وکی لیکسن رپورٹ میں تضحیک ناقابل برداشت ہے : پاکستان

29 جولائی 2010
اسلام آباد / کابل / واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں) سےکرٹری خارجہ سلمان بشےر نے کہا ہے کہ پاکستان کو سکیورٹی فورسز اور خفےہ اداروں کے کردار کے بارے میں کسی سے سرٹےفکےٹ لےنے کی ضرورت نہےں، پاکستان مےں القاعدہ کی قےادت کی موجودگی کا الزام لگانے والے افغانستان مےں اتحادی افواج کی شکست کا ذمہ دار ہمےں ٹھہرانا چاہتے ہےں، بدھ کو پارلےمنٹ ہاوس میں مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بشےر نے کہا کہ پاکستانی عوام‘ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف وکی لےکس کا پروپےگنڈا بےمار ذہنےت کا عکاس اور بدنےتی پر مبنی ہے، ےہ ہمارے لئے ناقابل برداشت تضحےک کے مترادف ہے، امرےکی انتظامےہ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کردےا ہے۔ سےکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ملک ہے جس نے ہمےشہ عالمی قوانےن اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی ہے،انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہماری قربانےاں کسی سے چھپی نہےں ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ادھر افغان صدر کے مشیر قومی سلامتی امور رنگین دادفر سپانٹا نے خفیہ دستاویزات افشاہونے کے بعد مغربی طاقتوںسے پاکستان کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے پہلے ہی ان خدشات کا اظہار کیا تھا جو خفیہ رپورٹس میں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ جس ملک کو امریکہ کئی ارب ڈالر امداد دے اس کی فوجیںدہشت گردوں کو تربیت فراہم کریں۔ ایک بیان میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے استحکام کیلئے ”نامزد ”دہشت گرد گروپوں“ کیخلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے ہرزہ سرائی کی کہ وکی لیکس کی رپورٹ میں منکشف ہونے والا آئی ایس آئی کا کردار قابل مذمت ہے۔ ادھر وکی لیکس ویب سائٹ نے کہا ہے کہ اس تنظیم کی ابتدا سرگرم کارکنوں کے درمیان مکالمے کی شکل میں ہوئی جو انسانی مصائب کم کرنا چاہتے تھے۔ ہماری تنظیم بااصول طریقے سے معلومات کو افشا کرتی ہے۔ 2007ء سے اب تک وکی لیکس نے ہزاروں دستاویزات انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہیں۔ اس کا مقصد معلومات کو عوامی دسترس میں لانا ہے۔ ویب سائٹ کے بانی جولیان اسانگے کے مطابق وکی لیکس غیر تجارتی ویب سائٹ ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ افغان جنگ پر دستاویزات 7 ماہ پرانی ہیں۔ ان میں ایسی کوئی چیز نہیں جن سے نیٹو افواج کو نقصان پہنچے۔ تاہم انٹیلی جنس کے سابق امریکی تجزیہ کار باب آئزر کے مطابق وکی لیکس سے کسی خیر کی توقع نہیں۔ 7 ماہ میں فوجی گشت کا طریقہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ اب طالبان پٹرولنگ فورمز پر حملے کی موثر منصوبہ بندی کر سکیں گے۔ امریکی حکومت کو غیر قانونی طور پر معلومات افشا کرنے پر وکی لیکس کیخلاف کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...