وکی لیکس پر رپورٹ اوباما انتظامیہ نے جاری کرائی : حمیدگل

29 جولائی 2010
لاہور (خبرنگار) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمیدگل نے کہا ہے کہ امریکی سنیٹرز کی آتش بیانی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان میں امریکی فوج کی سپلائی لائن پاکستان سے گزر کر جاتی ہے۔ امریکہ بھارت کا دوست ہے۔ ہمارے ساتھ تو سٹرٹیجک پوزیشن کے باعث بہ امر مجبوری تعلقات نبھا رہا ہے۔ گذشتہ روز نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے حمیدگل نے کہا کہ ہمارے حکمران امریکہ کی خدمت گزاری میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں۔ پہلے مشرف اور اب زرداری امریکی اطاعت گزاری میں انتہا تک پہنچے ہیں حتیٰ کہ نواز شریف بھی بات نہیں کرتے۔ پاکستان میں دائیں بازو والے ہوں یا بائیں بازو والے کوئی بھی امریکہ کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے حکمرانوں نے امریکہ کو ملٹری سپلائی کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ افغانستان کیلئے امریکہ کو راستہ دینے سے ان کے ہاں عدم استحکام آئے گا۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے حمیدگل نے انکشاف کیا کہ امریکہ کے کہنے پر حامد کرزئی نے افغان انٹیلی جنس سے پاکستان مخالف عناصر کو باہر نکال دیا ہے۔ نجیب اللہ کی حکومت ختم کرانے کا ذمہ دار مجھے ٹھہرانا بھارت اور افغانستان کی کارستانی ہے۔ وکی لیکس پر رپورٹس اوباما انتظامیہ نے خود لیک کرائی ہیں۔ ان رپورٹس میں آئی ایس آئی کو طالبان کا حامی قرار دینا جنرل کیانی پر امریکی دباو ڈالنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1985ءکے بعد میں کبھی وانا نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو عملاً افغانستان میں شکست ہو چکی ہے اب وہ جس طرح کے مرضی حربے استعمال کریں، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں لینی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا سٹرٹیجک کمپیکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 88ءمیں بھارت نے کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روسی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر افغانستان کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود پھنسا ہوا ہے۔ منموہن سنگھ سعودی عرب سے التجا کرتے ہیں کہ ہماری طالبان سے بات کرائی جائے۔