پاکستان افغانستان تجارتی راہداری

29 جولائی 2010
تحریر: مخدوم امین فہیم وفاقی وزیر تجارت
وزیر تجارت افغانستان ڈاکٹر انوار الحق الاحدی16جولائی کو پاکستان افغانستان مشترکہ ورکنگ گروپ کی ساتویں میٹنگ کے لئے پاکستان آئے۔ ان کی آمد کا مقصد پاکستان افغانستان کی دوطرفہ تجارتی راہداری کے معاہدے کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔ جس پر دونوں ممالک2008ءسے گفت و شنید کر رہے تھے۔ اس میٹنگ کے چیدہ چیدہ نکات پر مبنی ایک دستاویز پر 18 جولائی کو وزیراعظم سیکرٹیریٹ میں دستخط کئے گئے۔ یہ دستاویز اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔ ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ بیرونی دباﺅ میں آکر پاکستان کے مفادات پر سودا کیا گیا ہے۔ عوام اس قسم کی خبروں سے پریشان ہیں۔ وزارت تجارت اس قسم کے خدشات پر جوکہ صحیح نہیں ہیں ایک وضاحتی بیان دے چکی ہے۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک تفصیلی وضاحتی بیان اخبارات کے ذریعہ عوام تک پہنچا دوں تاکہ وہ خدشات جو کہ غلط فہمی پر مبنی ہیں دور ہوسکیں۔ سب سے پہلے تو میں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ افغان پاکستان تجارتی راہداری کے معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے ہیں۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں جو تقریب منعقد ہوئی تھی اس میں ان نکات کے متن پر دستخط کئے گئے تھے۔ جن میں دونوں حکومتوں کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا ہے۔
میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ یہ ایک معمول کی بات ہے کہ تمام تجارتی گفت و شنید کی میٹنگز کے بعد ریکارڈ نوٹس پر دستخط کئے جاتے ہیں جو کہ ایک مستقل معاہدہ کی تیار ی کے لئے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اب میں معاہدے کی تکنیکی تفصیلات میں جانے سے پہلے مختصراً تاریخی پس منظر بتانا چاہوں گا۔ فروری 2006 میں اس وقت کے وزیراعظم نے نیشنل ٹریڈ کو ریڈور کی چوتھی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ افغان تجارتی راہداری کے معاہدے پر افغانستان سے گفت و شنید شروع کی جائے ۔یہ محسوس کیا گیا تھا کہ افغان تجارتی راہداری کا معاہدہ جو کہ 2 مارچ 1965 ءمیں طے پایا تھا فرسودہ اور درج ذیل وجوہات کی بنا پر پاکستانی مفادات کے لئے ناموزوں ہوگیا ہے۔اس معاہدے میں وسطی ایشیاءکی ریاستوں تک پاکستان کی تجارت کے بارے میں سہولیات میسر نہیں ہیں۔افغانستان کا تجارتی سامان صرف پاکستان ریلوے کے ذریعے جاسکتا تھا جب کہ زیادہ تر سامان بذریعہ سڑک (National Logistic Cell) کے ٹرکوں میں جا رہا تھا۔افغانستان کے لئے تجارتی سامان کی ترسیل صرف کراچی بندرگاہ کے ذریعے ہوسکتی تھی جب کہ اس وقت پورٹ قاسم کی بندرگاہ بھی استعمال ہو رہی ہے اور گوادر کی بندرگاہ بھی عنقریب استعما ل ہوسکے گی۔محصولات کے قوانین و ضوابط جوکہ 1965ءکے معاہدے کے وقت طے پائے تھے فرسودہ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سمگلنگ کے لئے مواقع بڑھ گئے ہیں۔1965ءمیں بہت کم سامان کنٹینرز کے ذریعے بھیجا جاتا تھا۔ جب سے اب تک تجارتی سامان کی ترسیل اور معلومات ذرائع میں بیش بہا ترقی ہوئی ہے۔ ا سلئے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ موجودہ تجارتی معاہدے کی تجدید کی جائے۔نومبر 2008ءمیں افغانستان نے تجارتی راہداری کا ایک معاہدہ تیار کرکے پاکستان کو غورو خوض کے لئے بھجوایا۔ وزارت تجارت نے مارچ 2009ءمیں کابینہ کی منظوری کے بعد افغانستان سے معاہدہ پر گفت و شنید شروع کی۔ افغان پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کی پہلی میٹنگ 14 مئی کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تمام متعلقہ وزارتوں (مواصلات داخلہ خارجہ ریلوے صنعت جہاز رانی اور ایف بی آر) کو پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔صدر پاکستان کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے وزراءخارجہ نے واشنگٹن ڈی سی میں 6 مئی2009ءکو افغان تجارتی راہداری پر ایک وضاحتی یادداشت (MOU) پر دستخط کئے۔ جس کے مطابق راہداری کا یہ معاہدہ 2009ءکے اواخر تک طے پانا تھا۔
1965ءکے معاہدے کے مطابق بھارتی سامان کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان جاتا ہے۔ نئے معاہدے میں ہم یہ سہولت برقرار رکھیں گے۔ کئی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے یہ خبریں دیں کہ ہم نے افغانستان کو بھارتی درآمدات بذریعہ واہگہ اجازت دے دی ہے۔ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ افغانستان کی جانب سے یہ مسلسل درخواست کی گئی تھی کہ بھارتی سامان واہگہ کے ذریعہ لانے کی اجازت دی جائے۔ ہم نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ معاملہ ہے جوکہ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ممبئی کے واقعہ کی وجہ سے معطل ہوگیا۔ افغانستان پہلے سے ہی بھارت کو نہ صرف کراچی بلکہ واہگہ کے ذریعے اپنا سامان برآمد کر رہا ہے۔ واہگہ کا زمینی راستہ 1980ءسے استعمال ہورہا ہے۔ نئے معاہدے کے تحت ہم نے یہ پالیسی جاری رکھی ہے۔ اس وقت افغانستان کا سامان پاکستان میں چمن اور طورخم کے راستے داخل ہوتا ہے اور پاکستانی ٹرکوں پر لاد کر واہگہ تک جاتا ہے۔ نئے معاہدے میں ہم نے اس بات کی اجات دے دی ہے کہ افغان ٹرک اب واہگہ تک جاسکیں گے۔ جہاں یہ سامان پاکستانی سرحد کے اندر اتاریں گے۔ جہاں سے یہ سامان معقول نگرانی میں بھارتی ٹرک پر لادا جائے گا۔یہ سہولت برابری کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ اب پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے پاکستانی برآمدات وسط ایشیاءتک جاسکیں گی۔ افغانی ٹرکوں کو کراچی اور واہگہ تک رسائی سے افغانستان کی برآمدات میں سہولت ہوگی کیونکہ اب وہ وقت کم ہوجائے گا جو کہ ٹرکوں سے مال اتارنے اور دوبارہ چڑھانے پر صرف ہوتا تھا۔ہم نے پرمٹ اور ویزہ کے حصول کے لئے بائیو میٹرک نظام وضع کیا ہے جو گاڑیوں کے ڈرائیور اور عملے کے آنے جانے کی نگرانی کرے گا۔
حکومتی نمائندوں کے علاوہ ہم نے نجی شعبے سے بھی نمائندے اپنے مذاکراتی ٹیم میں شامل کئے تھے۔ ہم نے اسلام آباد اور کابل میں سات گفت و شنید کے ادوار کئے۔ نجی شعبے کی نمائندگی مندرجہ ذیل لوگوں نے کی۔غلام فاروق صدر کوئٹہ چیمبر،زبیر موتی والا سابق صدر کے سی سی آئی،انجینئر دارو خان نائب صدر ایف پی سی سی آئی بلوچستان،غلام سرور خان سابق صدر سرحد چیمبر،حاجی فتح خان صدر ایف آئی ٹی سی کوئٹہ،سمیرا ایس عامر ڈائریکٹر ریسرچ پی بی سی کراچی، بشارت احمد یونی لیور پاکستان، سرفراز زاہد جنرل ٹائر کراچی ،جمیل اقبال حبیب بنک کراچی۔
مجھے یقین ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے بہترین مفاد میں ہوگا جس میں ہماری مذاکراتی ٹیم نے قومی مفادات کا پوری طرح دفاع کیا ہے۔ جو سہولیات افغانستان کو اس معاہدے کی رو سے دی جائیں گی وہ سہولیات ہمارے برآمد کنندگان کو وسط ایشیاءکے لئے افغانستان کے راستے میسر ہونگی۔ مجھے امید ہے کہ نیا معاہدہ علاقے میں امن و استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔