارت پاکستان میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ باندھ چکا ہے اور ہم نے دیکھ لیا کہ وہ کیا کچھ کر سکتا ہے! یہ ہے ’امن کی آشا‘ جسے ’چور شاعروں‘ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے!