پاکستان دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی کرے : ڈیوڈ کیمرون

29 جولائی 2010
بنگلور (رائٹرز + اے ایف پی + جی این آئی + آئی اےن پی) برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے والے گروپوں کے خلاف کارروائی کرے‘ کسی کو یہ اجازت نہ دے کہ وہ دوسرے ممالک میں دہشت گردوں کو بھیجے۔ بھارت کے دورے کے دوران بنگلور میں تاجروں سے خطاب اور بی بی سی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے حوالے سے امریکی صدر بارک اوباما سے بات کی ہے اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی اس بات پر تبادلہ خیال ہو گا۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی ملک دہشت گردی کے حوالے سے دوہرا رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا ہمارا موقف بہت صاف اور واضح ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی قوتوں کے ساتھ روابط مناسب نہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور دیگر جمہوری قوتوں کا نکتہ نظر اس معاملے پر ایک ہے۔ ایک سوال کہ کیا پاکستان دہشت گرد دیگر ممالک میں بھیج رہا ہے کے جواب میں برطانوی وزیراعظم نے کہا میں احتیاط کے ساتھ الفاظ ادا کرتا ہوں‘ میرا موقف ہے یہ ناقابل برداشت ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والے عناصر کو چھوٹ دی جائے۔ ایک اورسوال کہ کیا پاکستانی انٹیلی جنس میں ایسے عناصر ہیں جو دہشت گری کی حمایت کرتے ہیں کے جواب میں برطانوی وزیراعظم نے کہا حقیقت میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بڑی پیشرفت کی ہے۔ انہوں نے کہا نومبر 2008ءمیں دہشت گردوں نے ممبئی میں حملے کئے اور ہم ابھی تک اس موقف پر قائم ہیں کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجاناچاہیے۔ہم چاہتے ہیں کہ طالبان،حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو برطانیہ، بھارت یا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا ہم افغانستان میں امن کا قیام چاہتے ہیں۔ دوسری جانب 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ برطانوی وزیراعظم نے پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کا سپانسر ہے درحقیقت برطانوی وزیراعظم نے کہا پاکستان کی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ برطانوی وزیراعظم کی موجودگی میں ہونے والے معاہدوں کے مطابق برطانیہ سول نیوکلیئر کمپنیوں کو بھارت سے تجارت کے لئے لائسنس جاری کرے گا جبکہ برطانیہ بھارت کو 57 ہاک طیارے بھی فراہم کرے گا۔ معاہدے کے مطابق یہ جدید طیارے بھارت ہی میں تیار کئے جائیں گے اور اس کے لئے برطانوی فرم تکنیکی اور دوسری امداد فراہم کرے گی۔ بھارت کے ساتھ ہون والے معاہدوں کی مالیت 1.1 بلین ڈالر ہے۔