پاکستانی تاریخ کا دوسرا بڑا حادثہ‘ 19 واقعات میں 637 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

29 جولائی 2010
لاہور+ اسلام آباد (خبر نگار + وقائع نگار خصوصی + نیوز ڈیسک + ایجنسیاں) اسلام آباد میں نجی ائرلائن ائر بلیو کے طیارے کی تباہی میں 152 افراد کی جانوں کا ضیاع 1992ء کے بعد پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا اور مجموعی طور پر انیسواں فضائی حادثہ ہے۔ 1992ء میں پی آئی اے کا طیارہ نیپال میں گرکر تباہ ہونے سے 167 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، پاکستان کے فضائی حادثوں میں اب تک 637 مسافر جاںبحق ہو چکے ہیں۔ نجی ائر لائن کا پاکستان کی سرزمین پر حادثے کا شکار ہونے والا یہ پہلا طیارہ ہے جس میں 152 افراد لقمہ اجل بنے۔ ایک رپورٹ کے مطابق رائٹ برادران کے بنائے پہلے ہوائی جہاز کی اڑان کے 107 برس بعد ہونے والے ہوائی جہازوں کے 460 زائد حادثات میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، دنیا کے سب سے خوفناک فضائی حادثہ جاپان میں 12 اگست 1985ء کو ہوا جس میں 520 افراد زندہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ بعض حادثات میں جہازوں کے مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا المناک حادثہ 28 ستمبر 1992ء کو نیپال میں پی آئی اے کے طیارے اے300 کو کھٹمنڈو ائرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران پیش آیا جس میں عملے کے ارکان سمیت تمام 167 افراد جاںبحق ہو گئے تھے۔ فضائی حادثات کا آغاز فرانس میں 2 طیارے ٹکرانے سے ہوا جب دونوں چھوٹے طیاروں میں سوار 7 افراد ہلاک ہو گئے۔ 1930ء میں دوسرا حادثہ بھی فرانس میں پیرس کے قریب ہوا جس میں 48 افراد مارے گئے۔ 1931ء میں دو فضائی حادثوں میں 16 افراد جاںبحق ہوئے۔ فضائی حادثات کے حوالے سے برا ترین سال 2007ء رہا جس میں مجموعی طور پر 25، جب کہ 2004ء میں 23 حادثے ہوئے۔ 3 جولائی 1988ء کو امریکہ نے ایران ائر کا اے 300 طیارہ میزائل سے مار گرایا جس سے 274 افراد جاںبحق ہو گئے تھے۔ 26 ستمبر 1997ء کو انڈونیشیا کا طیارہ پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے سے تمام سوار 222 افراد ، 16 فروری 1998ء کو چین کا طیارہ تائیوان میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہونے سے 182 مسافر اور زمین پر موجود 7 افراد ، 2001ء میں امریکی کمپنی کا طیارہ نیویارک کے قریبی رہائشی علاقے پر گرنے سے تمام 251مسافر اور 14 عملے کے ارکان، 23 اگست 2000ء کو گلف ائر کا طیارہ بحرین کے قریب ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی تیسری کوشش میں بھی کامیاب نہ ہونے پر تباہ ہو گیا جس سے 135 مسافر جاںبحق ہوئے تھے۔ رواں برس فضائی حادثات کی تعداد 11 ہو گئی۔ پاکستان کا پہلا بوئنگ 720 قاہرہ جاتے ہوئے ریگستان میں گر کر تباہ ہونے سے 125 افراد میں سے 119 جاںبحق ہو گئے تھے۔ 8 دسمبر 1972ء کو راولپنڈی میں بارش کے دوران پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہونے والے جہاز میں تمام سوار 26 افراد ، 26 نومبر 1979ء کو پی آئی اے کا حاجیوں کو لے کر آنے والا طیارہ پرواز سے چند منٹ بعد ہی جدہ میں کریش ہو گیا اور سوار تمام 156 افراد جاںبحق ہو گئے۔ 17 اگست 1988ء کو پاک فوج کا ہرکولیس سی 130 بہاولپور سے اڑنے کے تھوڑی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجہ میں اس وقت کے صدر جنرل ضیاالحق، جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اختر عبدالرحمان سمیت 29 افسران جاںبحق ہو گئے تھے اس حادثہ میں امریکی سفیر اور بریگیڈئر جنرل والٹم بھی مارے گئے تھے۔ 25 اگست 1989ء کو گلگت کی پہاڑیوں میں لاپتہ ہونے والے فوکر کے حادثے میں 54 افراد ، پشاور میں 23 اکتوبر 1986ء کو فوکر جہاز رن وے پر حادثے کا شکار ہوا اور سوار 54 میں سے 13 افراد ، 19 فروری 2003ء میں فوکر طیارہ کوہاٹ کے قریب تباہ ہوا جس میں چیف آف ائر سٹاف مصحف علی میر ان کی اہلیہ بلقیس میر سمیت جہاز میں سوار تمام 17 افراد ، 24 فروری 2003 میں ایک چارٹرڈ سیسنا طیارہ کراچی کے قریب بحرہ عرب میں گر گیا۔ جس میں افغان وزیر جمعہ محمد محمدی 4 افغان افسران، چین کے ایک مائنز ایکسپرٹ اور عملے کے دو پاکستانی جاںبحق ہو گئے تھے۔ جولائی 2006ء میں ایک اور فکر جہاز ملتان ائر پورٹ سے پرواز کے بعد گر کر تباہ ہو گیا اور تمام مسافر جہاز میں لگنے والی آگ میں جھلس کر جاںبحق ہوئے۔ اس حادثے میں جسٹس نواز بھٹی، جسٹس نذیر احمد قریشی، بریگیڈئر فرحت صابر، بریگیڈئر آفتاب احمد سمیت جہاز میں سوار تمام 45 افراد جاںبحق ہو گئے۔ ملتان حادثہ کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن نے فوکر طیاروں کا استعمال ترک کر دیا۔